کرونا پر حکومتی اُتھل پُتھل؟

کوویڈ 19 ابھی تک ختم نہیں ہوا اور نہ ہی اس وبا کے حوالے سے ادا کی جانے والی ریاستی ذمہ داری ختم ہوئی ہے۔

’ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘ کا نعرہ لوگوں کی صحت اور فلاح وبہبود کے لیے کوئی حکمت عملی ہونے کی بجائے ایک سیاسی حربہ تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کے بعض شہری علاقوں میں جب چند ہفتے قبل کرونا میں مبتلا ہونے کی شرح 30 فیصد تک جا پہنچی تو حکومت نے اس وبا کو زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔

ہمارے پڑوسی ملک نے ماہرین کے مشوروں کو رد کرنے کی جو قیمت ادا کی اس نے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو بھی زیادہ فعال ہونے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی ہو گیا۔ سماجی دوری پر سختی سے عمل ہوا۔ ایس او پیز لاگو کرنے کے لیے فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کر لیا گیا اور عید سے پہلے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

تاہم کرونا کے معاملے میں اب تک کی اہم تبدیلی ’گھر رہو، محفوظ رہو‘ کا نیا نعرہ ہے جس سے فیصلہ سازوں کی سوچ میں تبدیلی  اور اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ  کرونا وبا کے بارے میں حکومت کا اس سے پہلے کا موقف’ڈرنا نہیں، لڑنا ہے‘ نہ صرف غلط بلکہ غیر ذمہ درانہ تھا۔

وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے شروع ہی سے کوویڈ19 کے خطرات کو رد کرتے ہوئے اسے بس ایک معمولی فلو قرار دیا۔ اور اس کے لیے حکومت کو دستیاب تمام تر پروپیگینڈا مشینری استعمال کی گئی۔

17 مارچ 2020 کو وزیر اعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے اپنے وزرا اور مشیروں کو  خوف پھیلانے کے خلاف خبردار کیا اور ان سے کہا کہ لوگوں کو امید کا پیغام دیں کہ کرونا سے مل کر لڑنا ہے اور ڈرنا نہیں ہے۔ اسی شام انہوں نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں اپنا یہ فلسفہ دہرایا۔ انہوں نے آنے والے مہینوں میں بھی کئی مواقعے پر ایسا ہی کیا۔ چنانچہ ’ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘ وبا کے خلاف ہماری قومی پالیسی کا سرکاری نعرہ بن گیا۔

یہ نعرہ لوگوں کی صحت اور فلاح وبہبود کے لیے کوئی حکمت عملی ہونے کی بجائے محض ایک سیاسی حربہ تھا۔ وزیر اعظم عمران خان جن کو  معاشی میدان میں  ان کی حکومت کی ناقص کارکردگی پر سخت تنقید کا سامنا تھا۔ وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے مشکل اقدامات کی صورت میں پیدا ہونے والے معاشی بحران کی سیاسی قیمت ادا کرنے کو تیار نہ  تھے۔ چنانچہ وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے موقف کو مسلسل رد کرتے رہے جنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کرونا کے مقابلے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ جن میں لاک ڈاؤن اور کاروباری مراکز کی بندش شامل تھی۔

وزیر اعظم کے علم میں تھا کہ ان کے پاس کوویڈ 19 کے ناگزیر خطرے سے نمٹنے کے لیے وسائل نہیں ہیں اس لیے انہوں نے الٹا وبا کے خوف پر قابو پانے پر بھر پور توجہ دی۔

یہ ایک سیاسی چال تھی لیکن چند ہی مہینوں میں اس کا نتیجہ اس شکل میں سامنے آیا کہ کرونا وائرس کے کیس سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ گئے۔ حتیٰ کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو حکومت کو خبردار کرنا پڑا کہ وہ وبا پر قابو پانے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کرے۔

کرونا وائرس سے نمٹنے میں وزیر اعظم کی ’ڈرنا نہیں‘ کی حکمت عملی نے ملک کے ثقافتی ماحول کو بھی نظر میں نہیں رکھا۔ پاکستان جہاں لوگ ہاتھ ملا نے،گلے ملنے اور گھل مل کر اوراکٹھے کھانا کھا کر خوش ہوتے ہیں۔ وہاں شہریوں سے توقع کرنا کہ وہ ’معمولی زکام‘ سے بچنے کے لیے زندگی بھر کی عادات تبدیل کر لیں گے ایک بچگانہ خواہش سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ معاشرے میں روایات کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ لوگ خطرے کو سنجیدگی سے لیں اور اس سے خوفزدہ بھی ہوں۔ تاہم سیاسی رہنماؤں نے کوویڈ 19 ایس او پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جس پر لوگوں نے بھی کرونا کو نظر انداز کر کے اپنے معمولات برقرار رکھے۔

تاہم ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھتے ہی وزیر اعظم کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا لیکن اپنی حکومت کی کم فہمی اور  بدانتظامی کو اس کا ذمہ دار قرار ٹہرانے کی بجائے انہوں نے 9 جون 2020 کو کی جانے والی ٹیلی ویژن تقریر میں اس صورت حال کو سنجیدگی سے نہ لینے کا ذمہ دار عوام کو قرار دے دیا۔ حیران کن طور پر انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ لوگ کرونا کو ’ایک زکام‘ سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم اس بات کو بھول گئے کہ وبا کے آغاز میں خود انہوں نے ہی لوگوں کو ایسا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ گئیں اور انہوں نے اس صورت حال کا ذمہ دار عوامی رویوں کو گردانتے ہوئے لوگوں کو ’جاہل‘ قرار دے دیا۔

کرونا سے ملک کو لاحق خطرے کے ادراک کے باوجود ٹی وی چینلز پر صبح شام ’ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘ کے نعرے نشر کیے جاتے رہے۔

یہ حکمت عملی عوامی صحت اور ابلاغ کے ماہرین کے مشوروں کے خلاف تھی جن کے مطابق عوامی رویوں کو مختلف طریقوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے جن میں لوگوں کو وبا کے خطرے سے آگاہ کرنا، خود مثالی رویے اختیار کرنا اور Diffusion of Innovation  شامل تھے۔ حکومت نے ان تمام میں سے کسی بھی حکمت عملی کو نہیں اپنایا۔

عوام کو خطرے سے آگاہ کرنے کو سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ اس سے حکومت کی جانب سے عوام کو دیے جانے والے ریلیف پر سوال کھڑے ہو جاتے۔ رول ماڈلنگ پر شروع سے عمل نہیں ہو سکا کیونکہ وزیر اعظم خود کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں کے عوامی اجتماعات سے مخاطب ہوتے رہے ۔  کابینہ کے ارکان بھی ان کے نقش قدم پر چلتے دکھائی دیئے اور انہوں نے بھی ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کم کم ہی کیا۔ باوجود اس کے کہ ماہرین اور عوام دونوں ان سے اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم کی زیر قیادت وزارت قومی صحت، قواعد اور تعاون نے جامع اور صحیح معلومات کے فروغ کے لیے مہم  چلانے کی بجائے ٹیلی فون کی رنگ ٹونز کے ذریعے ’آگاہی پھیلانے‘ پر اکتفا کیا۔ یہ رنگ ٹونز میں بھی حکومت کی طرح کرونا پر فتح کا دعوی کرنے لگیں اور لوگوں کے اچھے رویوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اس وبا کو شکست دینے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

اس قبل از وقت اعلان فتح نے حکومت کو خود ایک لطیفہ بنا دیا کیونکہ کرونا کیسز میں اضافے کے بعد حکومت ان  ہی لوگوں کو وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے چکی تھی۔

’کرونا سے ڈرنا نہیں  لڑنا ہے‘ کے نعرے کو آخر کار لگ بھگ ایک سال کے بعد تبدیل کر دیا گیا لیکن اس کی وجہ کوئی منطقی سوچ نہیں بلکہ مذہبی رہنماؤں کا احتجاج تھا جنہوں نے اس نعرے پر اعتراض کیا۔ تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ کوویڈ 19 کی تیسری لہر اور زیادہ پھیلنے والی برطانوی قسم کے باوجود ملک بھر کی اکثریت نے کرونا کو خطرے کے بجائے اب روز مرہ زندگی کے ایک حصے کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

قومی سروے نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی۔ مارچ 2021 میں پاکستان میں کوویڈ 19 کو خطرہ سمجھنے اور اس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی کم ترین شرح ریکارڈ کی گئی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے وزیر اعظم نے ابتدا میں لوگوں کو بتایا تھا، پاکستانیوں نے کرونا کو ایک عام زکام سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کا حصہ مان لیا۔

کرونا کی تیسری لہر اور زیادہ پھیلنے والی جان لیوا اقسام ملک میں اس لیے آئیں کہ حکومت نے بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں کو قرنطینہ کرنے یا ٹیسٹ کرانے سے گریز کیا۔ جس کے بعد ملک میں حالات خراب ہونے لگے۔

پاکستان میں بھی بھارت جیسے خطرے کے امکانات موجود ہیں اور ہماری سیاسی اور محکمہ صحت کی کمزوریاں بے نقاب ہو چکی ہیں۔

حکومت آخر کار جاگ چکی ہے یا جیسا کہ کچھ افراد کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ مقتدر قوتوں نے حکومت کو کارروائی پر مجبور کر دیا ہے۔

کووڈ 19 کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے پہلے خطاب سے 14 ماہ بعد پاکستانی فوج کو سڑکوں پر دیکھا گیا، شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کی گئی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ ملک بھر میں نو دن کے لیے لاک ڈاؤن بھی نافذ کیا گیا۔ وائرس سے لڑنے کی سوچ تبدیل ہوئی اور یہ نعرہ ’گھر رہو محفوظ رہو‘ کر دیا گیا۔ لیکن ایسا 20 ہزار سے زیادہ انسانی جانوں کے جانے کے بعد ہوا جب کہ کئی ہزار افراد زندگی بھر کرونا سے متاثر ہونے کی قیمت چکائیں گے۔

عید سے قبل کیے جانے والے حکومتی اقدامات نے لوگوں کی جانیں بچانے اور اس صورت حال پر قابو پانے کے حوالے سے حکومتی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے کرونا کے خلاف قبل ازوقت فتح کے دعووں سے اجتناب کرنا ہو گا۔

یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور ریاست کو اس بارے میں غیرمقبول فیصلے کرتے ہوئے کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا چاہے اس کی سیاسی قیمت کچھ بھی ہو۔

کوویڈ 19 ابھی تک ختم نہیں ہوا اور نہ ہی اس وبا کے حوالے سے واجب ریاستی ذمہ داری ختم ہوئی ہے۔

 نوٹ: فیاض احمد خان ابلاغ صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور مصر، ملاوی، زمبیہ، کینیا اور فلپائن میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ