ہر ریچھ کا بچہ ڈبو جیسا خوش قسمت نہیں ہوتا

ریچھوں کو پکڑنا، بیچنا اور کتوں سے لڑوانا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور حکام کی کوشش کے باوجود یہ بےرحمانہ کاروبار جاری ہے۔

ریچھ پاکستان میں معدومی کے خطرے سے دوچار جانور ہے (اے ایف پی فائل فوٹو)

ایک ریچھ کے گلے میں زنجیر بندھی ہے اور زنجیر کھونٹی سے بندھی ہوئی ہے۔ ارد گرد لوگ جمع ہیں اور بے تابی سے کسی کے منتظر ہیں۔ اتنے میں شور برپا ہوتا ہے اور لوگ تالیاں اور آوازیں لگا کے خیر مقدم کرتے ہیں۔

چند لوگ اس جگہ آتے ہیں اور ان کے ساتھ دو کتے ہیں۔ یہ عام کتے نہیں ہیں بلکہ ٹیریئر نسل کے کتے ہیں جو ہوتے ہی شکار کے لیے ہیں۔ پیسوں کا لین دین شروع ہوتی ہے اور تماشائی شرطیں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

پھر ان دونوں کتوں کو اس ریچھ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بندھا ہوا ریچھ آوازیں لگاتا ہے اور کتوں کا مقابلہ کم اپنے آپ کو بچانے کے لیے راہ فرار ڈھونڈنے کے لیے زیادہ کوششیں کرتا ہے۔

لیکن جب اس کو لگتا ہے کہ فرار کی کوئی راہ نہیں تو مقابلے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ کتے اس کو کاٹ رہے ہیں اور ایک نے اس کا کان پکڑ لیا ہے تو دوسرا پیچھے سے وار کرتا ہے۔

ریچھ کا بس چلتا ہے تو وہ کبھی ایک اور کبھی دونوں کتوں کو ہی اپنے نیچے دبوچ لیتا ہے۔ ایسی صورت میں کچھ لوگ آگے بڑھتے ہیں اور ریچھ کو ہلنے پر مجبور کرتے ہیں اور کتے دوبارہ نکل کر حملہ آور ہوتے ہیں۔

اس ریچھ کا نام ہے شیرِ پنجاب اور اس خونی اور غیر قانونی کھیل کوbear baiting یا ریچھ اور کتوں کی لڑائی کہا جاتا ہے۔ گذشتہ سال مارچ میں پولیس نے چھاپہ مار کر اس ریچھ سمیت چند افراد کو حراست میں لیا اور لگ بھگ 27 ہزار روپے جوئے کی رقم بھی ضبط کی جبکہ کتے اور اس کے مالک فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

تاہم شیر پنجاب اب پانجاب کے محکمہ جنگلی حیات کی نگرانی میں چڑیا گھر منتقل کردیا گیا۔

ریچھ اور کتوں کی لڑائی کا مقابلہ تین منٹ جاری رہتا ہے اور اگر کتوں کے حملے سے ریچھ زمین پر لوٹ جائے تو کتوں کو فاتح قرار دے دیا جاتا ہے۔

اس لڑائی میں ریچھ زخمی ضرور ہوتا ہے لیکن اس کو اتنا زخمی نہیں ہونے دیا جاتا کہ وہ مر جائے کیونکہ ریچھ بہت مہنگا ملتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ ریچھ ایک ہی روز میں دس لڑائیاں کھیل کے نام پر لڑتے ہیں۔

لیکن ابھی بھی بہت سے ریچھ ہیں جن کو اس کھیل میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یورپ میں ریچھ اور کتوں کی لڑائی 12ویں صدی سے 19ویں صدی تک بہت مقبول تھی۔ برطانیہ میں ریچھوں کو صرف اور صرف اسی مقصد کے لیے پالا جاتا تھا۔

رپورٹوں کے مطابق 1575 میں ملکہ الزبتھ نے ایک تقریب میں شرکت کی جس کے لیے 13 ریچھ مہیا کیے گئے جو ریچھ اور کتوں کی لڑائی کے لیے تھے۔

اس خونی کھیل کی مقبولیت میں 17 ویں صدی کے آخر میں کمی ہونی شروع ہوئی اور برطانوی پارلیمنٹ نے 1835 میں اس کھیل پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

اس خطے میں یہ خونی کھیل انگریزوں نے 18 ویں صدی میں متعارف کرایا تھا۔ اگرچہ دیگر ممالک میں تو اس کھیل کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کر دیا گیا لیکن پاکستان میں یہ کھیل غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود اب بھی کھیلا جاتا ہے۔

صوبہ پنجاب اور سندھ کے زمیندار مقامی آبادی کی تفریح اور ان کو متاثر کرنے کے لیے یہ کھیل منعقد کراتے ہیں۔ وہ کھیل جو 1980 میں انسدادِ بےرحمیِ حیوانات قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا۔

تاہم یہ کھیل جاری رہا اور پھر 2001 میں صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے اس کھیل پر پابندی لگا دی۔ لیکن صوبہ سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ ریچھ اور کتوں کی لڑائی کا آخری سرعام مقابلہ 2016 میں ہوا تھا۔

آئے روز سوشل میڈیا پر اس کھیل کے حوالے سے ویڈیو شیئر ہو رہی ہوتی ہیں۔

گذشتہ سال سندھ کے محکمہ جنگلی حیات نے ’ہوپ‘ یعنی امید نامی ریچھ کو کراچی کے علاقے لیاری میں سرکس میں استعمال کیے جانے والے ریچھ کو بازیاب کرایا۔

نام کے برعکس اس بیچارے ریچھ کو کتوں کے ساتھ لڑائی میں استعمال کیا جاتا رہا جس کے نتیجے میں وہ تین ٹانگوں اور ریڑھ کی ہڈی سے معذور ہو گیا۔

لیکن ہوپ کا علاج کیا گیا اور وہ کافی بہتر ہے۔ محکمے نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق سندھ میں تین ریچھ ایسے ہیں جن کو اس خونی کھیل کے لیے پالا گیا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔

حال ہی میں ڈبو نامی ریچھ کے بچے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم سے راولپنڈی میں ایک خاتون کو بیچا گیا۔ ان خاتون نے مبینہ طور پر اس ریچھ کے بچے کو بچانے کی خاطر 40 ہزار میں خریدا۔

اس بچے کی موجودگی کا علم ایک ٹک ٹاک ویڈیو سے منظر عام پر آئی۔ محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے ڈبو کو اپنی تحویل لیا اور اس خاتون کو عدالت میں پیش کیا جن پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔

ریچھ کے بچے کو 40 ہزار روپے دے کر خریدا جانا ہی اس شخص کی حوصلہ افزائی تھی کہ وہ آئندہ بھی پیسوں کے لیے اس طرح جانوروں کے بچے پکڑے اور انہیں بیچے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریچھ کا شمار ملک میں ان جانوروں میں ہوتا ہے جن کو خطرات لاحق ہیں اور اس کی خرید و فروخت جرم ہے کسی عام شہری کو اس کو اپنے پاس رکھنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں ہے۔

پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کا تھرڈ شیڈول پروٹیکٹڈ اینیملز کا ہے جس کے مطابق ریچھ کو رکھنا، اس کا شکار کرنا ممنوع ہے۔

ریچھوں کے ٹھکانے وزیرستان کے علاقے سے لے کر گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان میں ہیں۔ پختونخوا کے علاقوں میں کالا ریچھ پایا جاتا ہے جبکہ انتہائی نایاب بھورا ریچھ گلگت بلستان میں۔ اس کے علاوہ مانسہرہ اور کوہستان میں بھی قابل ذکر تعداد میں ریچھ موجود ہیں۔

ریچھوں کا شکار کرنا، پکڑنا اور بیچنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور یہ کہنا غلط ہو گا کہ حکام اس حوالے سے کارروائی نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ کاروبار جاری ہے۔

جنگلی حیات کا کاروبار ایک منظم مافیا کے زیر نگرانی ہوتا ہے اور اس منظم مافیا اور غیر قانونی کاروبار کا مقابلہ حکام کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی مل کر کرنا ہے۔

اگر ایسا نہیں کیا گیا تو شیرِ پنجاب اور ہوپ جیسے کئی ریچھ اپنے قدرتی ماحول میں نہیں بلکہ کتوں کے ساتھ لڑائیاں لڑتے رہیں گے اور ہر ریچھ کا بچہ ڈبو جیسا خوش قسمت شاید نہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ