کرونا کا دوسرا سال کاروباری خواتین کے لیے کتنا مختلف؟

صرف ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد وبا نے ان خواتین کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ اآن لائن بزنس کو مستقل کمائی کا ذریعہ بنا سکیں۔

گذشتہ سال کے اوائل میں جس وقت کرونا کی وبا آئی تو  پاکستان میں کاروباری افراد متفرق مسائل کا شکار ہو گئے تھے مگر پھر انہوں نے آن لائن بزنس کرنا سیکھا (پکسابے)

عید کے موقع پر کورونا سے بچاؤ کی خاطر  بازاروں کو  بند کر دیا گیا ہے لیکن اب بازاروں کا بند ہونا پاکستانی عوام کے لیے زیادہ تشویش کا باعث نہیں رہا کیونکہ کرونا وبا کے دوران پاکستانی عوام بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح آن لائن خریدوفروخت کرنا سیکھ رہے ہیں۔

گذشتہ سال کے اوائل میں جس وقت کرونا کی وبا آئی تو  پاکستان میں کاروباری افراد متفرق مسائل کا شکار ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ بعض کاروباری خواتین نے ایک انٹرویو میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ وہ کاروبار میں خصارے اور  مالی تنگدستی کی وجہ سے ڈپریشن میں چلی گئی تھیں۔

ان خواتین کا ایک موقف یہ تھا کہ چونکہ ان کا کاروبار آن لائن نہیں تھا اور ان کا اس حوالے سے تجربہ بھی نہیں تھا اس لیے وہ ان کاروباری افراد کے برعکس زیادہ متاثر ہوئیں، جو  پہلے سے آن لائن اپنا نام بنا کرکسٹمرز  بنا چکے تھے۔

تاہم صرف ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد وبا نے ان خواتین کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ اآن لائن بزنس کو مستقل کمائی کا ذریعہ بنا سکیں۔

پشاور ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ڈبلیو سی سی آئی پی) جو کہ خیبر پختونخوا کی خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانے کا ایک نیم سرکاری ادرہ ہے، کی سابقہ صدر اور موجودہ ایگزیکیٹیو رکن رخسانہ نادر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور میں تین سو سے زائد کاروباری خواتین ڈبلیو سی سی آئی پی کے ساتھ منسلک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چند ایک کے علاوہ یہ تمام خواتین آن لائن بزنس سے ناواقف تھیں۔

’اسی لیے جب وبا آئی تو ان خواتین کے کاروبار کا نقصان تو ہوا ہی لیکن ان کے گھروں میں فاقے پڑنے لگے۔ بہت سی خواتین گھروں کی واحد کفیل تھیں۔ اسی لیے ہم نے ان خواتین کو آن لائن بزنس کی تربیت دینا شروع کیا اور  تقریباً ایک سال کے عرصے میں وہ خواتین بھی آن لائن کاروبار کرنے لگی ہیں جو کم تعلیم یافتہ یا بالکل ان پڑھ ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رخسانہ نادر نے کہا کہ پشاور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کرونا وبا کے دوران بے روزگار خواتین کو گھر گھر  راشن پہنچانے کے ساتھ ان کو  آن لائن کاروبارکا طریقہ اور  بینکوں سے آسان شرائط پر قرض لینے کے حوالے سے تربیت دی۔

افشاں سیٹھی بھی پشاور میں ان سلےکپڑوں کا کاروبار کرتی تھیں، لیکن جب وبا آئی تو اس وقت ان کا نہ توکاروبار کی آن لائن ویب سائٹ  یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ تھا اور  نہ ہی انہیں اس کا کوئی تجربہ تھا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضرورت نے انہیں آن لائن کاروبار کا ماہر بنا دیا اور آج ان کے فیس بک پیج پر  پانچ سو سے زائد ایکٹیو ممبرز ہیں اور وہ اس سے خوب کما بھی رہی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ وبا سے قبل وہ مختلف میلوں اور نمائشوں میں جاکر سامان فروخت کرتی تھیں اور وہیں اپنے گاہک بناتی تھیں، جس میں گاہک ان کا سامان موقع پر ہی پسند کرکے لے جاتے تھے۔

’آن لائن فروخت کے لیے سب سے پہلے گاہک کا اعتماد جیتنا پڑتا ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔ شروع شروع میں جب میں نے ’رنگ برنگ کولیکشن‘ کے نام سے پیج کھولا تو خریدار صرف قیمتیں پوچھ کر  غائب ہو جاتے۔ اب خریداروں کا ٹرسٹ بڑھ گیا ہے اور وہ اب آرڈر بھی دینے لگے ہیں۔‘

پشاور کے علاقے ہشتنگری سے تعلق رکھنے والی لبنیٰ نے بھی وبا کے دوران آن لائن ’نیو کولیکشن‘ کے نام سے کپڑے بیچنے کا کاروبار شروع کیا، جو کہ آہستہ آہستہ ان کی کمائی کا کامیاب ذریعہ بن گیا ہے۔

لبنیٰ کے مطابق ’وبا سے کچھ ہی مہینے قبل میرے شوہر وفات پاگئے اور اپنے بچوں کی میں واحد کفیل رہ گئی۔ پھر وبا آئی  اور  میرا کاروبار بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا کیونکہ میرا بوتیک جس علاقے میں تھا وہاں خواتین کی اکثریت آن لائن خریداری نہیں کرتی تھیں۔ میرے گھر  اتنے بدترین حالات میں نے پہلی دفعہ دیکھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ یہی وہ وقت تھا جب ڈبلیو سی سی آئی پی کی جانب سے جب آن لائن تربیتی سیشن شروع ہوئے تو میں نے ہمت کرکے آن لائن کاروبار کا آغاز کیا۔‘

لبنیٰ جن کے پاس نہ گاہک تھے اور نہ تجربہ، انہوں نے بھی بلآخر  آن لائن بزنس میں کمانا شروع کر دیا ہے کیونکہ وبا کے بعد آن لائن فروخت کاٹرینڈ پاکستان کے تمام شہروں میں بڑھ گیا ہے اور  اس حوالے سے کئی ایک انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹس بھی وقتاً فوقتاً شائع ہوئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین