رہا کیے گئے القاعدہ رہنما کی دوبارہ گرفتاری کے لیے امریکی انعام

امریکہ نے ابراہیم احمد محمود القوسی المعروف شیخ خبیب السوڈانی کو 2012 میں ایک پری ٹرائل سمجھوتے کے تحت رہا کر دیا تھا اور انہیں ان کے آبائی ملک سوڈان کے حوالے کر دیا تھا۔

امریکی اعلان کا ایک پوسٹر (امریکی محکمہ سفارتی سکیورٹی) 

امریکہ نے سوڈان سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے ایک سینیئر رہنما کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کو 40 لاکھ ڈالر انعام دینے کی پیش کش کی ہے۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ ابراہیم احمد محمود القوسی المعروف شیخ خبیب السوڈانی کی شناخت یا اتا پتا سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر انعام دیا جائے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پر لوگوں کو امریکہ پر حملوں پر اکسانے کا الزام ہے۔ وہ اس وقت جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے موجودہ امیر کی معاونت کرنے والی قیادت کا حصہ ہیں اور محمد صلاح کے عرفی نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ ’سنہ 2015 سے القوسی جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے بھرتی مواد میں نمودار ہو رہے ہیں اور امریکہ کے خلاف حملوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آن لائن پروپیگینڈا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے 2014 میں القاعدہ کی جزیرہ نماعرب میں شاخ میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن وہ القاعدہ تنظیم میں گذشتہ کئی عشروں سے فعال ہیں اور اسامہ بن لادن کے ساتھ بھی کئی سال تک براہِ راست کام کر چکے ہیں۔‘

بیان کے مطابق ابراہیم القوسی کو دسمبر 2001 میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد انہیں امریکہ کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے 2010 میں امریکہ کے ایک فوجی کمیشن کے روبرو القاعدہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی سازش میں ملوث ہونے اور دہشت گردی کی حمایت میں مواد مہیا کرنے کے الزام میں قصوروار ہونے کا اقرار کیا تھا۔

تاہم امریکہ نے انہیں 2012 میں ایک پری ٹرائل سمجھوتے کے تحت رہا کر دیا تھا اور انہیں ان کے آبائی ملک سوڈان کے حوالے کر دیا تھا۔

امریکہ القاعدہ یا دوسری تنظیموں کے دہشت گردوں یا ان کا اتاپتا کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعامات کا اعلان کرتا رہتا ہے اور انعامی رقم کی مالیت بالعموم 30 لاکھ سے ایک کروڑ ڈالر تک ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ