کروڑوں کی کوکین بہہ کر سمندر کے کنارے آ گئی

امریکی مسلح افواج کی خلا میں فرائض انجام دینے کے لیے تیار کی گئی سپیس فورس نے بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ کوکین سے بھرے درجنوں پیکٹ ریاست فلوریڈا کے مشرقی ساحل پر کیپ کیناورل کے مقام پر کنارے آ لگے۔

شیرف آفس نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کوکین کی قیمت لگ بھگ 12 لاکھ ڈالرز ہے (اے ایف پی فائل فوٹو)

امریکی مسلح افواج کی خلا میں فرائض انجام دینے کے لیے تیار کی گئی سپیس فورس نے بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ کوکین سے بھرے درجنوں پیکٹ ریاست فلوریڈا کے مشرقی ساحل پر کیپ کیناورل کے مقام پر کنارے آ لگے۔ اس منشیات کی قیمت 12 لاکھ ڈالرز ہے۔

نیوز چینل فوکس 13 کے مطابق 45 ویں سول انجینیئر سکواڈرن کی وائلڈ لائف مینیجر اینجی چیمبرز 19 مئی کو ساحل پر انڈے دینے والے سمندری کچھوؤں کا سروے کر رہی تھیں جب انہیں ایک پیکٹ ملا جسے ٹیپ اور پلاسٹک میں لپیٹا گیا تھا۔

پیکٹ میں منشیات ہونے کے شبے پر انہوں نے 45 ویں سکیورٹی فورس سکواڈرن سے رابطہ کیا۔

چیمبرز نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ’ان (سکواڈرن) کی آمد کے انتظار کے دوران میں نے گاڑی تھوڑی مزید آگے بڑھائی تو مجھے ایک اور پیکٹ نظر آیا اور اس کے بعد ایک اور۔

’اس موقعے پر میں نے ایس ایف ایس کو دوبارہ فون کیا اور انہیں اپنے ساتھ یو ٹی وی یا یوٹیلٹی ٹیرین وہیکل لانے کے لیے کہا کیونکہ میں نے 18 پیکٹ گن لیے تھے۔‘

بریورڈ کاؤنٹی شیرف آف کے نارکاٹکس ایجنٹ کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹ کے نتیجے میں پیکٹوں میں سے ایک میں کوکین کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپیس فورس سٹیشن فلوریڈا کے ساحل پر تقریباً 30 کلوگرام (66 پاؤنڈ) کوکین پائی گئی جسے 24 پیکٹوں میں بند کیا گیا تھا۔

شیرف آفس نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کوکین کی قیمت لگ بھگ 12 لاکھ ڈالرز ہے۔

کوکین کے پیکٹ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیے گئے، جنہوں نے ان پر موجود مخصوص شناختی نشانات کو تلاش کرنے کے لیے ان کا معائنہ کیا۔

ہوم لینڈ سکیورٹی سپیشل ایجنٹ ڈیوڈ کیسٹرو نے کہا کہ سمندر میں سرگرم منشیات کے سمگلر اکثر منشیات کو گانٹھوں کی شکل میں ایک سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سفر کے دوران بعض اوقات یہ گانٹھیں تباہ ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں منشیات سے بھرے پیکٹ پانی کی نذر ہونے کے بعد بالآخر امریکی ساحل پر پہنچ جاتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ