کیا افغانستان میں ترک فوج کی موجودگی سے کشیدگی بڑھے گی؟

صدر بائیڈن سے ملاقات کے موقعے پر ترک صدر نے کہا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں استحکام لانے والا واحد ’قابل اعتماد ملک‘ ترکی ہے۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے جو بائیڈن نے اردوان کی ایک ’آمر‘ کی حیثیت سے مذمت کی تھی اور اپریل میں سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آرمینائی نسل کے افراد کے مبینہ قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا تھا( اے ایف پی)

امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان حکومت کو درپیش مشکلات میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر واشنگٹن نے ترکی کی جانب سے کابل کے ہوائی اڈے کو محفوظ بنانے کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انقرہ کی اس پیشکش کے بعد امکان ہے کہ امریکہ کے نیٹو اتحادی ملک ترکی کے ساتھ تعلقات میں ایک بار پھر گرم جوشی پیدا ہوجائے گی جو صدر بائیڈن کے پیش رو ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان اور جو بائیڈن کی امریکی انتخابات کے بعد برسلز میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقعے پر پیر کو ہونے والی ملاقات میں کابل ہوائی اڈے کی سکیورٹی کے بارے میں ’تفصیلی گفتگو‘ ہوئی ہے۔

سلیوان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اس معاملے میں مل کر کام کریں گے۔‘

سلیوان نے مزید کہا کہ ’ہم نے دو ٹیمز کو اس حوالے سے حتمی تفصیلات پر کام کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ لیکن دونوں رہنماؤں نے واضح طور پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ترکی کابل کے ’حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے‘ کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔‘

سلیوان کا کہنا تھا کہ ’اگر ترکی کے ساتھ اس منصوبے پر پیش رفت ہوتی ہے تو امریکہ بھی سکیورٹی کنٹریکٹرز کو شامل کرنے کے لیے ہنگامی منصوبے بنا سکتا ہے۔‘

تاہم افغان طالبان گذشتہ دنوں واضح کر چکے ہیں کہ انہیں ترکی سمیت کسی غیر ملکی افواج کی افغانستان میں موجودگی قابل قبول نہیں ہو گی۔

بائیڈن نے رواں سال 11 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں سالگرہ تک افغانستان سے تمام امریکی افواج کے انخلا کا حکم دیا ہے۔ تاکہ امریکہ کی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ صدر بائیڈن کو یقین ہے کہ اس کے بعد اور کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

ترکی نے، جو ایک مسلم اکثریتی ملک اور مغربی اتحاد کا رکن بھی ہے، 2001 سے افغانستان میں غیر جنگی کردار ادا کرنے کے لیے فوج بھیجنے سمیت اہم کردار ادا کیے ہیں۔

حال ہی میں انقرہ نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ملک کے مستقبل کے لیے ہونے والے مذاکرات کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔

صدربائیڈن سے ملاقات کے موقعے پر ترک صدر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ترکی اس انخلا کے بعد افغانستان میں استحکام لانے والا واحد ’قابل اعتماد ملک‘ ہے۔

صدر اردوان نے کہا کہ ترکی کو ’کچھ خاص قسم کی مدد‘ درکار ہے اور بائیڈن نے انہیں یہ معاونت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں امریکہ اور ترکی کے مابین کشیدگی میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان تلخ تعلقات کی وجوہات میں ترکی کی روس سے ایس-400 دفاعی نظام کی خریداری اور شام میں امریکی اتحادی کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے جو بائیڈن نے اردوان کی ایک ’آمر‘ کی حیثیت سے مذمت کی تھی اور اپریل میں سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آرمینائی نسل کے افراد کے مبینہ قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

سال 2001 کے بعد امریکہ اور جاپان کی مدد سے تعمیر کیا جانے والا کابل ہوائی اڈہ اقتصادی لحاظ سے افغانستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس ماہ کے شروع میں طالبان نے خبردار کیا تھا کہ افغان قوم کو ہی ہوائی اڈوں سمیت ’افغان سرزمین کے ہر ایک انچ‘ کو کنٹرول کرنا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کار قادر خان یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’ترک افواج کی موجودگی میں مزید اہلکاروں کی آمد اور امریکہ کی لاجسٹک سمیت دیگر امور میں مدد پر افغان طالبان و ترک افواج کا ٹکراؤ ممکن ہے کیونکہ افغان طالبان کسی بھی امریکی اعلیٰ عہدے دار کی کابل آمد کے موقع پر راکٹ حملے کرتے رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کس طرح ممکن ہے کہ کابل انتظامیہ کی تین لاکھ سے زیادہ سیکورٹی فورسز کابل کا دفاع کرنے میں کامیاب ہوجائیں جبکہ وہ اپنی عمل داری والے اضلاع کا قبضہ کھوتی جارہی ہیں؟‘

قادر خان کے مطابق ’ترک افواج کی موجودگی کے بعد امریکہ اور نیٹو ممالک کو افغانستان کی سرزمین پر مداخلت کا جواز ملتا رہے گا۔ جس کا واضح مطلب افغانستان میں مستحکم قیام امن کو موثر بنانا نظر نہیں آتا۔‘

افغانستان میں ترکی کا عمل دخل

سفارتی حلقوں میں اکثر یہ سوال دہرایا جاتا ہے کہ جب تمام امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی تو کون سے ممالک افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ کی جگہ لینے کی کوشش کریں گے؟

 اس حوالے سے سب سے زیادہ نام روس، چین اور ایران کا لیا جاتا ہے لیکن تجزیہ کاروں نے ترکی کا ذکر کم ہی کیا ہے۔

بین الاقوامی جریدے ’فارن پالیسی‘ کے مطابق مسلم ملک ہونے کے ساتھ ترکی نیٹو کا اتحادی بھی ہے جو اسے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ انقرہ کا کابل میں سفارت کاری اور سکیورٹی کے حوالے سے مستقبل میں اہم کردار ہوسکتا ہے۔

افغان فوجیوں کو تربیت دینے کے علاوہ ترکی نے طویل عرصے سے کابل کے ہوائی اڈے پر سکیورٹی فراہم کی ہے اور اب امریکہ سے مالی مدد کے عوض ترکی یہ ذمہ داری جاری رکھنا چاہے گا۔

 امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے ترک ہم منصب نے اس ہفتے برسلز میں نیٹو کے اجلاس کے دوران ملاقات کے وقت اس مسئلے پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک ترکی کی پیش کش کا مقصد روسی ایس 400 میزائل دفاعی نظام کے حصول کے بعد انقرہ پر عائد امریکی پابندیوں کو کم کرنا اور ایف 35 جیٹ پروگرام میں واپسی کے لیے واشنگٹن کو راضی کرنا بھی ہے۔

امریکہ کے انخلا کے بعد طالبان نے ہوائی اڈے پر ترکی کی سکیورٹی کو مسترد کردیا ہے۔

تاہم رواں ہفتے نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس سٹولٹن برگ نے اتحاد کی جانب سے ہوائی اڈے کے لیے عبوری مالی اعانت پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ترکی کے ایک اہم کردار کی طرف اشارہ کیا تھا۔

کابل کے ہوائی اڈے کو محفوظ رکھنا نیٹو کے لیے انخلا کے بعد ایک اہم ضرورت ہے۔ یہ ہوائی اڈہ سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں کے لیے ایک اہم خارجی راستہ ہے اور تشدد میں اضافے کی صورت میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان میں ترکی کے غیر جنگی کردار کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ انقرہ افغان امن عمل میں تیسرے فریق کا کردار ادا کرنے کی حالت میں ہے اور پہلے بھی طالبان اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے۔ 2010 میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے ترکی کے زیر اہتمام امن مذاکرات کے خیال کی تائید کی تھی۔

انقرہ کے کابل اور طالبان دونوں کے ساتھ ہی اچھے تعلقات ہیں۔ ترکی نے اپریل میں طالبان کے ساتھ امن کانفرنس کی میزبانی کرنے کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی درخواست کو قبول کیا تھا لیکن طالبان کے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا تھا۔

ترکی کے اس خطے کے کلیدی ممالک چین اور پاکستان کے ساتھ بھی گہرے تعلقات ہیں۔ 2011 میں شروع کی گئی ’ہارٹ آف ایشیا استنبول پروسیس‘ بھی اس کی ایک مثال ہے۔

اسلام آباد اور کابل کے ساتھ سہ فریقی فورم کے ایک رکن کی حیثیت سے انقرہ افغانستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی کو بھی ختم کرسکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا