فلسطینیوں کو نئی اسرائیلی قیادت سے کم امیدیں

ایک ایسے وقت جب اسرائیل میں 12 برس تک وزیر اعظم رہنے والے بن یامین نتن یاہو کے طویل اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے، فلسطینیوں کو یہودی ریاست کی نئی متوقع حکومت سے کم ہی امیدیں وابستہ ہیں۔

مئی 15، 2021 کی اس تصویر میں فلسطینی ریلی کے دوران شرکا نے ایک ایسے شخص کو گھیر رکھا ہے جن کا دعوی ہے کہ وہ 32 سال اسرائیلی فوج میں گزار چکے ہیں۔ (اے ایف پی)

ایک ایسے وقت جب اسرائیل میں 12 برس تک وزیر اعظم رہنے والے بن یامین نتن یاہو کے طویل اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے، فلسطینیوں کو یہودی ریاست کی نئی متوقع حکومت سے کم ہی امیدیں وابستہ ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں زیادہ تر فلسطینیوں نے اسرائیلی حکومت میں ہونے والی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نتن یاہو کی جگہ لینے والے نامزد قوم پرست یہودی رہنما نفتالی بینیت بھی دائیں بازو کے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا رہیں گے۔

ماضی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تحریک ’یشا‘ کی قیادت کرنے والے بینیت کے نئے اتحاد کے تحت ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے کے امکانات روشن ہیں۔

جمعرات کو بینیت نے مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازع کا زیادہ تر الزام فلسطینیوں پر ڈال دیا۔

انہوں نے اسرائیلی ٹی وی ’چینل 12‘ کو بتایا: ’حقیقت بیان کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین قومی تنازع کسی علاقے کے لیے نہیں ہے۔ فلسطینی یہاں ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور بظاہر کچھ عرصے تک ایسا ہی چلتا رہے گا۔‘

اسرائیل کے نامزد وزیر اعظم نفتالی بینیت اپنے پیش رو نتن یاہو سے بھی زیادہ زیادہ سخت گیر موقف رکھتے ہیں جن کا خواب ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے بیشتر حصے کو بھی اسرائیل میں ضم کر لیا جائے اور جو فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کے لیے خود کشی سمجھتے ہیں۔

گذشتہ سال جب نیتن یاہو کی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ کے آخری مہینوں میں مغربی کنارے کے الحاق اور یہودی آبادکاری کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی تب اس وقت بطور وزیر دفاع کام کرنے والے بینیت نے کہا تھا: ‘ملک میں اس تعمیراتی منصوبے کی رفتار کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں روکا جانا چاہئے۔‘

اسرائیلی اخبار ’دا یروشلم پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق نفتالی بینیت نے ماضی میں کابینہ میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والے مباحثے کے دوران مبینہ طور پر عربوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔

بینیٹ نے کہا تھا: ’میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے عربوں کو ہلاک کیا ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔‘

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے نمائندے بسم الصالحی نے کہا ہے کہ نامزد وزیر اعظم بینیت  نیتن یاہو سے کم کسی حد تک کم سخت گیر نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’وہ حکومت میں اپنے سخت گیر موقف کے اظہار کو یقینی بنانا چاہیں گے۔‘

اسی طرح کے خدشات کا اظہار غزہ میں کیا جا رہا ہے جہاں ایک سرکاری عہدیدار احمد رازق کا کہنا ہے کہ ’ایک اسرائیلی رہنما اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘

29 سالہ رازق کا مزید کہا: ’وہ اپنی قوم کے لیے اچھے یا برے ہو سکتے ہیں لیکن جب معاملہ فلسطینیوں کے ساتھ ہو تو وہ سب ہی برے ہیں اور وہ سب فلسطینیوں کو ان کے حقوق اور ہماری سر زمین پر ہمارے حق سے انکار کرتے ہیں۔‘

غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والے گروپ حماس نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کون اسرائیل پر حکومت کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ ’فلسطینیوں نے اسرائیلی حکومت کی درجنوں حکومتوں دیکھی ہیں جن میں دائیں، بائیں، سنٹرلسٹ حکومتیں شامل تھیں۔ جب فلسطینی عوام کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو ان میں سے سبھی ہمارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘

اسرائیل میں پہلی بار ایک حکمران اتحاد میں ایک ایسی اسلامی جماعت شامل ہوگی جو اسرائیل کی 21 فیصد عرب اقلیت کی نمائندگی کرتی ہے۔

اتحاد میں شامل عرب جماعت کے رہنما منصور عباس نے کہا کہ اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے ہونے والے معاہدے کے تحت عرب قصبوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور پرتشدد جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے 16 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

لیکن مغربی کنارے اور غزہ میں عرب جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے بقول ان کے ’دشمن‘ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

غزہ کے رہائشی 21 سالہ بدری کرم نے کہا: ’وہ (اسرائیلی اتحاد میں شامل عرب رہنما) غدار ہیں۔ جب وہ غزہ پر نئی جنگ شروع کرنے کے لیے ووٹ مانگیں گے تو وہ کیا کریں گے؟ کیا وہ فلسطینیوں کے قتل عام کا حصہ بن کر اسے قبول کر لیں گے؟‘

بینیت مغربی کنارے کے ان حصوں کے الحاق کے سخت حامی ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں اس مسئلے پر اپنے پہلے عوامی تبصرے میں وہ اس حوالے سے سٹیٹس کو جاری رکھنے اور فلسطینیوں پر عائد پابندیوں میں کچھ نرمی کی تجویز دیتے دکھائی دیئے۔

بینیت نے کہا: ’اس تناظر میں میری سوچ تنازع کو کم کرنا ہے۔ ہم اسے حل نہیں کریں گے لیکن جہاں تک ممکن ہو ہم (حالات کو بہتر بنائیں گے) جس میں زیادہ بارڈر کراسنگ کھولنا، معیار زندگی بہتر بنانا اور کاروبار اور صنعت کو فروغ دینا شامل ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا