نئی آٹوموبیل پالیسی سے گاڑیوں کی پیداوار زیادہ اور قیمت کم ہو پائے گی؟

پاکستان میں گاڑیوں کے خریداروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے، جبکہ مینوفیکچررز ان کی ڈیمانڈ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور اس صورت حال کا موضوع حل آٹوموبیل صنعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

وفاقی حکومت نے اس سال کے شروع میں ہی نئی آٹو موبیل پالیسی کے لیے راہ رہموار کرنے کی غرض سے اقدامات اٹھانا شروع کر دیے تھے (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت گاڑیوں کی صنعت سے متعلق پالیسی کے ختم ہونے پر نئی آٹو موبیل پالیسی لا رہی ہے، جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس پالیسی سے ملک میں اس شعبے کو فروغ حاصل ہونے کے علاوہ موٹر کاروں کے استعمال میں اضافہ بھی ہو گا۔ 

تجارت اور ٹریڈ کی پارلیمانی سیکریٹری عالیہ حمزہ ملک کے مطابق نئی پالیسی میں کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک میں گاڑیوں کے پرزے بنانے کی حوصلہ افزائی ہو۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مقصد یہ ہے کہ ’ہم نہ صرف اپنی ضروریات پوری کریں بلکہ گاڑیاں اور پرزے برآمد بھی کرنے کے قابل ہو جائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پرزے بننے سے گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ہو گی جس سے زیادہ لوگ موٹر کاریں خرید سکیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ ’تحریک انصاف حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والے بھی گاڑیاں خریدیں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو۔‘  

موجودہ آٹو موٹیو ڈیویلپمنٹ پالیسی (21-2016) 30 جون کو ختم ہو رہی ہے اور عالیہ حمزہ ملک کے مطابق نئی پالیسی کا فوکس آٹو موبیل انڈسٹری کی ترقی اور اس صنعت سے جڑی برآمدات پر ہو گا۔ 

وفاقی حکومت نے اس سال کے شروع میں ہی نئی آٹو موبیل پالیسی کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے اقدامات اٹھانا شروع کر دیے تھے۔ 

اس سلسلے میں پہلا قدم اس سال فروری میں آنے والا ایک صدارتی آرڈیننس تھا، جس کے تحت نئی گاڑی کی خریداری کے 90 دن کے اندر فروخت کی صورت میں مالک کو اضافی ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔  

گاڑی کے انجن کی طاقت (سی سی) ود ہولڈنگ ٹیکس
1000 اور کم 50 ہزار روپے
1000 سے اوپر اور 2000 سے کم   ایک لاکھ روپے
2000 سے زیادہ   دو لاکھ روپے

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے کار ڈیلر عدیل ملک، جو گذشتہ کئی برسوں سے گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں، کہتے ہیں کہ اس قانون کا نقصان بھی عام خریدار کو ہی ہوا۔ ’انویسٹرز نے ود ہولڈنگ ٹیکس کا بوجھ بھی اون منی بڑھا کر خریدار پر ہی ڈال دیا۔‘ 

وفاقی حکومت گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی سے متعلق سنجیدہ نظر آتی ہے جس کا ثبوت حال ہی میں آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ میں ملا، جس میں پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر مجموعی طور پر سات فیصد ٹیکسز اور ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے۔  

اسی طرح خیبر پختونخوا حکومت نے سال 2022-21 کے دوران 2500 سی سی تک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایک روپیہ کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ 

پاکستان میں گاڑیاں مہنگی کیوں ہیں؟ 

پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں زیادہ ہونے کی سب سے وجہ بڑی صنعت میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزوں کا بیرون ملک سے منگوانا بتائی جاتی ہے۔  

پاکستان آٹو موبیل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر سہیل بشیر رانا کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں اور ان کے خام مال کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹی بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ 

ایک انٹرویوں میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال میں سے پاکستان میں کچھ بھی نہیں ملتا اور مجبوراً باہر سے منگوایا جاتا ہے۔ 

’گاڑی کی باڈی بنانے کے لیے سٹیل کی جو چادر استعمال کی جاتی ہے پاکستان میں وہ بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار نہیں ہوتی اور مجبوراً ہمیں بیرون ملک سے امپورٹ کرنا پڑتی ہے۔‘ 

نئی آٹو موبیل پالیسی کی وجہ سے پاکستان میں گاڑیوں کے پرزے اور خام مال کی تیاری کو فروغ ملتا ہے تو آئندہ چن سالوں میں موٹر کاروں کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی امید کی جا سکتی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ 40 سال سے آٹوموبیلز منیوفیکچرنگ سے وابستہ شیخ عبدالمجید کا کہنا تھا کہ درآمدات پر اٹھنے والا خرچ نہیں رہے گا تو مینوفیکچررز اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائیں گے، جس کا اثر قیمتوں کی کمی کی صورت میں نظر آئے گا۔ 

اون منی بھی تو ہے

گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں تو قیمت زیادہ رکھتی ہی ہیں، خریدار کو اضافی پیسے اون منی کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ 

اسلام آباد میں گاڑیوں کے ڈیلر فدا حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’آج کل آپ کوئی بھی چھوٹی یا بڑی گاڑی خریدنا چاہتے ہیں اور جلدی خریدنا چاہتے ہیں تو ایسا کم از کم دو سے تین لاکھ روپے اون منی کے طور پر ادا کیے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔‘ 

کار ڈیلر عدیل ملک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر تین لاکھ روپے اون منی کے طور پر وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض چھوٹی گاڑیوں پر چار لاکھ روپے کی ڈیمانڈ بھی کی جاتی ہے۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ 50 لاکھ روپے سے زیادہ قیمت کی گاڑیوں پر اون منی چھ سے سات لاکھ روپے لی جا رہی ہے۔

فدا حسین نے کہا کہ ایم جی ایچ ایس نامی گاڑی، جس کی کمپنی قیمت 54 لاکھ روپے ہے، پر اضافی سات سے آٹھ لاکھ روپے اون منی کے طور پر چارج کیے جا رہے ہیں۔ 

طلب زیادہ رسد کم 

پاکستان میں کووڈ 19 کی وبا میں کمی اور صنعتوں پر پابندیاں ہٹنے کے بعد سے گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اب بھی موٹر کاریں بنانے والی کمپنیاں طلب سے کم گاڑیاں بنا رہی ہیں۔ 

پاکستان میں اس وقت گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اپنی ماہانہ پیداوار سے زیادہ یونٹس فروخت کر رہی ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسد کم ہونا بھی گاڑیوں کی قیمتیں زیادہ ہونے کی ایک وجہ ہے۔   

قیمتوں کو کم کرنے کا واحد حل کمپنیوں کی پیداوار میں اضافہ بتایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف خریدار کو گاڑی کم وقت میں مہیا ہو سکے گی، بلکہ اس سے اون منی کے کلچر کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔ 

شیخ عبدالمجید کا کہنا تھا کہ ’کس کا دل نہیں کرے گا کہ اپنے کارخانے کو بڑا کرے یا مزید یونٹس لگائے اور پیداوار بڑھائے، اگر کوئی نہیں کر رہا تو اس کی وجوہات ہیں۔‘ 

گاڑیاں بنانے والی ایک معروف پاکستانی کمپنی کے سینیئر اہلکار نے موودہ صورت حال کو کچھ اس طرح بیان کیا کہ ’یہ تو دراصل طلب اور رسد ہی ہے جو مارکیٹ میں قیمتوں اور دوسرے ان فیکٹرز کا تعین کرتی ہیں۔‘

آن لائن خریدو فروخت کی معروف ویب سائٹس پر اس وقت بھی سینکڑوں نئے ماڈل کی گاڑیوں کے اشتہارات دیکھے جا سکتے ہیں، جو براہ راست کمپنیوں سے خرید کر فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔ 

ایسی تمام گاڑیاں ان خریداروں کا انتظار کر رہی ہیں، جو جلد موٹر کار کے مالک بننا چاہتے ہیں اور کمپنی کی قیمت سے زیادہ رقم ادا کرنے پر راضی ہیں۔ 

اسلام آباد میں گاڑیوں کے ڈیلر محمد عامر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ مارکیٹ میں نئی گاڑیاں کم اور خریدار زیادہ ہیں اور ہر کوئی جلدی گاڑی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ 

حال ہی میں گاڑیاں بنانے والی ہونڈا کمپنی نے سٹی موٹر کار کے 2021 کے ماڈل کی بکنگ شروع کی ہے اور خریداروں کی بڑی تعداد آن لائن اور ڈیلرز کے پاس ڈاؤن پیمنٹ جمع کروا کر اپنی گاڑیاں بک کر رہے ہیں۔ 

ان تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کے خریداروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے، جبکہ مینوفیکچررز ان کی ڈیمانڈ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور اس صورت حال کا موضوع حل آٹوموبیل صنعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت