غزہ پر اسرائیلی بمباری: امریکہ نے سلامتی کونسل کا اہم اجلاس رکوا دیا

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے جمعے کو ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کو روک دیا ہے۔

غزہ پر بمباری کے بعد اسرائیلی فوج سرحد پر جمع ہونا شروع ہو گئی ہے (اے ایف پی)

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے جمعے کو ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کو روک دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں چینی وفد کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’کل سلامتی کونسل کا کوئی اجلاس نہیں ہوگا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک سفارتکار نے کہا ہے کہ ’امریکہ کل (جمعے) کو ہونے والی ویڈیو کانفرنس پر رضامند نہیں تھا۔‘

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری فضائی حملوں کے دوران اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 83 ہو گئی ہے۔

سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے حوالے سے ایک اور سفارتکار نے کہا کہ امریکہ اس اجلاس کو منگل کو بلانا چاہتا ہے جس سے اس اجلاس کی نوعیت فوری اور اہم نہیں رہے گی۔

واضح رہے کہ اس قسم کی ویڈیو کانفرنس کے لیے کونسل کے تمام 15 ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری اس بحران کے حوالے سے امریکہ اپنے ایک بیان میں کہہ چکا ہے کہ اسرائیل کو حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کے خلاف دفاع کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ تاہم اس نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کا بھی کہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے فصائی حملوں کے بعد غزہ کی سرحد قریب اپنی زمینی فوج کو جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے جمعرات کو غزہ کی سرحد کے ساتھ زمینی فوج جمع کرنا شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر راکٹوں کی برسات جاری رکھی ہوئی ہے جس کے بعد عالمی برادری نے فریقین پر برسوں بعد شروع ہونے والی پرتشدد کارروائیاں بند کرنے پر زور دیا ہے۔

غزہ جہاں حماس کی حکومت ہے کی وزارت صحت نے جمعرات کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 17 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 487 افراد اسرائیلی جارحیت کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔

 

اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے پیر کی شام سے غزہ پر چھ سو سے زیادہ بار فضائی حملے کی ہے جبکہ حماس نے اسرائیل کی طرف 16 سو زیادہ راکٹ فائر کیے ہیں۔

 پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اسرائیل کی پرتشدد کارروائیوں کے بعد فلسطین کے صدر محمود عباس سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فلسطینی صدر کو فلسطینیوں کی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر عمران خان نے مسجد الاقصیٰ میں موجود نمازیوں پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ فلسطینی محاذ سے داغا گیا ایک راکٹ یہودی ریاست کے تجارتی مرکز تل ابیب کے قریب واقع ایک عمارت سے ٹکرا گیا جس میں پانچ اسرائیلی زخمی ہوگئے۔

حماس کے راکٹ حملوں کے بعد جنوبی اسرائیل کے تمام شہروں میں سائرن بجائے گئے جس کے بعد ہزاروں افراد پناہ گاہوں کی جانب بھاگتے دکھائی دیے۔

جمعرات کو ہی ایک اور فضائی حملے میں اسرائیل نے غزہ شہر کے قلب میں واقع چھ منزلہ رہائشی عمارت تباہ کردی۔ طبی حکام نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرق میں اسرائیلی میزائل حملے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

اس دوران یہودی اسرائیلیوں اور اس ملک کی عرب اقلیت کے مابین تشدد کی ایک لہر کئی اسرائیلی شہروں میں بھی پھیل گئی ہے جہاں یہودی عبادت گاہوں پر حملے اور عرب شہریوں اور یہودیوں کے درمیان جھڑپیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔

ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی سرحد کے ساتھ جنگی فوج متحرک کر لی ہے جو زمینی کارروائیوں کی تیاری کے مختلف مراحل میں ہے۔ اگر اسرائیل زمینی کارروائی کرتا ہے تو اس کا یہ اقدام  2014 اور 09-2008 میں اسرائیل غزہ کی جنگوں کے دوران کیے گئے آپریشنز کی طرز پر ہو گا۔

لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا: ’چیف آف سٹاف بذات خود ان تیاریوں کا معائنہ اور رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔‘

غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا کہ وہ راتوں رات متعدد افراد کی پراسرار ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہے ہیں جن کے بقول ان کی موت زہریلی گیس کے باعث ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نمونوں کی جانچ کی جارہی ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی حتمی نتیجہ برآمد ہونا باقی ہے۔

اس خوف کے باعث کہ تشدد مزید بے قابو سے ہوسکتا ہے، واشنگٹن نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے اپنے خصوصی ایلچی  ہیڈی امر کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو سے رابطہ کیا ہے جس کے بعد انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ فلسطین کے ساتھ پرتشدد کشیدگی جلد ختم ہوجائے گی۔

اے ایف پی کے مطابق صحافیوں سے بدھ کو بات کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا: ’میں نے بی بی نتن یاہو سے تھوڑی دیر پہلے بات کی ہے۔ مجھے توقع اور امید ہے کہ یہ جلد ختم ہوجائے گا، مگر اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہےاگر آپ کی سرزمین پر  ہزاروں راکٹ گر رہے ہوں۔ ‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت کاری تیز رفتار پر ہے اور قومی سلامتی اور دفاع کا عملہ ’مشرق وسطیٰ میں اپنے نہ صرف اسرائیل میں ہم نصب بلکہ مصریوں سے لے کر سعودی اور امارتیوں تک سے مسلسل رابطے میں ہے۔‘

صدر بائیڈن کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیلی اور فلسطین کے درمیان پرتشدد کشیدگی میں درجنوں افرادکی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں جاری ہو رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جبکہ اس کے مطابق فلسطین سے بھی ان کی سرزمین پر 12 سو راکٹ داغے گئے ہیں۔ یہ گذشتہ سات سالوں میں کشیدگی میں اضافے کا سب سے سنگین واقعہ ہے۔

فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں عرب اور یہودیوں کے درمیان جھڑپوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلکن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فون پر بات کی اور راکٹ حملوں کو ختم کرنے پر زور دیا۔

اسرائیل پر راکٹ حماس کی جانب سے داغے جا رہے ہیں مگر امریکہ اس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے اور اس سے باضابطہ بات نہیں کرتا۔

جنوری میں صدر بائیڈن کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بلنکن کا فلسطینی صدر سے رابطہ امریکہ اور فلسطین کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے 2017 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انظامیہ سے تعلقات منقطع کردیے تھے جب انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔

بلنکن نے ٹوئٹر پر لکھا: ’میں نے بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ میں جاری صورت حال کے بارے میں صدر عباس سے بات کی ہے۔ میں نے زندگیوں کے ضائع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور راکٹ حملوں کو ختم کرنے اور کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا۔‘

فلسطینی صدر کے دفتر سے جاری اس کال کے ایک ریڈ آوٹ کے مطابق صدر عباس نے ’اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوٓں کو ختم کرنے، آبادکاروں کے حملوں کو ختم کرنے اور اسرائیل کے ہمارے لوگوں کے خلاف جارحانہ اقدامات ختم کرنے پر زور دیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا