ایران: ریلوے نظام پر سائبر حملہ، آیت اللہ کو کال کرنے کی تاکید

ہیکرز نے ملک بھر کے سٹیشنوں پر ڈسپلے بورڈز پر ٹرین کی آمد میں تاخیر یا منسوخی کے بارے میں جعلی پیغامات شائع کر دیے تاہم ریلوے کے ترجمان نے کہا کہ ’خلل‘ سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

تہران میں ایک ریلوے سٹیشن۔ سرکاری ریلوے کمپنی کے ترجمان صادق سیکری کے مطابق سائبر حملے کی وجہ سے ’خلل‘ ٹرین سروس کے لیے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں ہے (اے ایف پی فائل)

ایران کے ریلوے کے نظام کو اس وقت سائبر حملے کا نشانہ بنا جب ہیکرز نے ملک بھر کے سٹیشنوں پر نصب ڈسپلے بورڈز پر ٹرین کی آمد میں تاخیر یا منسوخی کے بارے میں جعلی پیغامات شائع کیے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے بورڈز پر ’سائبر حملے کی وجہ سے طویل تاخیر‘ یا ’منسوخ‘ جیسے پیغامات پوسٹ کیے۔

ان پیغامات میں ہیکرز نے مسافروں کو ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے فون نمبر کی فہرست دیتے ہوئے اس حوالے سے انہیں معلومات حاصل کرنے کی بھی تاکید کی۔

’فارس نیوز‘ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یہ سائبر حملہ ریلوے سٹیشنوں پر ’غیر معمولی کھلبلی‘ کا باعث بنا۔ کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

اس سے قبل ہی فارس نیوز نے کہا تھا کہ ایران بھر میں ٹرینوں کا اپنا الیکٹرانک ٹریکنگ سسٹم بھی ناکارہ ہو گیا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا تھا کہ آیا یہ بھی سائبر حملے کا نتیجہ تھا یا نہیں۔

بعد ازاں خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ ہٹا دی اور سرکاری ریلوے کمپنی کے ترجمان صادق سیکری نے ایک بیان جاری کیا جس کہا گیا یہ ’خلل‘ ٹرین سروس کے لیے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2019 میں بھی ریلوے کمپنی کے کمپیوٹر سرور میں خرابی ٹرین سروس میں متعدد بار تاخیر کا سبب بنی تھی۔

اسی سال دسمبر میں ایران کی وزارت مواصلات نے کہا تھا کہ ملک نے ’الیکٹرانک انفراسٹرکچر‘ پر ایک بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر حملے کو ناکام بنا دیا ہے لیکن اس حملے کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق Stuxnet نامی کمپیوٹر وائرس کے بعد ایران نے اپنے بیشتر کمپوٹر انفراسٹرکچر سے انٹرنیٹ منقطع کردیا ہے۔ اس وائرس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ تخلیق ہے جس نے بعد میں ایرانی جوہری مقامات پر ہزاروں سنٹری فیوج میں خلل ڈالا تھا۔

دوسری جانب ایران کے حکام نے ہفتے کو کہا ہے کہ وہ شمالی تہران میں نصف شب کو ہونے والے ایک پراسرار دھماکے کی تحقیقات کر رہے ہیں جس سے کوئی جانی یا دیگر نقصان نہیں ہوا۔ 

تہران کے نائب گورنر حمید رضا گودارزی کے مطابق دھماکہ دارالحکومت کے ملت پارک میں مقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 52 منٹ پر ہوا۔

اے ایف پی کے مطابق سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں نائب گورنر نے کہا: ’دھماکے کی وجوہات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اس سے کوئی مالی نقصان یا جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ یہ ’دہشت گرد حملہ‘ ہو سکتا ہے تو حمید رضا نے کہا کہ وہ تحقیق کے بعد کچھ کہنے کے قابل ہوں گے۔

سرکاری ٹی وی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکہ ایک ’ساؤنڈ بم‘ تھا اور موقعے پر موجود ایک رپورٹر کے مطابق یہ ویران جگہ پر ہوا تھا۔

تہران کے فائر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ دھماکے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد ادارے نے کئی یونٹ روانہ کر دیے لیکن اس کے فائر فائٹرز کو جائے وقوعہ پر کوئی آگ یا ملبہ نہیں ملا۔

ملت پارک ایران کے نشریاتی ادارے کے دفتر کے قریب واقع ہے جو ملک میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا