برطانیہ: ’ہر 12 میں ایک جوڑے کو والدین بننے پر پچھتاوا‘

ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ والدین کو بچے پیدا کرنے پر پچھتاوا اس سے زیادہ عام ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں، تاہم اس پر بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

کم عمر والدین کے حوالے سے زیادہ امکان ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں کسی مرحلے پر بچے پیدا کرنے پر افسوس ہو (پکسابے)

یہ اعتراف کرنا کہ آپ کو بچے پیدا کرنے پر افسوس ہے اب بھی معاشرے میں والدین کے حوالے سے معیوب ترین باتوں میں شمار ہوتا ہے۔

لیکن ایک نئے جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ والدین کو پچھتاوا اس سے زیادہ عام ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں۔

تحقیق اور اعدادوشمار کا تجزیہ کرنے والے بین الاقوامی برطانوی ادارے ’یوگوو‘ کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ والدین کی اکثریت (83 فیصد) کا کہنا ہے کہ انہیں خاندانی زندگی شروع کرنے پر کبھی افسوس نہیں ہوا، آٹھ فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں اس پر افسوس ہے جبکہ دوسرے چھ فیصد کو ماضی میں افسوس تھا لیکن اب نہیں ہے۔

یوگوو نے ایک ہزار 249 والدین کا سروے کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ تمام افراد جنہیں والدین بننے کے فیصلے پر افسوس تھا ہمیشہ ایک جیسا محسوس نہیں کرتے۔

سات میں ایک کو بچے پیدا کرنے پر اپنی زندگی میں کسی موقعے پر افسوس ہوا۔ اس کے مقابلے میں 12 میں ایک کا کہنا تھا کہ انہیں اب بھی اس پر افسوس ہے۔

کم عمر والدین کے حوالے سے زیادہ امکان ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں کسی مرحلے پر بچے پیدا کرنے پر افسوس ہو۔ 25 سے 34 سال کی عمر کے درمیان والدین میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ میں ایک ہو گئی ہے۔

جن والدین سے سروے کیا گیا ہے ان میں سے بڑی عمر کے والدین جن کی عمریں 55 سال یا اس سے زیادہ تھیں اور جن کے بچے اب خود جوان ہو چکے ہیں ان والدین کو بچے پیدا کرنے پر بہت کم افسوس تھا۔

10 میں صرف ایک جوڑا (چھ فیصد والدین) بچے پیدا کرنے کے فیصلے پر ناخوش تھا، یا جن والدین نے ماضی میں افسوس کا اظہار کیا وہ (چار فیصد ) تھے۔

وہ والدین جنہیں بچے پیدا کرنے پر اب بھی افسوس ہے ان میں سے پانچ فیصد کو کم حد تک افسوس ہے جبکہ صرف ایک فیصد کو اپنے فیصلے پر بہت زیادہ افسوس ہے۔ باقی ماندہ دو فیصد والدین کا کہنا تھا کہ انہیں تھوڑا بہت افسوس تھا۔

جن لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں والدین بننے پر ناخوش تھے ان کی رائے کا تناسب بھی اسی قسم کا رہا۔

پانچ فیصد نے کہا کہ انہیں معمولی افسوس تھا جبکہ ایک فیصد کا کہنا تھا کہ والدین بننے پر انہیں زیادہ افسوس نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

والدین میں سے صرف چار فیصد نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ موقع ملے تو وہ بچے نہیں پیدا کریں گے۔ ان لوگوں کی شرح بھی یہی رہی جن کا کہنا تھا کہ وہ کم بچے پیدا کریں گے۔

سروے میں جوابات دینے والوں کی اکثریت نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ والدین بننے کا موقع ملے تو موجودہ تعداد میں ہی بچے پیدا کریں گے۔ تاہم 10 میں سے تین (29 فیصد) والدین نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے زیادہ بچے ہوتے۔

ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان والدین میں مزید بچوں کی خواہش زیادہ ہے اور 25 سے 49 سال کی عمر کے ایک تہائی (32 فیصد) والدین نے بڑے خاندان کی خواہش کا اظہار کیا۔

65 سال سے زیادہ یعنی سب سے زیادہ عمر کے گروپ میں شامل والدین کے بارے میں بہت کم امکان تھا کہ وہ یہ کہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے زیادہ بچے ہوتے۔

اس ضمن میں جنس کی مناسبت سے واضح اختلاف سامنے آیا۔ ایک تہائی ماؤں (32 فیصد) کی خواہش تھی کہ ان کے زیادہ بچے ہوتے۔ اس کے مقابلے میں چار میں سے ایک والد (24 فیصد) نے اسی خواہش کا اظہار کیا۔

یوگوو کا کہنا ہے کہ بہت سے والدین ممزنیٹ، ریڈٹ اور کورا جیسی آن لائن ویب سائٹس پر جاتے ہیں جہاں وہ گمنام رہنے کے لیے عام طور پر فرضی نام استعمال کرتے ہوئے پوسٹ کرتے ہیں تاکہ اس بات کا اطمینان کر سکیں کہ بچوں کے معاملے میں جو احساسات ان کے ہیں ان میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔

ممزنیٹ پر ایک ماں نے سوال کیا کہ کوئی ہے جو ان کی طرح سخت افسوس کے جذبات رکھتا ہو خاص طور پر گذشتہ سال کرونا (کورونا) وائرس کے نتیجے میں لگنے والے لاک ڈاؤن کے دوران۔

خاتون نے لکھا: ’انتہائی افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تین سال پہلے جب سے میرا بچہ پیدا ہوا ہے مجھے ماں بننے سے نفرت ہے۔ سب کچھ ہو جانے  کے بعد اب میں خود کو پہلے والے مقام پر واپس پہنچی ہوئی محسوس کرتی ہوں جس میں نہ بچوں کی دیکھ بھال میں کوئی مدد ہے اور نہ کام کرسکتی ہوں۔ میں کسی اچھی جگہ پر نہیں ہوں۔‘

انہوں نے اعتراف کیا: ’مجھے اس پر شرم آتی ہے اور لگتا ہے کہ مجھ میں کچھ غلط ہے۔ اگرچہ میری سہیلیاں ماں بننے پر شکایت کرتی تھیں لیکن سب کا دوسرا حتی کہ تیسرا بچہ ہو چکا ہے جبکہ میں ایک اور بچے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکی۔‘

ان کی پوسٹ پر دیگر والدین نے ہمدردی پر مبنی کئی جوابات لکھے۔ انہوں نے خاتون کو یقین دلایا ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔ کچھ والدین نے اعتراف کیا کہ وہ بچے پیدا کرنے کے معاملے میں ’دوبارہ کبھی ایسا نہیں کرنا چاہیں گے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق