’ڈانسنگ گرل‘ پاکستان کو کب واپس ملے گی؟

موہن جو دڑو سے برآمد ہونے والا یہ مجسمہ پاکستان کا انمول ثقافتی ورثہ ہے، جس کی بھارت سے واپسی کا مطالبہ ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔

کانسی سے بنا یہ ساڑھے چار ہزار سال قدیم مجسمہ1926 میں موئن جودڑو میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا (وکی کامنز)

بڑی بڑی آنکھیں، گھنگریالے بال اور چپٹے ناک والی ایک پتلی دبلی نوجوان لڑکی نے اپنا سیدھا ہاتھ کولہے پر اور الٹا ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا ہے۔

وہ بظاہر عریاں ہے اور گلے میں صرف ایک ہار ہے اور بازوؤں میں چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ اس نے بالوں کی چوٹی بنا رکھی ہے اور جوڑا بنایا ہوا ہے۔

اس نوجوان لڑکی نے چوڑیاں تو پہن رکھی ہیں لیکن بائیں بازو میں 24 اور دائیں بازو میں صرف چار۔ اگرچہ ایسا نہیں لگتا کہ یہ لڑکی رقص کر رہی ہے لیکن اس کا نام ’ڈانسنگ گرل‘ رکھا گیا ہے۔

اس ڈانسنگ گرل کو برطانوی ماہر آثار قدیمہ 1946 میں بھارت لے کر گئے تھے اور اس وقت سے یہ بھارت ہی میں ہے۔  تقسیم ہند کے بعد سے پاکستان اس ڈانسنگ گرل کو واپس لانا چاہ رہا ہے لیکن بھارت اس کو پاکستان کے حوالے کرنے سے گریزاں ہے۔

ڈانسنگ گرل مجسمہ کانسی سے بنا ہوا ہے اور یہ ساڑھے چار ہزار سال پرانا ہے۔ یہ مجسمہ تقریباً چار انچ لمبا ہے اور اس کو سنہ 1926 میں موئن جودڑو میں کھدائی کے دوران دریافت کیا گیا تھا۔

ڈانسنگ گرل کا مجسمہ موئن جودڑو سے دریافت ہوا تھا اور اس کو تقسیم ہند سے قبل ایک نمائش کے لیے انڈیا لے جایا گیا اور یہ کبھی واپس نہیں کیا گیا۔

آج کل یہ مجسمہ دہلی کے نیشنل میوزیم میں ہے۔ برطانوی ماہر آثار قدیمہ مورٹیمر وہیلر نے اس مجسمے کو کچھ اس انداز میں بیان کیا: ’میرے خیال میں یہ ایک 15 سالہ لڑکی ہے جس نے صرف بازوؤں پر اوپر تک چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ یہ ایک پراعتماد لڑکی ہے۔ میرے خیال میں اس جیسی دنیا میں کوئی اور نہیں ہے۔‘

قیام پاکستان کے بعد پاکستانی حکام نے بھارت سے کئی نوادرات واپس طلب کیے جو دنیا کی قدیم ترین منظم شہروں میں سے ایک موئن جودڑو سے دریافت ہوئی تھیں اور ان کو ایک نمائش میں پیش کرنے کے لیے دہلی لے جایا گیا۔

ان نوادرات میں ڈانسنگ گرل کے علاوہ ’پریسٹ کنگ‘ اور ’فاسٹنگ بدھا‘ بھی شامل تھے۔ بھارتی حکام نے کنگ پریسٹ اور فاسٹنگ بدھا تو واپس کر دیا لیکن ابھی تک ڈانسنگ گرل کو واپس کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کنگ پریسٹ کو سر جان مارشل نے کھدائی کے دوران دریافت کیا تھا۔ یہ داڑھی والے ایک شخص کی مورتی تھی، جس کے سر پر دراڑ ہے۔ اس نے چادر اوڑھ رکھی ہے جو اجرک کے ڈیزائن سے مشابہ ہے۔

ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ موئن جو دڑو کے رہائشی لوگوں کا مذہب کیا تھا، تاہم آثاروں پر بعد میں قائم بدھ مت کا ایک سٹوپا بھی موجود ہے، سرخ اینٹوں والے اس سٹوپا کی باقیات ابھی بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

پاکستانی ماہرین نے گذشتہ کئی حکومتوں سے درخواست کی کہ ڈانسنگ گرل کو واپس پاکستان لایا جائے لیکن کسی نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔

گندھارا تہذیب کے 13 نوادرات حکومت 2009 میں مختلف ممالک سے واپس لے کر آئی تھی اور اب بھی حکومت ہی کو سنجیدگی دکھانی ہو گی کہ اس مجسمے کو دہلی سے واپس لایا جائے۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یونیسکو کنونشن کے مطابق نوادرات کا اصل مالک وہ ملک ہوتا ہے جس ملک سے اس کو دریافت کیا گیا ہو۔

آخری بار جو کوشش کی گئی اس کو سنجیدہ تو کہنا مشکل ہے لیکن وہ 2014 کی گئی تھی جب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو نے سندھ فیسٹتول منعقد کرایا تھا۔ اس فیسٹیول نے جہاں پانچ ہزار سال پرانے شہر موہجودڑو کے باقیات کو اجاگر کیا وہیں عالمی سطح پر ایسا فیسٹیول موئن جودڑو کے کھنڈرات کے اندر منعقد کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

موئن جودڑو کو 1980 میں عالمی ثقافت کے فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس فیسٹیول کے بعد یونیسکو نے پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھر کو ایک خط میں دریافت کیا کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ اس تقریب کو اس جگہ منعقد کیا جائے جو عالمی ورثہ ہے اور آیا اس تقریب سے کوئی نقصان تو نہیں ہوا۔

خیر اس فیسٹیول کے بعد سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ بھارت سے بات چیت کی جائے اور ڈانسنگ گرل کے مجسمے کو واپس پاکستان لایا جائے کیونکہ ڈانسنگ گرل ہماری ہے اور یہ سب جانتے ہیں۔

اسی سلسلے میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے سابق سربراہ، معروف مصور اور اداکار جمال شاہ نے بھی 2016 میں ڈانسنگ گرل کا ایشو اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ یونیسکو کے ذریعے انڈیا سے اس مجسمے کی واپسی کا مطالبہ کریں گے۔

لیکن اس معاملے نے جتنی تیزی سے تحریک پکڑی اتنی ہی تیزی سے مدھم ہوتے ہوئے غائب ہو گئی۔

مصر کی جانب ہی دیکھ لیں۔ سنہ 2002 سے اب تک ہزاروں نوادرات مختلف ممالک سے مصر واپس لائے جا چکے ہیں۔ مزید نوادرات واپس لانے کے لیے مصر نے 25 ممالک کے ساتھ ایک اتحاد کیا اور مہم کا آغاز کیا۔ ان نوادرات میں سب سے اہم ملکہ نفرتیتی کی مورتی ہے جو جو جرمنی کے شہر برلن کے میوزیم میں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مصر نے فرانس کے سینٹ لوئی آرٹ میوزیم سے 3200 سال پرانا نوبل وومن کا سنہری ماسک واپس لانے کے لیے متعدد بار درخواست کی لیکن ناکامی کی صورت میں اس میوزیم سے رابطے توڑ دیے اور اپیل کی کہ لوگ بھی اس میوزیم کی جانب سے کی جانے والے نمائش کا بائیکاٹ کریں۔

2010 میں یونیسکو کی ہی تجویز پر ترکی اور جرمنی نے باہمی مذاکرات کے ذریعے نوادارت کا مسئلہ حل کیا اور 2011 میں سفنکس کے حوالے سے دونوں ممالک میں جھگڑے کا حل نکل آیا۔

اسی طرح 2010 میں سوئٹزرلینڈ اور تنزانیہ، 1988 میں امریکہ اور تھائی لینڈ نے نوادرات کے حوالے سے اپنے مسئلے حل کیے۔ 

ڈانسنگ گرل پاکستان کا انمول ثقافتی ورثہ ہے جو سندھ کی زمین موئن جودڑو سے کھدائی کے دوران ملا تھا۔ بھارت سے اس کی واپسی کا مطالبہ ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔

ہماری تہذیب کی جو چیزیں بھی جہاں بھی ہیں ان کی واپسی کے لیے مطالبہ کرنا اور ان کی واپسی کے لیے کوشش کرنا ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ