بیت المقدس: جھڑپوں میں زخمی 50 فلسطینی ہسپتال منتقل

بیت المقدس میں سوموار کو ہونے والی جھڑپوں میں مزید درجنوں فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ 'پرامن اجتماع کا احترام کرتے ہوئے اس حوالے سے بھرپور تحمل کا مظاہرہ کرے۔'

مسجد الاقصی کے انتظامات کے ذمہ دار ادارے وقف کے ترجمان فراس دیبز کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد زخمی ہو چکے ہیں (اے ایف پی)

فلسطینی طبی عملے کے مطابق بیت المقدس میں سوموار کو ہونے والی جھڑپوں میں زخمی ہونے والے مزید پچاس فلسطینیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں امداد مہیا کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی پولیس کی جانب سے مسجد الاقصی کے قریب موجود فلسطینیوں کے خلاف آنسو گیس اور سٹن گرینیڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے جواب میں اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے پولیس پر پتھر اور کرسیاں پھینکی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں اسرائیلی پولیس کو مسجد الاقصی کے اندر آنسو گیس کے شیلز اور سٹن گرینیڈز پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مسجد الاقصی کے انتظامات کے ذمہ دار ادارے وقف کے ترجمان فراس دیبز کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ فلسطینی ہلال احمر کے مطابق تین زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

مشرقی بیت المقدس میں کشیدگی پر اقوام متحدہ کا ردعمل

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ میں جھڑپوں کے بعد اسرائیل پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو 'پر امن اجتماع کے حق کا احترام کرتے ہوئے اس حوالے سے بھرپور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔'

اقوام متحدہ کے ترجمان کی جانب سے سیکرٹری جنرل کا یہ بیان مشرقی بیت المقدس میں کشیدگی کے بعد اتوار کو جاری کیا گیا ہے۔

ترجمان سٹیفین ڈوجارک کا کہنا تھا کہ 'سیکرٹری جنرل کو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں بڑھتے ہوئے تشدد اور فلسطینی خاندانوں کی اپنے گھروں سے بے دخلی پر تشویش ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر منہدمی اور بے دخلی کو روکنے کے لیے زور دیا ہے۔'

بیان کے مطابق گوتریس نے مقدس مقامات کی حیثیت کو بحال رکھنے اور ان کا احترام کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

سوموار کو سالانہ 'یروشلم ڈے' پر مزید کشیدگی کے امکانات ہیں۔ اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے قریب فلسطینی علاقے سے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کے باوجود اتوار کو اس پریڈ کی اجازت دے دی ہے۔ 

اس حوالے سے اتوار کو ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل 'انتہا پسندوں کو بیت المقدس کے امن کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ہم فیصلہ کن طور پر اور ذمہ داری سے قانون پر عمل کریں گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم تمام مذاہب کے لیے عبادت کی آزادی کو جاری رکھیں گے لیکن پر تشدد واقعات کی اجازت نہیں دیں گے۔'

انہوں نے بیت المقدس میں تعمیرات نہ کرنے کے حوالے سے ڈالے جانے والے دباؤ کو بھی مسترد کر دیا۔

امریکہ نے بھی بیت المقدس میں درپیش صورت حال پر ایک بار پھر 'شدید تشویش' کا اظہار کیا ہے، جس میں فلسطینی عبادت گزاروں اور یہودیوں کے درمیان جھڑپوں جبکہ فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی شامل ہے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن کے مطابق امریکہ کے قومی سلامی کے مشیر جیک سلیوان اور ان کے اسرائیل ہم منصب کے درمیان ہونے والی ٹیلی فون گفتگو میں بھی امریکی عہدیدار نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے 'یروشلم ڈے' پر حالات کو پر امن رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ 

'یروشلم ڈے' اسرائیل کی جانب سے سال 1967 کی جنگ کے دوران مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن سخت گیر اسرائیلی، پولیس کی سکیورٹی میں قدیم باب الدمشق سے ہوتے ہوئے پرانے شہر کے بیچوں بیچ اور مسلمانوں کے رہائشی علاقوں سے گزر کر مغربی دیوار تک جاتے ہیں جہاں یہودوں کا مقدس ترین مقام ہے۔

رواں سال یہ دن مسلمانوں کے لیے مقدس مہینے رمضان میں منایا جا رہا ہے جب کئی ہفتوں سے کشیدگی جاری ہے۔ اس علاوہ شیخ جراح کے علاقے سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر سامنے آنے والی صورت حال بھی حالات کو مزید کشیدگی کی جانب لے جا سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل کے سابق اعلیٰ دفاعی عہدیدار اموس گیلاڈ کا آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ رواں سال اس پریڈ کو معطل کر دینا چاہیے تھا یا کم سے کم اسے باب دمشق سے دور رکھنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق یہ 'بارود بھڑک چکا ہے اور کسی وقت بھی دھماکے سے پھٹ سکتا ہے۔'

دوسری جانب اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کا کہنا ہے کہ پریڈ کے لیے طے شدہ راستے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔

حالیہ دنوں میں مسجد اقصیٰ کے قریب ہونی والی جھڑپوں کے دوران درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ ماضی میں بھی اس علاقے میں پر تشدد واقعات ہو چکے ہیں۔ 

حماس رہنما صالح عروری کا کہنا ہے کہ 'قابض قوتیں آگ سے کھیل رہی ہیں اور بیت المقدس کی حیثیت کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔'

فلسطینی طبی عملے کے مطابق اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں 14 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی پولیس کے مطابق حالیہ دنوں میں 20 پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔ 

اتوار کو مسلح فلسطینی جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر چار راکٹ بھی فائر کیے ہیں جبکہ سوموار کو اسرائیلی ٹینکوں اور آرٹلری نے غزہ میں موجود حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ حماس کے ایک ٹھکانے پر فضائی حملہ بھی کیا گیا ہے۔ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا