فلسطین مخالف بیان: فیشن برانڈ زارا کے بائیکاٹ کی مہم

اگرچہ زارا کی ہیڈ ڈیزائنر وینیسا پرلمین نے معذرت کرتے ہوئے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا ہے لیکن اس کے بعد ہیش ٹیگ بائیکاٹ زارا ٹرینڈ کر رہا ہے۔

   کیلی فورنیا میں قائم فیشن برانڈ زارا کے ایک سٹور کے باہر لوگ لائن لگا کر اندر جانے کے انتظارمیں کھڑے ہیں (فائل فوٹو:اے ایف پی )

سپین کے معروف فیشن اور میک اپ برانڈ ’زارا‘ کی ایک سینیئر ڈیزائنر کے اسرائیل کی حمایت میں اور فلسطینی ماڈل کی تضحیک پر مشتمل پیغامات کے نتیجے میں فیشن برانڈ کے بائیکاٹ کی مہم کا آغاز ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’بائیکاٹ زارا‘ ٹرینڈ کررہا ہے۔

اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب فلسطینی نژاد ماڈل قاہر نے وینیسا پرلمین نامی زارا کی ہیڈ ڈیزائنر کے فلسطین مخالف بیانات کو اپنی انسٹا سٹوری کے طور پر پوسٹ کیا۔

قاہر کی انسٹا سٹوری میں لگائے جانے والے بیانات کے مطابق وینیسا پرلمین قاہر سے کہہ رہی ہیں کہ ’آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل ایک خوفناک بلا جیسا ملک ہے جو فلسطینیوں کے ساتھ بری طرح پیش آتا ہے۔ اوہ میرے خدا مجھے الٹی آ رہی ہے۔‘

فلسطینی ماڈل قاہر کی انسٹا سٹوری کے مطابق وینیسا پرلمین نے کہا کہ ’یہ سب جھوٹ ہے اور میری انڈسٹری میں سب کو اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں معلوم ہے اور میں اسرائیل کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ آپ جیسے لوگ آتے اور جاتے رہیں گے لیکن جیسے یہودی ہولوکاسٹ سے بچ نکلے اسی طرح اس میڈیا کی خرافاتی کرتب بازی سے نکل آئیں گے، جو آپ پوسٹ کر رہے ہیں۔‘

اس پیغام میں یہ بھی درج تھا کہ اگر فلسطینی پڑھے لکھے ہوتے تو وہ ان سکولوں اور ہسپتالوں کو بم مار کر تباہ نہ کرتے، جنہیں بنانے کے لیے اسرائیل نے مالی مدد کی ہے۔

وینیسا پرلمین نے قاہر کو کہا کہ ’یہ کتنی مضحکہ خیر بات ہے کہ آپ ماڈل ہیں، جو کہ درحقیقت مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف ہے۔ اگر آپ کسی بھی مسلمان ملک میں اپنی الماری سے باہر نکلے تو آپ کو سنگسار کر دیا جائے گا۔‘

اس کے علاوہ قاہر نے اپنی اور وینیسا پرلمین کی چیٹ بھی پوسٹ کی، جس میں وینیسا نے لکھا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس سے تنگ آچکی ہیں، جس میں اسرائیل مخالف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔

قاہر کی اس سٹوری کے پوسٹ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر وینیسا پرلمین اور زارا کے خلاف ٹویٹس اور پوسٹس کی جانے لگیں جبکہ فلسطین مخالف بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے فیشن برانڈ زارا کو بذریعہ ای میلز اور ٹویٹس ہیڈ ڈیزائنر کی شکایات بھی کیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعدازاں زارا نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے، تاہم برانڈ کا کہنا تھا کہ وینیسا اور قاہر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹس کے ذریعے تبصروں کا تبادلہ کیا تھا، لہذا قاہر سے رابطہ کرکے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی شکایت اسے انباکس کریں۔

دوسری جانب وینیسا پرلمین نے بھی معذرت کرتے ہوئے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا ہے لیکن ہیش ٹیگ بائیکاٹ زارا ٹرینڈ کر رہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین برانڈ کے بائیکاٹ کے حق میں ٹویٹس کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین کا مطالبہ ہے کہ زارا اس معاملے پر معافی مانگے اور فلسطین سے متعلق اپنی پالیسی واضح کرے۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نوران نے اس معاملے کی تفصیل ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہے۔

سوشل میڈیا صارف نتاشا خان نے لکھا کہ ’زارا کی ہیڈ ڈیزائنر نے اس فلسطینی ماڈل کو نفرت انگیز پیغامات بھیجے جو فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے۔‘

عبیداللہ نامی صارف نے لکھا کہ ’یہی وقت ہے کہ زارا کا بائیکاٹ کیا جائے اور فلسطین کے لیے اٹھ کھڑا ہوا جائے۔‘

صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ عرب دنیا اور ترکی کے چند ذرائع ابلاغ نے بھی اس معاملے پر خبریں شائع کی ہیں۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف کلوپسیا نے ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے پرلمین کے اس بیان کے تناظر میں چند تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ وینیسیا پرلمین نے قاہر کو کہا تھا کہ اسرائیلی اپنے بچوں کو پتھر مارنا نہیں سکھاتے۔ کلوپسیا نے جو تصاویر پوسٹ کی ہیں ان میں پرلمین کی تصویر کے ساتھ ایک اور تصویر ہے جس میں اسرائیلی اور فلسطینی بچے دکھائے گئے ہیں۔ 

ثمرہ خان نامی صارف نے ٹویٹ کیا کہ ’ہم فلسطینیوں کی مدد کے لیے سب کچھ کریں گے۔ اس نام نہاد برانڈ زارا کی کیا قیمت ہے۔‘   

 

 عبدالحجازی نامی صارف نے زارا کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے لکھا: ’یہ وقت ہے کہ ان کو سبق پڑھایا جائے کہ دوسروں کے ایمان اور اعتقاد کی عزت کرنی چاہیے۔‘ 

  

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ