پاکستان اچانک 5.8 سے 3 فیصد شرح نمو پر کیسے آ گیا؟

غیر یقینی صورتحال مارکیٹ کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے نئی حکومت نے پہلے دن سے ملک میں غیریقینی کی صورتحال کو ہوا دی ہے۔

کراچی کے بازار حصص میں ایک پریشان تاجر۔ تصویر۔اے ایف پی

ملکی معاشی حالات اور بڑھتے ہوئے افراط زر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے غربت کی طرف ایک  یقینی سفر شروع کر دیا ہے۔ غربت کا اثر سب سے پہلے تنخواہ دار طبقہ محسوس کرتا ہے اور موجودہ حالات میں آپ کسی بھی تنخواہ دار شخص سے بات کریں تو ایسا لگتا ہے کہ اس کے گرد معاشی گھیرا تنگ سے تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

 موجودہ معاشی بدحالی یقینا بہت سے بنیادی معاشی مسائل کی وجہ سے ہوگی لیکن اس کی بہت حد تک ذمہ دار موجودہ معاشی نظام کے نگران ہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ جو ملک ایک سال پہلے 5.8 فیصد سے ترقی کر رہا تھا اور اسے دنیا بھر کے معاشی ادارے بہتر معیشت قرار دے رہے تھے وہ اچانک سے تین فیصد شرح نمو پر آ جائے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سال پہلے مہنگائی کم تھی، ڈالر سستا تھا اور روپیہ مستحکم تھا، معیشت نمو پا رہی تھی اور موجودہ حکومت میں یہ سب کچھ الٹ ہوگیا؟ یہ دیکھتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ معاشی نگرانوں کو اور سیاسی قیادت کو بڑھتی ہوئی غربت کا احساس نہیں اور بجائے عوام کے معاشی دکھوں کا خیال کریں اس پر مسلسل نمک چھڑکا جا رہا ہے۔ وہ اپنی کارکردگی بہتر کرنے کی بجائے مسلسل پچھلی حکومت کا رونا رو رہے ہیں۔

اس صورتحال کی بھی ذرا بھر پرواہ نہیں کہ غربت کے بڑھنے سے ملک ایک سیاسی بحران میں داخل ہو سکتا ہے جو کہ ہمیں سیاسی اور معاشی طور پر دس سال پیچھے دھکیل سکتا ہے۔ ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ پچھلے 15 سالوں میں متوسط طبقے میں ایک بہت بڑا اضافہ ہوا ہے اور اگر یہ طبقہ غربت کی طرف واپس آیا تو یہ ملک کو ایک بہت بڑے سیاسی اور بقا کے بحران کی طرف  لے جائے گا۔ اس خطرناک بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے اور ملک میں جو نفرت اور تقسیم کی مہم زور و شور سے چلائی جا رہی ہے اسے فورا ختم کیا جائے۔

غیر یقینی صورتحال مارکیٹ کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے نئی حکومت نے پہلے دن سے ملک میں غیریقینی کی صورتحال کو ہوا دی ہے۔ اپنے ہر غیرملکی دورے میں اور اپنی ہر ملاقات میں چاہے وہ عالمی سربراہان کے ساتھ ہوں،  سرمایہ کاروں کے ساتھ ہوں یا پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ان سب کے سامنے صرف یہی پیغام دیا گیا ہے کہ ملک بدعنوان لوگوں کے ہاتھ میں رہا ہے، تمام نوکرشاہی چور ہے اور سیاستدان ڈاکو ہیں۔ اور یہ کہ ملک معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ اگر آپ سرمایہ کار ہیں تو کیا اس قسم کی صورتحال جو ملک کا سربراہ بتا رہا ہوں کیا اس ملک میں آپ سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچیں گے؟ ایک دیوالیہ اور کرپٹ معیشت میں کون سرمایا کاری کرے گا؟

اسی لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سیاسی قیادت اپنا معاشی بیانیہ بدلے اور ملک میں سرمایہ کاری کے فوائد کے بارے میں بات کریں اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں حالات پیدا کرے، نہ کہ ان ملکوں اور سرمایہ کاروں کو بھی ڈرائے جنہوں نے پاکستان میں پہلے سے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ سی پیک کے بارے کچھ حکومتی اہلکاروں کے منفی بیانات اسی صورتحال کی مظہر ہیں۔ موجودہ تشویشناک معاشی صورتحال میں اب ضروری ہے کہ کرپشن کا منترا چھوڑا جائے اور ایک میثاق معیشت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ اگر ملک دیوالیہ ہوا اور غربت کا سفر نہ رکا تو کسی سیاسی جماعت یا اسٹیبلشمنٹ کو فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ سب ہاریں گے۔

میثاق معیشت میں سب سیاسی معاشی اور دفاعی اسٹیک ہولڈرز کو شامل ہونا چاہیے اور مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت کسی سیاسی قوت کو نیچا دکھانے کا نہیں ہے۔ یہ وقت پاکستان کی بقاء کا ہے اور سب قوتوں کو اس کا احساس کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مخاصمت میں بھی کمی لانے کی ضرورت ہے۔ نیب کو گھر کی لونڈی کی طرح استعمال نہ کیا جائے بلکہ قانون کو اپنا راستہ تلاش کرنے کی اجازت دی جائے۔ انصاف صرف کیا نہ جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عدالتی فیصلے، نیب کی  تحقیقات سب متنازعہ ہو چکی ہیں۔ اس لیے میثاق معیشت کے ساتھ ساتھ قانونی اصلاحات بھی بہت ضروری ہیں۔ صنعتکاروں کے ساتھ مل کر پاکستان کی صنعتی سمت بھی طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر نوکریاں نہیں پیدا کی جاسکتی اور نہ ہی برآمدات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اگر یہ اقدامات جلد از جلد نہ کیے گئے تو ملک ایک بدنظمی اور انقلاب کی طرف بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب لوگ متوسط طبقے سے غربت کی طرف آئیں گے تو پھر حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے وہ چاہے سیاسی قیادت ہو یا ’سلیکٹرز‘  ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر