خواتین میں کھڑے مرد اراکین اسمبلی کی غلیظ گالیاں

جب کسی رکن پارلیمنٹ نے خاتون رکن اسمبلی پر نازیبا جملے کسے تو اس کی اپنی جماعت کی کسی خاتون نے واک آؤٹ نہیں کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر جماعت کی خاتون کو نازیبا جملے سننے پڑے۔

قومی اسمبلی کےبجٹ اجلاس میں شرح نمو سمجھاتے ہوئے ایک حکمراں جماعت کے رکن  کا انداز (ویڈیو گریب سوشل میڈیا)

بجٹ ملک میں ترقی کی شرح اور عوام کو ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس سال بھی ترقی کے اشاریوں کے شور میں عوام دوستی کا دعویٰ کرتے حکومت نے وفاقی بجٹ پیش کیا۔

اس سے قبل عوام الناس اس بجٹ پر کوئی رائے قائم کرتے ان کو معیشت کے داؤ پیچ سمجھانے کے لیے ان کے نمائندوں نے ملک کے اعلیٰ ترین ایوان کو تعلیم بالغاں کے عام کلاس روم میں بدل دیا۔ گالی گلوچ، ہاتھا پائی، ایک دوسرے پر بجٹ کی کاپیاں مار مار کر عوام کو معاشی پالیسی کے اسرار و رموز پڑھائےجانے لگے۔

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے حکومتی دعوؤں کی گونج کو کسی حد تک دبا دیا۔۔ سیٹیاں بجانے والے سیٹیاں بجا رہے تھے اور جمہوریت سوچ رہی تھی کہ جمہوری حق میں کتوں بلوں کی سرکار کہنے کو بھی شامل کیا جائے یا اس کو حذف کیا جائے۔

چور چور نعروں کے جواب میں حکومتی بینچز میں بلو رانی کے جملے کسنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ خواتین بھی باغ باغ ہو گئیں سیاسی سکور بازی میں انہیں اپنی صنف کو کمزوری سمجھے جانے پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوا۔ بجٹ اجلاس میں وہ سب ہوا جس پر جمہوریت سر پکڑ کر بیٹھی ہے اور جمہور آنکھیں پھاڑ کے اپنے حق رائے دہی کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔  

ماں بہن کی ننگی گالیاں دیتے منتخب نمائندے اپنے ووٹرز کو انوکھے انداز میں سمجھا رہے ہیں کہ شرح نمو میں اضافہ کیسے ان کی زندگیاں بہتر کرنے والا ہے ۔۔۔ایک دوسرے کا گریبان پکڑے وہ غریب عوام کو معاشیات کے اعدادو شمار کا گورکھ دھندہ سمجھا رہے ہیں۔

بتا دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کی سکیمیں ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنے سے منظور ہوتی ہیں۔

خواتین اراکین کے بیچ میں کھڑے مرد اراکین اسمبلی جس طرح غلیظ گالیاں دے رہے ہیں پیٹرول کی قیمتوں کو شرمندہ ہو کر کم ہو جانا چاہیے۔ جس طرح خواتین جتھے بن کر ایک دوسرے پر جھپٹ رہی ہیں یہ لپک دیکھ کر بجلی کی قیمت کو آسمان سے اتر کر زمین کے ساتھ لگ جانا چاہیے۔

ایک دوسرے کو آنکھوں آنکھوں میں چبانے جیسے تاثرات کے ساتھ غصے سے جھاگ اڑاتے چہرے، گالی گلوچ پر دانت نکالتے پڑھے لکھے لیڈر، پھبتیوں کو انجوائے کرتے سفید پوش اور وضع دار سیاسی اکابرین ... یہ تمام مناظر دیکھتے عوام کو امید ہو چلی ہے کہ اس بجٹ سے ان کی زندگی میں بہتری آ کر رہے گی۔

 کروڑوں روپیہ خرچ کر کے تیار کی گئیں بجٹ کاپیاں ڈسک بجانے، غلیل اور پتھر کا کام کر سکتی ہیں یہ بھی عوام کا حوصلہ بڑھانے والی بات ہے۔ تاک تاک کر مردو خواتین کے منہ اور سر پر بجٹ کی کاپیاں مارتے ہمارے لیڈرز نے ماہرین معاشیات کے سارے اندازوں کو غلط ثابت کیا اور ملکی ترقی کے لیے نئے استعارے ڈھونڈھے۔

اتنی محنت سے بجٹ پر بحث کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ منتخب نمائندوں کو عوام کے مسائل سے مکمل آگاہی ہے اور ان کے حل کے لیے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے وہ جائیں چاہے وہ حد بےشرمی اور بدتمیزی کی ہو۔

اس ہلڑ بازی اور بدتمیزی کا الزام کسی ایک جماعت کو دینا ناانصافی ہو گی۔ تھڑے کی زبان کو پارلیمان میں جب بھی بولا گیا لوگوں کے چہروں پر ایک لطف بھری مسکراہٹ آ گئی۔

جب بھی کسی ایک جانب سے دوسرے کی پگڑی اچھالی گئی کوئی بھی مائی کا لال اپنی جماعت کے کسی بندے کے خلاف کھڑا ہو کر احتجاج کرتا نہیں دیکھا گیا نتیجہ یہ نکلا کہ سب کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔

جب کسی رکن پارلیمنٹ نے خاتون رکن اسمبلی پر نازیبا جملے کسے اس کی اپنی جماعت کی کسی عورت نے واک آؤٹ نہیں کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر جماعت کی عورت کو نازیبا جملے سننے پڑے۔

اس سارے ہنگامے میں کچھ سنجیدہ سوال بھی جواب کے متلاشی ہیں۔ یہ وہ ایوان ہیں جہاں معاشرے کے ہر طبقے، ریاست کے ہر فرد کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانیوں کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔

یہاں ہر طبقے کی عزت، جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پورے ملک سے نمائندے منتخب کر کے بٹھائے جاتے ہیں۔ اب سوچنے کی بات ہے جن لوگوں کو بلو رانی کی پھبتی پر ہنسی آئی وہ کیسے یہ دعویٰ کریں گے کہ وہ صنفی بنیادوں کو لوگوں کو برابر عزت اور حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔

اسی ایوان میں جب شیریں مزاری کو نازیبا کلمات کہے گئے تو اس وقت کے حکومتی بینچز پر بیٹھے لوگوں کی بھی ہنسی ایسے ہی نکلی تھی۔ ایوان وہی ہے لوگ وہی ہیں رویے بھی وہی ہیں بس بینچ تبدیل ہو گئے ہیں۔

اب طوفان بدتمیزی کے بعد ہر کوئی اپنے آپ کو وضع دار اور دوسرے کو بدتہذیب ثابت کرنے کے لیے بہت مہذب انداز میں پریس کانفرنس پہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ کس نے پہل کی کس نے جواب دیا؟ کیا واقعی یہ ایک اہم سوال ہے؟

یا تو پہل کرنے والے کو جواب دینے والے کہتے کہ دیکھو یہ کیا کر رہے ہیں ہم اس زبان میں جواب دینا توہین سمجھتے ہیں، ہم اس ایوان کے تقدس کو ایسے پامال نہیں کرنے دیں گے۔ مگر افسوس پہل کرنے والے اور جواب دینے والے ایسے گتھم گتھا ہوئے کہ سب ایک ہی تصویر میں جڑ گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے بےشرم محمود و ایاز۔

اب رہ گیا معاملہ مرد اراکین اسمبلی کے درمیان مغلظات بھرے مکالمے کا۔ تو اسے بدتہذیبی نہ کہا جائے یہ تو ن لیگی ایم این اے شیخ روحیل اصغر نے پنجاب کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے خصوصی طور پر قدم لیا اور جواب میں پی ٹی آئی کے علی نواز اعوان نے بھی کارخیر میں حصہ ڈالا۔۔۔اب کلچر کے نام پر جہاں جہاں ظلم و زیادتی ہوتی ہے وہاں مظلوم خوفزدہ ہیں کہ گالی کے کلچر کو ایوان میں متعارف کرا کر شرمندہ نہ ہونے والے ہمارے نمائندے کل خدا نخواستہ کلچر کے نام پر قتل و غارت کی حمایت میں نہ کھڑے ہو جائیں۔

جناب تھڑے پر بیٹھے لچے اور عوام کے مقدس ووٹ سے منتخب ہو کو آنے والوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔ ورنہ ملک میں تھڑے بہت ہیں لوگ اپنے مسائل کا حل اپنی پنچایتوں میں ماں بہن کو قربان کر کے ڈھونڈ لیں گے۔ پھر اتنی بڑی تعداد میں ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ملکی خزانے سے پالنے کی کیا ضرورت ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ