ہسپتال میں بغیر اجازت لی گئی تصویر وائرل ہونے پر اداکار انور اقبال برہم

ماضی میں سپرہٹ پاکستانی ڈرامہ سیریز ’شمع‘ سے شہرت حاصل کرنے والے انور اقبال گذشتہ کئی ماہ سے علیل ہیں اور آج کل کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

انور اقبال نے سپر ہٹ پاکستانی ڈرامہ سیریز ’شمع‘ سے شہرت حاصل کی تھی(فوٹو: انور اقبال فیس بک اکاؤنٹ)

کچھ عرصے سے کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج معروف اداکار انور اقبال بلوچ کی علالت کے دوران بغیر اجازت لی گئی تصاویر وائرل ہونے سے ان کے خاندان اور چاہنے والوں کو ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔

ماضی میں ’نانا کی جان قمرو‘ کے کردار سے مشہور ہونے والے انور اقبال گذشتہ کئی ماہ سے علیل ہیں اور آج کل کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

حال ہی میں ہسپتال کے بستر پر لی گئی ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس میں وہ کافی کمزور نظر آرہے ہیں۔

تصویر وائرل ہونے کے بعد انور اقبال بلوچ نے ایک فیس بک پوسٹ میں اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’میں اپنے چاہنے والوں، دوستوں اور میڈیا کا شکرگزار ہوں جنہوں نے میری صحت کے لیے دعا کی، مگر کچھ لوگوں نے مجھے شدید مایوس کیا۔ انہوں نے ہسپتال میں میری مرضی کے بغیر میری تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر وائرل کردیں، جس سے میری اور میرے خاندان کی پرائیویسی پر اثر پڑا۔‘

سوشل میڈیا پر ان کی علالت کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا: ’اتنا بڑا اداکار بیمار ہے اور حکومت کی جانب سے ان کی کوئی مدد نہیں کی جارہی۔‘

جس پر انور اقبال نے لکھا: ’اس غیر ذمہ دارانہ صحافت کے باعث میرے خاندان اور چاہنے والوں کو کوفت اٹھانا پڑی۔ میں کچھ عرصے سے شدید علیل ہوں، کراچی کے بہترین ڈاکٹروں کے زیرنگرانی میرا بہترین علاج ہورہا ہے۔ میرے خاندان والے اور دوست میرے ساتھ ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’میں میڈیا والوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے خاندان والوں اور چاہنے والوں کے جذبات اور میری پرائیویسی کا خیال رکھیں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ میں اپنے لیے دعا کرنے والوں کا شکرگزار ہوں۔‘

انور اقبال سے بات کرنے کے لیے انڈپیندنٹ اردو نے ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا، تاہم بتایا گیا کہ ’وہ زیر علاج ہیں اور فی الحال بات نہیں کرسکتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب غیر ذمہ دارانہ صحافت کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صدر اور سینیئر صحافی فاضل جمیلی نے کہا: ’پاکستان میں میڈیا کے لیے کوئی خاطر خواہ ریگولیشن نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اصل میں ہمارے یہاں سوشل میڈیا کا بڑا اثر ہے اور سوشل میڈیا پر کوئی چیز وائرل ہوتی ہے تو مرکزی میڈیا پر بھی پریشر ہوتا ہے کہ وہ بھی اس پر خبر چلائیں، مگر اس کے لیے متعلقہ فرد سے بات کرنا ضروری تھا جو نہیں کی گئی اور ایسی خبریں چلائی گئیں کہ ان کا علاج نہیں ہورہا، جو درست بات نہیں ہے۔‘

فاضل جمیلی نے مزید کہا کہ ’کسی بھی فرد کی تصویر ان سے پوچھے بغیر لینا اور ان کی اجازت کے بغیر چھاپنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے ہمیشہ اجازت لینا ضروری ہے، ورنہ یہ غیر ذمہ دارانہ صحافت کہلائے گی۔‘

انور اقبال کا شمار پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے ماضی کے مقبول ترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری کے میدان میں بھی قدم رکھا۔

انور اقبال نے سپر ہٹ پاکستانی ڈرامہ سیریز ’شمع‘ سے شہرت حاصل کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں نسیم حجازی کے ناول پر مبنی ڈرامے ’آخری چٹان‘ میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ وہ اردو اور سندھی زبان کے متعدد سیریلز اور تاریخی ڈرامہ سیریز میں یادگار کردار ادا کر چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی