افغان بچے کی پشاور میں تدفین سے انکار: ’ہندوستان میں دفن کریں‘

ایک ہفتہ قبل افغانستان میں کشتی الٹنے سے ڈوب کر ہلاک ہونے والوں میں ایک دس سالہ بچہ بھی شامل تھا، جس کی لاش پاکستان کے ورسک ڈیم سے برآمد ہوئی تاہم پشاور کے علاقے چمکنی میں مقامی افراد نے بچے کی تدفین کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

’ہمارا بچہ ایک ہفتہ پہلے افغانستان میں دریا کے بیچ کشتی الٹنے کی وجہ سے ڈوب کر لاپتہ ہوا تھا۔ لاش ایک ہفتہ بعد پاکستان کے ورسک ڈیم سے برآمد ہوئی۔ لاش کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ہم نے پشاور میں تدفین کا فیصلہ کیا لیکن مقامی افراد نے کھودے ہوئی قبر کو بھر کر لاش کی تدفین کرنے سے انکار کردیا۔‘

ڈوب کر ہلاک ہونے والے دس سالہ افغان بچے کے چچا شیر ولی افغان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایک ہفتہ پہلے افغانستان میں دریا میں ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں اس میں سوار تقریباً 15 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے، جن میں ان کا بھتیجا بھی شامل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے وہاں لاش ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن نہیں ملی، بعدازاں ایک ہفتہ پہلے ضلع خیبر کی انتظامیہ نے افغان پناہ گزینوں سے رابطہ کیا کہ ایک بچے کی لاش دریا میں بہتی ہوئی افغانستان سے پاکستان آئی ہے، تاکہ ان کے ورثا کا پتہ لگایا جا سکے۔

شیر علی نے بتایا: ’ہم نے بچے کو پہچان لیا کیونکہ میرے بھتیجے کے ہاتھوں کی چھ چھ انگلیاں ہیں اور اسی نشانی سے ہمیں شناخت میں آسانی ہوئی۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اس کے بعد ہم لاش وصول کرنے ضلع خیبر گئے اور پشاور کے علاقے چمکنی میں رہائش پذیر اپنے رشتے داروں کو اطلاع دی کہ وہ تدفین کا بندوبست کریں۔‘

شیر ولی کے مطابق ان کے بھتیجے کی تدفین کے لیے مقامی قبرستان میں قبر کھودی گئی اور تعزیت کے لیے لوگ آنا شروع ہوگئے، لیکن جنازے کے وقت جب قبر تیار تھی تو چند مقامی افراد آئے اور انہوں نے لوحقین سے کہا کہ وہ بچے کو یہاں دفنانے نہیں دیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں ایک مقامی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ بچے کے رشتہ دار نے پاکستانی پرچم کی توہین کی ہے، اس لیے وہ بچے کو یہاں دفنانے نہیں دیں گے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مقامی شخص نے دیگر افراد کو کہا کہ کھودی گئی قبر کو دوبارہ بھر دیا جائے اور بچے کی تدفین یہاں نہ کی جائے جس کے بعد قبر کو دوبارہ بھر دیا گیا۔

شیر ولی نے بتایا: ’اس وقت ہماری مجبوری کی انتہا تھی کیونکہ ایک جانب لوگ تعزیت کے لیے آئے ہوئے تھے اور اس واقعے کی وجہ سے ہماری عزت خاک میں مل گئی۔‘

انہوں نے بتایا: ’اس بچے کے والدین کئی دہائیوں تک پاکستان میں آباد تھے لیکن بعد میں دوبارہ افغانستان منتقل ہوگئے تھے۔ پرچم کی بے حرمتی کی جو بات مقامی افراد کر رہے تھے، اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اگر بچے کے کسی رشتہ دار نے ایسا کیا بھی ہے تو بہت غلط کیا ہے مگر اس کی سزا بچے کی لاش کو کیوں دی جا رہی تھی۔‘

شیر علی نے بتایا: ’ہمیں کہا گیا کہ بچے کو ہندوستان میں تدفین کریں۔ ہم عرصہ دراز سے پشاور میں رہائش پذیر ہیں اور ہمیں پاکستان سے محبت بھی ہے لیکن چند مقامی افراد نے ہمیں تعزیت کرنے والوں کے سامنے شرمندہ کردیا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہم تو مجبوری میں پشاور میں بطور  پناہ گزین رہ رہے ہیں اور ہمارے باپ دادا بھی پاکستان میں ہی دفن ہیں، تو ایک چھوٹے بچے کی لاش کو تدفین کی اجازت نہ دینا کسی کرب سے کم نہیں تھا۔‘

یہ واقعہ پشاور کے چمکنی پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں کے ایک اہلکار معراج خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’18 جون کو پیش آنے والے اس واقعے میں مقامی لوگوں نے لاش کی تدفین کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔‘

معراج نے مزید بتایا کہ ’مقامی افراد کا موقف تھا کہ یہ ان کا ذاتی قبرستان ہے اور وہ اس میں کسی اجنبی کو دفنانے نہیں دیں گے، تاہم اس واقعے میں کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی تھی، جس سے نقض امن کو خطرہ لاحق ہوسکے۔‘

تدفین کا کیا ہوا؟

چونکہ بچے کی لاش کو تدفین کی اجازت نہیں ملی، اس لیے لواحقین نے اسے افغانستان منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شیر علی نے بتایا کہ ’شام تقریباً چھ بجے ہم ضلع خیبر کے ہسپتال پہنچے تاکہ وہاں سے لاش منتقلی کے لیے ضروری دستاویزات حاصل کرسکیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہسپتال سے دستاویزات حاصل کرنے کے بعد ہم رات کو طورخم بارڈر پہنچے، جہاں ہمیں بتایا گیا کہ لاش کی منتقلی کے لیے پشاور میں افغان قونصل خانے سے اجازت نامہ لینا ضروری ہے۔‘

یوں شیر علی رات کے وقت پشاور میں واقع افغان قونصل خانے پہنچ گئے تاکہ وہاں سے اجازت نامہ حاصل کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’اجازت نامہ لینے کے بعد ہم نے لاش کو افغانستان منتقل کیا اور وہاں پر بچے کی تدفین ہوئی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان