’دسمبر میں مجسمے بننا ممکن نہیں تھا، کوئٹہ سے کام کرنے سبی گیا‘

عبدالستار ایدھی کے اس مجسمےکی اونچائی 17 فٹ کے قریب اور اس کی تیاری میں فائبر گلاس کا استعمال کیا گیا ہے۔

کسی بھی معاشرے میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے زندگی وقف کرنے والوں کو یاد کرنے کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف اور ان کو رہتی دنیا تک امر کرنا ہوتا ہے۔

ایک معمولی لباس اور چپل پہنے لوگوں کی خدمت کرتے ایسے ہی ایک شخص کو پاکستان کے ہر شہر میں دیکھا گیا۔ جو لوگوں کی بے لوث خدمت کرتے کرتے جہاں سے رخصت ہوگیا۔ یہ شخصیت عبدالستار ایدھی بہت سے لوگوں کے آئیڈیل بنے جن میں بلوچستان کے معروف مجسمہ ساز اسحاق لہڑی بھی شامل ہیں۔

اسحاق لہڑی بنیادی طور پر بلوچستان کی ثقافت اور کلچر کو مجسموں کے ذریعے فروغ دیتے آئے ہیں۔ لیکن ان کو جب عبدالستار ایدھی کی رحلت کی خبر ملی تو انہوں نے انہیں یاد کرنے اور یہاں کےلوگوں کے دلوں میں موجود رکھنے کے  لیے ایک منصوبہ بنایا۔

اسحاق کے بقول: میں عبدالستار ایدھی کو ان کا قد آور مجسمہ بنا کر خراج تحسین پیش کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ کام اس وجہ سے مشکل تھا کہ میرے پاس اس کام کے لیے وسائل نہیں تھے۔

اس بات کو کئی سال گزر گئے لیکن اسحاق لہڑی مجسمے کے حوالے سے منصوبہ بناتے رہے اور سوچتے رہے کہ کس طرح اس کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ گذشتہ سال کی بات ہے کہ میں نے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹیو کے چیف ایگزیکٹو عزیز جمالی سے ملاقات کے دوران اس بات کا تذکرہ کیا کہ میرا ایک خواب ہے کہ میں عبدالستار ایدھی کا ایک بہت بڑا مجسمہ بناؤں۔

اسحاق لہڑی کے مطابق ’جب میں نے عزیز جمالی کو بتایا کہ میرا یہ خواب ہے لیکن اس کے لیے میرے پاس وسائل نہیں ہیں کیوں کہ جو میں نے سوچا ہے اس پر بہت خرچ آئے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’عزیز جمالی نے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے لیے وسائل مہیا کرنے کے لیے فنڈز مہیا کریں گے۔‘

اس طرح اسحاق لہڑی کو عبدالستار ایدھی کے مجسمے کے لیے ایک ایسے شخص کی مدد حاصل ہوگئی جو سمجھتے ہیں کہ عبدالستار ایدھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہ بہت مثبت اقدام ہے۔

اسحاق لہڑی نے بتایا کہ ’اس طرح میرے خواب کی تکمیل کی طرف پیش رفت شروع ہوئی اور فنڈز کی فراہمی کے ساتھ میں نے اس کو حقیقت کا روپ دینے کا سوچا۔‘

مجسمے کے لیے ابتدائی کام مٹی سے کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے سرد موسم نامناسب ہے۔ اسحاق لہڑی کو بھی جب عبدالستار ایدھی کے مجسمے کا کام سونپا گیا اس وقت کوئٹہ میں دسمبر کا مہینہ تھا اور سردی کا موسم تھا۔

اسحاق لہڑی مزید کہتے ہیں کہ ’جب میں نے کوئٹہ میں کام شروع کیا تو یہ مشکل تھا اور مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آرہے تھے۔ جس پر ہم نے اس کو کسی گرم علاقے منتقل کرنےکا سوچا  اور اس کے لیے سبی کا انتخاب کیا گیا۔‘

عبدالستار ایدھی کے مجسمے کو بنانے کے لیے اسحاق لہڑی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سبی شہر کا رخ کیا اور وہاں انہوں نے دن رات لگا کر ایک دیو ہیکل مجسمہ بنانا شروع کیا۔

آہستہ آہستہ یہ شاہکار مجسمہ بنتا رہا اور تین مہینے کی سخت محنت اور بہت سی مشکلات کے بعد اس کی خوبصورتی نکھرتی رہی۔

اسحاق لہڑی نے بتایا کہ ’میرا مقصد عبدالستار ایدھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ان کی شخصیت اور کام کو لوگوں میں اجاگر کرنا ہے۔ تاکہ ہمارے لوگ اس بات سے باخبر ہوں کہ عبدالستار ایدھی جیسے لوگوں نےاپنی ساری زندگی لوگوں کی خدمت کرتے گزاری جنہیں یاد رکھا ہمارا فرض ہے۔‘

کوئٹہ کے زمانہ قدیم میں زرغون روڈ پر ٹھںڈا سڑک کہلائی جانے والے شاہراہ جواب ریڈ زون بن چکی ہے اور عام لوگوں کے لیے یہاں سے گزرنا ممنوع ہے، کے آغاز میں نصب کیے جانے والے عبدالستار ایدھی کے اس مجسمےکی اونچائی سترہ فٹ کے قریب اور اس کی تیاری میں فائبر گلاس کا استعمال کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسحاق لہڑی کہتے ہیں کہ ’نہ صرف یہ مجسمہ میرے خواب کی تکمیل ہے بلکہ میں ہمارے معاشرے میں موجود اور رحلت کر جانے والے لوگوں کے بھی مجسمے بنانے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں، جن میں ڈاکٹر ادیب رضوی اور ڈاکٹر روتھ فاؤ شامل ہیں۔‘

عبدالستار ایدھی کے اس قد آور مجسمےکو بنانے کے لیے پی پی ایچ آئی بلوچستان کی طرف سے اسحاق لہڑی کو چھ لاکھ روپے کی مالی معاونت ملی جبکہ اس پر کل دس لاکھ روپے  خرچ ہوئے جو اسحاق لہڑی نے اپنے جیب سے خرچ کیے۔

کام کے دوران کس قسم کے مشکلات کا سامنا رہا؟

یہ مجسمہ جہاں اپنی نوعیت کا بڑا مجسمہ ہے۔ اس کو بنانے میں اسحاق لہڑی کو مسلسل کام کے بعد بھی تین مہینے لگے۔ وہاں اس دوران ان کی طبیعت ایسی خراب ہوئی کہ وہ کئی دن تک کام کرنے سے قاصر رہے۔

اسحاق لہڑی کا کہنا ہے کہ ’جب میں یہ مجسمہ بنا رہا تھا تو اس دوران میرے سینے میں انفیکشن ہوگیا اور صورتحال ایسی ہوگئی کہ مجھے لگا کہ شاید یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’چونکہ یہ میری لگن تھی اس لیے میں نے سوچا کہ مجھے بیماری کے باوجود اس کام کر مقررہ وقت تک مکمل کرنا ہے۔ میں اس دوران ایک مہینے تک شدید تکلیف میں رہا لیکن میں نے اس کام کو جاری رکھا اور اسے پایا تکمیل تک پہنچا کر دم لیا۔‘

اسحاق لہڑی نے ابتدا میں بلوچستان کی ثقافت اور تاریخ سے مطابقت رکھنے والے اونٹ اور دیگر مجسمے بنائے۔ جن کو بنانے میں ان کو مہارت بھی حاصل ہے۔ اس قسم کا مجسمہ بنانے کا ان کا یہ پہلا تجربہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے معاشرے میں مجسمہ سازی کے فن کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ دوسری جانب مجسمے بنانے والے فن کاروں کو اس طرح کی پذیرائی نہیں ملتی اور انہیں روزگار کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان اس فن کا ماہر ہونے کےباوجود مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔‘

ان کا حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہنا تھا ’کہ اگر مجسمہ سازی کے فن سے وابستہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ حاصل کرکے انہیں کوئٹہ کی خوبصورتی کا کام سونپا جائے تو کوئٹہ شہر کی ایک نئی تصویر دنیا کے سامنے آئے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن