امیروں کا بجٹ؟

گاڑی غریب آدمی کے بس سے باہر ہے مگر اس پر سیلز ٹیکس کم کر دیا گیا لیکن غریب آدمی کی سواری موٹر سائیکل، سائیکل اور روز مرہ کی دوسری چیزوں پر سیلز ٹیکس برقرار ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین قومی اسمبلی میں مجوزہ بجٹ پیش کر رہے ہیں (اے ایف پی)

وزیر اعظم کے مشیر برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود نے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایا کہ حکومت نے انقلابی بجٹ پیش کیا ہے لیکن انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ انقلاب امیروں کا ہوگا یا غریبوں کا۔

پچھلے تین سال میں صرف مٹھی بھر لوگ امیر سے امیر تر ہوئے ہیں۔ اکثر لوگ غریب اور تنخواہ دار تو صرف قرضوں اور مہنگائی کا بوجھ اٹھانے کے لیے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں بلواسطہ ٹیکس کی مد میں محصولات کا 60 فیصد وصول ہوگا یعنی ٹیکس چوروں کو چھوٹ ہے اور عام آدمی سے ہر چیز پر سیلز ٹیکس لیا جائے گا۔

گاڑی غریب آدمی کے بس سے باہر ہے مگر اس پر سیلز ٹیکس کم کر دیا گیا لیکن غریب آدمی کی سواری موٹر سائیکل، سائیکل اور روز مرہ کی دوسری چیزوں پر سیلز ٹیکس برقرار ہے۔

امیر آدمی جو سٹاک ایکسچینج میں سٹا کھیل کر اپنا دل بہلاتا ہے اس کے لیے کیپٹل گین ٹیکس میں کمی کر دی گئی ہے لیکن عام آدمی کے لیے مہنگے تیل اور گیس کا عندیہ ہے۔ غرض جس طرح بھی دیکھیں یہ امیر آدمی کا بجٹ ہے۔

نااہلی اور نالائقی کا یہ حال ہے کہ محصولات کا تخمینہ لگاتے ہوئے مفروضات کا سہارا لیا گیا ہے۔ بیرون ملک پاکستانی زیادہ زرمبادلہ بھیجیں گے، صوبے ترقیاتی بجٹ بچا لیں گے، تیل کی قیمت کم ہو جائے گی، نقصان دہ سرکاری کمپنیاں بک جائیں گی، پانچ لاکھ پوائنٹ آف سیل مشینیں لگ جائیں گی اور ایف بی آر مزید فعال ہو جائے گا۔

یعنی حکومت کا ہر آدمی دن میں کام کرے اور رات کو مصلے پر بیٹھ کر دعا کرے گا کہ سارے مفروضات حقیقت بن جائیں تاکہ گلشن کا کاروبار چلے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیا بجٹ اپنی موجودہ حالت میں اس ملک کو مزید مشکلات کا شکار کرے گا۔ سیلز ٹیکس کو کم کیے بغیر شرح نمو کو تیزی سے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ ہم نے 8.5 فیصد کا مطالبہ کیا ہے۔ محصولات کا تخمینہ حقائق کی بنیادوں پر بنایا جائے۔ ہم نہیں سمجھتے کے پانچ ہزار ارب روپے سے زیادہ ٹیکس اکھٹا ہو سکتا ہے۔

بلواسطہ اور براہ راست ٹیکس کا تناسب 50 فیصد ہونا چاہیے حالانکہ یہ بھی تنخواہ دار پر بوجھ ہے مگر وہ پھر بھی اسے برداشت کر لیں گے۔

نقصان کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو فورا نجی سرمایہ کاروں کو بیچا جائے۔ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے اس لیے کے اس کا براہ راست اثر متوسط اور غریب طبقات پر پڑے گا۔

وقت کی ضرورت یہ ہے کہ حکومت ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ہم کسی صورت اس عوام دشمن بجٹ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

پی ڈی ایم، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کو بجٹ پر ایک متحدہ محاز بنانے کے لیے تجویز دی ہے۔ صرف اسی صورت میں ہم عوام کے مفاد کا تحفظ کر سکتے ہیں اور ملک کو مزید اقتصادی تباہی سے بچا سکتے ہیں۔

قوم اعداوشمار کے ہیر پھر سے تنگ آئی ہوئی ہے ان پر مزید بوجھ نہ ڈالیں تو بہتر ہے ورنہ عوام کے غصہ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارہ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ