سینگار نوناری کی گمشدگی: ’کچھ لوگ آتے ہیں اوراٹھا کرلےجاتے ہیں‘

گذشتہ دو روز سے ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں 26 جون کی شب سندھ کے شہر نصیرآباد سے جبری گمشدہ سیاسی رہنما کامریڈ سینگار نوناری کی اہلیہ فوزیہ نوناری گیت گاتے ہوئے اپنے شوہر کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔  

کامریڈ سینگار نوناری کی جبری گمشدگی کے خلاف لاڑکانہ، حیدرآباد اور کراچی سمیت کئی شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے (فوٹو: فوزیہ نوناری)

فیس بک پر گذشتہ دو روز سے ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں 26 جون کی شب سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے شہر نصیرآباد سے مبینہ طور پر جبری گمشدہ سیاسی رہنما کامریڈ سینگار نوناری کی اہلیہ فوزیہ نوناری گیت گاتے ہوئے اپنے شوہر کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔  

انڈپینڈنٹ اردو نے فوزیہ نوناری سے اس حوالے سے گفتگو کی، جنہوں نے بتایا: ’26 جون کی رات تین بجے جب میں، میرے شوہر اور بچے صحن میں سو رہے تھے تو پہلے دو مسلح افراد دیوار پھلانگ کر اندر آئے اور پھر دورازہ توڑ کر 20 سے 25 مسلح افراد گھر میں گھس آئے اور توڑ پھوڑ کے بعد وہ میرے شوہر کامریڈ سینگارنوناری کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔‘ 

تین بچوں کے والد 40 سالہ کامریڈ سینگارنوناری عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما ہیں اور لاڑکانہ کے شہر نصیراباد کے نوناری محلے میں رہتے ہیں۔   

فوزیہ نوناری کے مطابق: ’میرے شوہر عوامی ورکرز پارٹی کے کارکنوں کے لیے سٹڈی سرکل چلاتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ پرامن سیاست کی، کبھی تشدد پر یقین نہیں رکھا، مگر اس کے باجود انہیں جبری طور پر گمشدہ کر دیا گیا۔ میرے خیال میں مزدوروں کے حقوق کی بات کرنے پر انہیں لاپتہ کیا گیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اگر میرے شوہر پر قانون شکنی کا کوئی الزام ہے تو ان پر کیس دائر کرکے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، مگر اس طرح جبری طور پر لاپتہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟۔‘

کامریڈ سینگار نوناری کی جبری گمشدگی کے خلاف لاڑکانہ، حیدرآباد اور کراچی سمیت کئی شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔  

دوسری جانب منگل کو ایڈووکیٹ اختر حسین نے فوزیہ نوناری کے توسط سے کامریڈ سینگارنوناری کی جبری گمشدگی کے بعد ان کی رہائی کے لیے سندھ ہائی کورٹ کراچی میں ایک درخواست دائر کی ہے۔  

اختر حسین نے انڈپیندنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’فوزیہ نوناری نے اپنے لاپتہ شوہر کی گمشدگی کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی مگر وہ نہ ہوسکی تو ہم نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے اور امید ہے جلد ہی عدالت نوٹس جاری کر کے ان کی رہائی کے احکامات دے گی۔‘

سندھی زبان کے معروف مصنف، ادیب اور قوم پرست رہنما تاج جویو گذشتہ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔  

گذشتہ سال انہوں نے اپنے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی سمیت دیگر افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجاً یہ کہتے ہوئے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ان کے بیٹے سارنگ سمیت سندھ کے متعدد نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر دیا ہے، ایسے میں وہ کس طرح ایوارڈ لے سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپیندنٹ اردو سے گفتگو میں تاج جویو نے بتایا کہ ’اس وقت تک سندھ سے 300 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں نہ صرف سندھی قوم پرست کارکن اور دیگر، بلکہ اردو بولنے والے، بلوچ اور شیعہ افراد شامل ہیں، تاہم ہم نے نام، ولدیت، قومی شناختی کارڈ نمبر اور گھر کے پتوں کے ساتھ جو فہرست بنائی ہے اس میں لاپتہ افراد کی تعداد 50 سے زائد ہے۔‘  

وہ بتاتے ہیں کہ ’آج جیسے حالات تو بدترین فوجی آمریت والے دور میں بھی نہ تھے۔ آمریت میں لوگوں کو اٹھا کر جیل میں ڈالا جاتا تھا، مگر سب کو معلوم ہوتا تھا کہ ان کے پیاروں کو کون اٹھا کر لے گیا ہے، گھر والوں سے ملاقات کروائی جاتی تھی، مگر اب تو کچھ پتہ نہیں۔ کچھ لوگ آتے ہیں اور بس اٹھاکر لے جاتے ہیں، یہ بھی نہیں بتاتے کہ جرم کیا ہے اور وہ لوگ کون ہیں جو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‘

تاج جویو نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ لاڑکانہ میں کسی کو اس طرح سے اٹھایا گیا ہو، اس سے پہلے بھی لاتعداد لوگوں کو لاڑکانہ سے لاپتہ کردیا گیا۔ ’بخش علی مغیری، اعجاز تنیو، ہدایت اللہ، انصاف دایو، ندیم مغیری سمیت کئی افراد کو لاڑکانہ سے گمشدہ کیا گیا ہے۔‘

سندھ اور بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے گذشتہ کئی سالوں سے احتجاج جاری ہے۔ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نامی تنظیم کئی سالوں سے کوئٹہ اور کراچی پریس کلب پر احتجاج کر رہی ہے جبکہ وائس فار سندھی مسنگ پرسنز اور سندھ سبھا کراچی پریس کلب پر احتجاج کر رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان