اسلامی آرٹ کے سنہری دور کو محفوظ بنانے والی سعودی لائبریری

1988 میں قائم ہونے والی شاہ عبدالعزیز لائبریری اسلامی تاریخ کے نایاب چھوٹے فن پاروں اور قلمی نسخوں کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

مسلمانوں کی پوری تاریخ منی ایچرز (چھوٹی تصویروں، فن پاروں) اور قلمی نسخوں کی بھرپور ترویج و حوصلہ افزائی کرتی نظر آتی ہے۔

عرب دنیا میں چھوٹے فن پارے کا مطلب کاغذ (وصلی) پر بنائی گئی چھوٹی سی تصویر ہے، جس کے ذریعے عرب فن کاروں کے کام کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ تصاویر قابل قدر فن پاروں کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور اب اسلام کے سنہری دور کے بارے میں داستان سناتی دکھائی دیتی ہیں۔

انہی تصویروں کی روایت سے گاہے بگاہے محققین نے عرب اور خاص طور پر اسلامی تہذیب کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد لی ہے۔

یہ چھوٹی سی لیکن پیچیدہ تصاویر وہ داستانیں بیان کرتی ہیں جنہوں نے عوام الناس میں بہت مقبولیت حاصل کی۔

مختلف ادوار میں زندگی گزارنے والے لوگوں کے رہن سہن کی بارے میں کئی باریک تفصیلات ان تصاویر میں ملتی ہیں۔

 

اسلامی سکالرز نے ان فن پاروں کو چار اقسام میں تقسیم کیا ہے، جن میں عرب، انڈین، عثمانی اور فارسی فن پارے شامل ہیں۔

عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق 1988 میں قائم ہونے والی شاہ عبدالعزیز لائبریری نے اپنے قیام کے بعد سے چھوٹے فن پاروں اور قلمی نسخوں کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے تاکہ عرب اور اسلامی ورثے کو بچایا جا سکے اور محققین کو اس تک رسائی حاصل ہو۔

لائبریری کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بندر المبارک کہتے ہیں کہ لائبریری میں تقریباً آٹھ ہزار اصلی قلمی نسخے موجود ہیں جنہیں ڈیجیٹل شکل دے گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لائبریری نے زیادہ قلمی نسخے(وہ کتابیں جو پرنٹنگ پریس کی عدم موجودگی کے باعث قدیم زمانے میں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں) اور تصاویر اپنے وسائل سے خریدیں۔

یہ عطیہ نہیں تھا۔ قلمی نسخوں کی خریداری کے لیے مخصوص شرائط موجود ہیں۔ نایاب، قدیم اور فن کا بہترین نمونہ ہونا ان کی امتیازی خصوصیات میں شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منی ایچرز، قلمی نسخوں اور کتابوں کو بہت احتیاط سے کیمیائی عمل کے ذریعے جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

انہیں مخصوص کمرے میں رکھا گیا جہاں ٹھنڈک اور تاریکی ہے تاکہ کیڑے مکوڑوں اور بیکٹیریا کو روکا جا سکے۔

کیڑے مکوڑے، بیکٹیریا اور کئی دیگر جراثیم کاغذ حتیٰ کہ جانورں کی کھال کوبھی نقصان پہنچا سکتے ہیں جنہیں بعض قلمی نسخوں میں استعمال کیاگیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن