’خشابہ موسیقی‘ جس کے بغیر عراقی تقریبات ادھوری

عراقی شہر بصرہ میں مقیم اس موسیقی کے ماہر طبلہ نواز صلاح الملا کے مطابق ابتدا میں انہیں زیادہ پذیرائی نہیں ملی تھی، لیکن اب ان کی ٹیم کی مانگ بڑھ چکی ہے۔

آغاز میں طبلہ نواز صلاح الملا کو ہمسایوں کی جانب سے زیادہ پذیرائی نہیں ملی تھی اور لوگ انہیں بمشکل برداشت کرتے تھے۔

وہ عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں اپنے مقبول علاقے کی ایک تنگ گلی میں ریاض کرکے آدھی رات کے وقت ہمسایوں کو جگا دیا کرتے، لیکن آج ’خشابہ‘ موسیقی میں مہارت حاصل کرنے کے بعد خود ان کی اور ان کے موسیقاروں کی ٹیم کی عوامی تقریبات اور محافل موسیقی میں طلب بہت بڑھ چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی بیٹھک میں ساتھی موسیقاروں کے ساتھ ریاض کرتے ہوئے صلاح الملا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’خشابہ موسیقی پرانی ہے۔ اس کی تاریخ لگ بھگ 40 یا 50 کی دہائی تک جاتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ موسیقی اپنے سروں کی بدولت ممتاز ہے۔ آج کل اسے جنوبی عراق اور خلیجی ممالک میں بجایا جاتا ہے۔

خشابہ موسیقی کے لیے جو مقبول آلہ استعمال کیا جاتا ہے، وہ ’خشبہ‘ کہلاتا ہے۔ یہ ایک طبلہ ہوتا ہے جو لکڑی سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے یہ نام لفظ ’خشاب‘ سے ملا ہے۔ خشاب عربی زبان میں لکڑی کو کہتے ہیں۔

صلاح الملا نے خشابہ موسیقی کی تربیت اپنے والد سے حاصل کی۔ وہ 12 سال سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی