’ڈبو‘ کو لاہور کے چڑیا گھر سے نکالنے کے لیے آن لائن پٹیشن

گذشتہ دو تین روز سے سماجی رابطوں کی مختلف سائٹس پر ایک پٹیشن پر آن لائن دستخط کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ یہ پٹیشن ’ڈبو‘ کو آزاد کروانے کے حق میں ہے۔

گذشتہ دو تین روز سے سماجی رابطوں کی مختلف سائٹس پر ایک پٹیشن پر آن لائن دستخط کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ یہ پٹیشن ’ڈبو‘ کو آزاد کروانے کے حق میں ہے۔

ڈبو ایک ریچھ کا بچہ ہے جسے پنجاب وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ نے انیلا سے ’چھین‘ کر عدالت کے حکم کے مطابق لاہور چڑیا گھر کے حوالے کر دیا ہے۔

انیلا راولپنڈی میں بے سہارا جانوروں کی فلاح و بہبود اور ریسکیو کے لیے ’کرٹرز آرک ویلفیئر آرگنائزیشن‘ کے نام سے ایک نان پرافٹ تنظیم چلاتی ہیں اور ان کے مطابق ڈبو کی آزادی کی آن لائن پٹیشن کا اجراح انہوں نے ہی کیا ہے۔

ڈبو کی کہانی انیلا کی زبانی:

’ڈبو کو رمضان میں نیلم ویلی کشمیر سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ ڈبو کی ماں کو شکاریوں نے مار دیا تھا اور اس کے ساتھ ایک اور اس کا بھائی یا بہن تھا، اسے بھی مار دیا گیا تھا اور اسے پکڑ لیا گیا تھا۔

مجھے جب معلوم ہوا تو میں نے سب سے پہلے پنجاب وائلڈ لائف والوں سے مدد کی اپیل کی لیکن مجھے وہاں کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر رضوانہ عزیز نے بتایا کہ کشمیر میں ہماری کوئی وائلڈ لائف سروس موجود نہیں ہے۔ وہاں ایسے مسائل بہت زیادہ ہیں ان کے اپنے اصول ہیں ہم وہاں کچھ نہیں کر سکتے۔ مجھے وہاں سے کوئی مثبت جواب ہیں ملا۔

میرے پاس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ڈبو کی کچھ ویڈیوز آئیں جس میں وہ بہت بری حالت میں تھا۔ ایک ریسکیوور ہونے کے ناطے میری پہلی ذمہ داری جانور کی زندگی بچانا تھا۔ میں پوری کوشش کر کے ایک تھرڈ پارٹی کے ذریعے ریچھ کے بچے کو 60 ہزار روپے دے کر منگوایا۔ جس میں 20 ہزار روپے اس کے سفر کا خرچہ تھا باقی 40 ہزار اس کو آزاد کرنے کی قیمت تھی۔

میں نے پہلے آدھی قیمت دی لیکن اس کے بعد کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ مجھے لگا کہ کوئی فراڈ تھا لیکن ایک رات دیر گئے مجھے کال آئی کہ فلاں جگہ آکر باقی پیسے دیں اور ریچھ کا بچہ لے جائیں۔ میں وہاں گئی اور باقی پیسے دے کر اسے لے آئی۔ یہ بچہ اس وقت بوری میں بند تھا۔ جب میں نے اسے بوری سے نکالا تو ڈبو کی حالت کافی خراب تھی، اس کے کان کٹے ہوئے تھے، اسے بری طرح انفیکشنز ہوئیں تھیں اور وہ بالکل نڈھال تھا۔ مجھے امید نہیں تھی کہ وہ بچے گا۔

میں نے فوراً اسے فرسٹ ایڈ دے کر اگلی صبح ہسپتال لے جا کر اس کا علاج شروع کروایا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ڈبو کے علاج کے دوران ہی انہوں نے بیرون ملک مختلف تنظیموں سے ای میل کے ذریعے رابطہ شروع کیا تاکہ ڈبو کو کسی سینکچری میں بھیجا جاسکے اور ڈبو کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال ہو سکے۔

’کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ پاکستان میں چڑیا گھروں کے کیا حالات ہیں اور وہاں جانوروں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ اس لیے چڑیا گھر بھیجنے کا تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ دوسرا آپشن یہ تھا کہ اگر باہر کسی سینکچری میں ڈبو نہیں جاسکتا تو ہمارے ہاں چکوال کے قریب ایک سینکچری بلکسر میں ہے لیکن وہاں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں بڑے ریچھ آتے ہیں جن میں زیادہ تر ناچنے والے آتے ہیں لیکن وہاں آج تک کبھی کوئی ریچھ کا بچہ نہیں آیا۔‘

انیلا نے بتایا کہ وہ ڈبو کو فیڈر میں دودھ پلاتی رہیں کیونکہ اسے خود کھانا چبانا بھی نہیں آتا تھا البتہ کبھی کبھی وہ اسے پھل وغیرہ دیتی تھیں تاکہ وہ خود سے چبانا سیکھ سکے۔

’ڈبو خوش رہنے لگا تھا، کھیلتا تھا اور تیزی سے ٹھیک ہو رہا تھا۔ پھر ایک دن ان کی ایک دوست نے ٹک ٹاک پر غلطی سے ڈبو کی ایک ویڈیو اپ لوڈ کر دی جس کے بعد وائلڈ لائف والوں کو علم ہو گیا کہ ان کے پاس ایک ریچھ کا بچہ ہے۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں کہ پنجاب وائلڈ لائف والوں نے باقائدہ چھاپہ مارا اور دس ہزا روپے کا چالان کیا اور ڈبو کو ساتھ لے گئے۔

’پنجاب وائلڈ لائف کے کچھ ذرائع نے ہمیں کچھ ویڈیوز بھیجیں جن میں ڈبو کو پنجرے میں رکھا گیا ہے اور وہ باقائدہ وہاں رو رہا ہے۔ اب وائلڈ لائف والوں نے ڈبو کو لاہور چڑیا گھر بھیج دیا ہے۔‘

انیلا کہتی ہیں کہ ’وہاں اس کا خیال ٹھیک سے نہیں رکھا جا رہا اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ کیونکہ اس نے آگے چل کر یہاں پنجرے میں ہی رہنا ہے اس لیے اس کی تربیت ابھی سے شروع ہونی چاہیے۔‘

’وائلڈ لائف والوں نے ان لوگوں کو لائسینس دیے ہوئے ہیں جو بریڈرز ہیں اور انہوں نے جانور گھروں میں پالے ہوئے ہیں جبکہ بے سہارا جانوروں کو بچانے والوں سے آپ جانور چھاپے مار کر چھین کر لے جا رہے ہیں۔ جب ہم نے لائسینس کا پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ہمارے پاس ایکڑوں کی زمین ہونی چاہیے۔‘

دوسری جانب پنجاب وائلڈ لائف کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر رضوانہ عزیز نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے بتایا ہے کہ ریچھ کے بچے کی ویڈیو ٹک ٹاک پر دیکھی تھی اور وہاں سے ہم نے اسے ٹریس کیا اور اسے اپنی تحویل میں لیا۔

’ریچھ ایک پروٹیکٹڈ اور ممنوعہ جانور ہے اسے عام شہریوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی اس کو رکھنے کا کوئی لائسنس جاری ہوتا ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے چار شیڈول ہوتے ہیں جن میں تھرڈ شیڈول پروٹیکٹڈ اینیملز کا ہے جس کے مطابق ریچھ کو رکھنا، اس کا شکار کرنا وغیرہ سب ممنوع ہے۔‘

رضوانہ کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے کسی نے لائسنس کی بات نہیں کی ویسے بھی ہم پرائیویٹ بریڈنگ فارمز کو لائسنس دیتے ہیں اور وہاں بھی آپ ریچھ نہیں رکھ سکتے۔‘

’کشمیر ہماری حدود میں نہیں آتا اور نہ ہی اس حوالے سے ہمیں کسی نے رابطہ کیا کہ ریچھ کے بچے کو ریسکیو کرنا ہے یا یہ اس خاتون کے پاس ہے یا اسے لے جانا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ریچھ کے بچے کا بچہ ڈیڑھ سے دو ماہ کا ہے اسے فی الحال کسی سینکچری میں بھی نہیں رکھا جا سکتا اور اسے چڑیا گھر میں بھی کسی پنجرے میں نہیں رکھا گیا۔ ’وہاں اس کی دیکھ بھال کرنے کے لیے تربیت یافتہ سٹاف ہے، ڈاکٹرز ہیں ابھی وہ اس کو دیکھ رہے ہیں اور جب تک یہ بچہ اس قابل نہیں ہو جاتا کہ وہ خود اپنی دیکھ بھال کر سکے تب تک ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ریچھ کے بچے کو 35 سے 40 ہزار روپے دے کر خریدا گیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جس سے خریدا اس شخص کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آئندہ بھی پیسوں کے لیے اس طرح جانوروں کے بچے پکڑے اور انہیں بیچے۔ جنگلی جانور جنگلی ہی ہوتا ہے اسے گھر پر نہیں رکھ سکتے۔‘

لاہور چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر کرن سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ریچھ کا بچہ بہت بہتر حالات میں ہے۔ یہ کھیل کود کا شوقین ہے کیونکہ یہ گھر میں رہا ہے اس لیے یہ صوفوں اور کرسیوں کا عادی ہے۔ ہم نے اسے جو جگہ فراہم کی ہے اس میں اس کی ضرورت کے مطابق سامان بھی رکھا ہے۔ 24 گھنٹے کے لیے وہاں ایک کیپر موجود ہے جو اس کا خیال بھی رکھتا ہے اسے چلاتا پھراتا بھی ہے اور اس کے ساتھ کھیلتا بھی ہے۔‘

’یہ چڑیا گھر میں ہی رہے گا یہاں سے یہ کہیں اور عدالتی حکم کے بعد ہی جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو شور مچایا جا رہا ہے کہ چڑیا گھر میں اس کی حالت خراب ہو جائے گی درحقیقت حالات اس کے برعکس ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا