کیا موئن جو دڑو سیلاب سے تباہ ہوا؟

1922 میں ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں کھدائیاں کیں تو موئن جودڑو دریافت ہو امگر آج سو سال گزرنے کے باوجود ماہرین اس کے رسم الخط کو سمجھنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے اس کی تاریخ کے کئی گوشے ابھی تک منظر عام پر نہیں لائے جا سکے۔

ماہرین کے مطابق موئن جو دڑو دنیا کا پہلا باقاعدہ اور منظم شہر ہے (ثاقب قیوم: کری ایٹو کامنز)

دریائے سندھ میں اٹک سے نیچے ایک قدیم قصبہ باغ ِ نیلاب ہے۔ اس قصبے میں دریائے سندھ 40 درجے کے زاویے سے مڑتا ہے وہیں پر دریا کے کنارے پر ایسی سینکڑوں چٹانیں بکھری پڑی ہیں جن پر عجیب قسم کے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بھاری بھرکم چٹانیں کہیں دور پہاڑوں سے بہہ کر آئیں۔ انہیں صرف سردیوں میں دیکھا جا سکتا ہے جب دریا میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی چٹانیں دریائے سندھ میں اس جگہ بھی موجود ہیں جہاں دیامر بھاشا ڈیم بنایا جا رہا ہے۔

یہ چٹانیں شاید وہیں سے بہہ کر تقریباً چار سو کلومیٹر نیچے کی جانب آ گئی تھیں۔ یہ خوفناک سیلاب کب آیا تھا اس حوالے سے تاریخ میں کوئی ذکر موجود نہیں۔ لیکن بار ہا ایسا ہوا کہ تودے گرنے اور زلزلوں سے پہاڑوں میں دریا کی روانی رکنے سے قدرتی ڈیم بن گئے پھر اچانک ان میں شگاف پڑا اور پانی کا ایسا خوفناک ریلا آیا جو سب کچھ بہا کر لے گیا۔ اٹک کے گزیٹیئر مطبوعہ 1930 کے صفحہ 46 پر درج ہے:

’اچانک شمالی علاقوں سے خبر آئی کہ شمالی علاقوں میں دریائے سندھ کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ ایک دن دوپہر کے وقت سیلاب آ گیا، یہ دن قیامت کا دن تھا، کھبل اور ستانہ کے لوگ ڈوب گئے۔ بارائی میں کوئی نہیں بچا، ایک چوتھائی تربیلا بہہ گیا۔ جزیروں میں جو بھی زندگی تھی بچائی نہ جا سکی۔ دریا نے دریائے کابل کو بھی پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ جب سیلاب اٹک کے پہاڑوں سےٹکرایا تو چار ہزار جانیں ضائع ہو گئیں۔ سیلاب کی لہریں چارسدہ تک جا پہنچیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تباہ کن سیلاب 1841 میں آیا تھا۔ دریائے سندھ کے پانیوں نے اس قسم کے منظر تاریخ میں کئی بار دیکھے ہوں گے۔ اگر آپ اٹک کی تحصیل جنڈ سے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کالا باغ کی طرف سفر کریں تو اس نیم پہاڑی علاقے میں آپ کو ایسا گول پتھر ملتا ہے جو دریا کی تہہ میں پایا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پتھر کہاں سے آیا؟ دریا تو پہاڑیوں کے دوسری طرف ایک تنگ درے میں بہتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ دریا میں اچانک اتنا پانی آیا تھا کہ یہ پہاڑیوں کے اوپر سے بھی باہر آگیا تھا؟ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہوا ہو؟

موئن جو دڑو کی تباہی کو بھی کئی ماہرین ایک تباہ کن سیلاب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس وقت دریا شہر کے کنارے آباد تھا جبکہ آج دریا شہر سے تین کلومیٹر کی دوری پر بہتا ہے۔ نیشنل جیو گرافک کی ایک ڈاکومنٹری میں موئن جو دڑو کو دنیا کا پہلا باقاعدہ شہر قرار دیا گیا ہے۔ یہ شہر اڑھائی ہزار سال قبل قبل مسیح تک 500 ایکڑ پر آباد تھا جو آج کے ویٹی کن سٹی سے پانچ گنا بڑا تھا۔ اسی دور میں دریائے نیل کے کنارے اہرام مصر تعمیر ہو رہے تھے۔

یہ شہر دو حصوں پر مشتمل تھا۔ بالائی شہر اور زیریں شہر، بالائی شہر بڑی بڑی عمارات پر مشتمل تھا جس میں 900 مربع فٹ کا ایک سوئمنگ پول بھی تھا جس کو دریائے سندھ کے پانی سے بھرا جاتا تھا۔ تمام گھر ایک منظم سیورج سسٹم سے جڑے ہوئے تھے۔ شہر میں 700 کنویں موجود تھے۔ رومن باتھ 70 عیسوی میں بنائے گئے تھے جبکہ ان سے تقریباً اڑھائی ہزار سال پہلے موئن جو دڑو میں یہ موجود تھے۔

موئن جو دڑو کی ایک اور عجیب بات یہ بھی ہے کہ اس میں نہ کوئی مذہبی عبادت گاہ ملتی ہے نہ کوئی محل ہے نہ ہی کوئی شاہی مقابر ہیں جس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ مصر اور میسو پوٹامیا کی طرز کا معاشرہ نہیں تھا بلکہ اس کی بنیادیں مساوات اور جمہور پر استوار تھیں۔ یہاں تک کہ اس کا زیریں شہر جہاں 20 سے 40 ہزار لوگ بستے تھے وہاں بھی دو سے تین منزلہ گھر تھے جو ایک ترتیب سے بنے ہوئے تھے جن کی گلیاں پختہ تھیں۔ پھر ایک دن یہ شہر کسی خوفناک سیلاب کی نذر ہو گیا۔

1922 میں ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں کھدائیاں کیں تو موئنجودڑو دریافت ہو امگرآج سو سال گزرنے کے باوجود ماہرین اس کے رسم الخط کو سمجھنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے اس کی تاریخ کے کئی گوشے ابھی تک منظر عام پر نہیں لائے جا سکے۔

 موئن جو دڑو کی زندگی کیسی تھی اور پھر یہ شہر صفحہ ہستی سے کیسے مٹ گیا؟ اس حوالے سے بالی وڈ کی ایک فلم ’موئن جو دڑو‘ کے نام سے 2016 میں منظر عام پر آئی تھی جسے اشوتوش گواریکر نے لکھا تھا جبکہ سدھارتھ رائے اس کے پروڈیوسر تھے۔

اس میں بتایا جا تا ہے کہ ہڑپہ کا تاجر جو سونے کی تجارت کرتا ہے وہ موئن جو دڑو پر قابض ہو جاتا ہے۔ ایک روز وہ منصوبہ بناتا ہے کہ اگر ہم شہر سے پہلے دریا پر بند باندھ دیں تو دریا سے جتنی مقدار میں سونا اب نکلتا ہے بند باندھنے کے بعد وہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے دریا پر بند باندھ کر اسے روک لیا جاتا ہے جس کی ایک سمت سے نہر نکالی جاتی ہے۔ پھر ایک دن دریا میں اتنا پانی آتا ہے کہ بند ٹوٹ جاتا ہے اور پانی شہر کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس فلم کی کہانی فلمی ہی ہے، لیکن بہرحال ماہرین آثار قدیمہ کی اکثریت اسی نظریے کو مانتی ہے کہ موئن جو دڑو سیلاب سے ہی تباہ ہوا تھا۔

اس حوالے سے موئن جو دڑو کے ڈائریکٹر کنزرویشن سید شاکر علی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں جتنے بھی ماہرین نے کام کیا ان میں سے اکثریت کی رائے یہی ہے کہ پانی ہی اس شہر کی بربادی کا سبب بنا۔ جب 1988 میں یہاں پر ہم نے موجودہ دریا کے ساتھ کھدائیاں کیں جو شہر سے ہٹ کے ہے تو وہاں بھی موئن جو دڑو کے ہی آثار ملتے ہیں۔ 5000 سال پہلے جب یہ شہر آباد ہونا شروع ہوا تب سے لے کر 1950 ق م تک یہاں 40 ہزار لوگ آبادتھے دریا کے رخ بدلنے یا پھر سیلاب سے یہ شہر اتنا متاثر ہوا کہ پھر آباد نہ ہو سکا۔

ڈاکٹر نیلو فر شیخ خیر پور یونیورسٹی سندھ کے شعبہ آرکیالوجی کی سابق سربراہ اور وائس چانسلر ہیں۔ انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ موہنجو دڑو ایک شہر ہی نہیں ایک ریاست کا نام بھی ہے جس کی سرحدیں مکران کے ساحلوں سے گجرات، راجستھان اور دہلی تک پھیلی ہوئی تھیں، اس میں ہڑپہ کے علاوہ سکھر کے قریب ایک اور شہر کی باقیات بھی ملی ہیں جس کا نام لاکھن جودڑو ہے جو پانچ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ سب شہر ایک ہی دور میں معدوم ہوئے جس کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن میں سے ایک وجہ دریا کا رخ موڑنا بھی ہے۔ جس سے بتدریج ان کا معاش اس قدر متاثر ہوا کہ تجارت ختم ہو کر رہ گئی، لوگ ہجرت کر گئے۔ دریا جب کافی عرصہ ایک جگہ بہتا رہتا ہے تو ا س میں سلٹ جمع ہو جاتی ہے پھر اچانک جب کوئی تیز ریلا آتا ہے تو وہ اپنا رخ تبدیل کر لیتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ کم و بیش یہی وہ زمانہ تھا جب دریائے ہاکڑہ بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے خشک ہو گیا تھا۔ ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ موئن جو دڑو ایک تجارتی شہر تھا اور ا س کی زیادہ تر تجارت میسوپوٹامیا سے تھی۔ جب سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے وہاں سے قافلے رک گئے تو شہر کے تاجر کنگال ہو کر ہجرت کر گئے۔

کچھ ماہرین آثار قدیمہ یہ قیاس بھی کرتے ہیں کہ سندھ کی یہ تہذیب طویل جنگوں کے نتیجے میں تباہ ہوئی جیسا کہ ہندوؤں کی کتاب رگ وید میں لکھا ہے کہ 1500 ق م میں شمال سے آنے والے حملہ آوروں نے تباہی پھیلائی۔

1940  میں ایک ماہر آثار قدیمہ مورٹیمر ویلر نے یہاں کھدائیاں کیں تو انہوں نے 39 انسانی ڈھانچے دریافت کیے جو شاید کسی ایسی ہی جنگ کا نتیجہ ہوں مگر ماہرین اس لیے اس امکان کو رد کرتے ہیں کہ یہاں سے کوئی جنگی ساز وسامان بر آمد نہیں ہوا۔ پھر یہ کہ رگ وید لکھے جانے سے پانچ سو سال پہلے یہ شہر تباہ ہو چکا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ