پاکستانی فٹ بال برآمدات میں کمی: حالات پہلے خراب تھے یا وبا کا اثر؟

پاکستان نے مالی سال 20-2019 کے 11 ماہ میں فٹ بال کی بیرون ملک فروخت سے 13 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ کمایا تھا جو مالی سال 21-2020 کے اسی دورانیے میں کم ہو کر بمشکل 12 کروڑ امریکی ڈالر تک رہا۔

28 مئی 2014 کی اس تصویر میں سیالکوٹ کی فیکٹری میں خواتین فٹ بال تیار کر رہی ہیں۔ پاکستان کی فٹ بال بنانے کی صنعت کی برآمدات میں گذشتہ سال کمی آئی ہے (اے ایف پی)

پاکستان میں تیار ہونے والے کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں اضافے کے برعکس صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں بننے والے فٹ بال کی بیرون ملک فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔  

پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گذشہ ماہ ختم ہونے والے مالی سال 21-2020 کے 11 ماہ کے دوران فٹ بال کی بر آمدات میں تقریباً 12 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 

پاکستان نے مالی سال 20-2019 کے اسی عرصے میں فٹ بال کی بیرون ملک فروخت سے 13 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ کمایا تھا جو مالی سال 21-2020 کے 11 ماہ کے دوران کم ہو کر بمشکل 12 کروڑ امریکی ڈالر تک رہا۔ 

ادارہ شماریات ہی کے مطابق فٹ بال کی بر آمدات میں کمی کے برعکس پاکستان میں تیار ہونے والے کھیلوں کے دوسرے سامان کی بیرون ملک فروخت میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ فٹ بال کی برآمدات میں کمی کے باعث سپورٹس گڈز کی مجموعی برآمدات میں ایک فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔ 

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا صنعتی شہر سیالکوٹ دوسری صنعتوں کے علاوہ کھیلوں کے سامان کی تیاری کے حوالے سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ 

سیالکوٹ میں فٹ بال بنانے کے بڑی تعداد میں چھوٹے بڑے کارخانے ہیں، جن میں ہاتھ کے علاوہ مشینوں کی مدد سے بھی فٹ بال بنایا جاتا ہے، جو دنیا کے کئی ممالک کو برآمد ہوتا ہے۔ 

فٹ بال ہی کم کیوں بکا؟ 

پاکستان میں کھیلوں کے سامان کی صنعت سے تعلق رکھنے والوں کے خیال میں خصوصاً فٹ بال کی برآمدات میں کمی کی بہت بڑی وجہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا ہے جس کی وجہ سے کاروباری اور معاشرتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ 

سیالکوٹ میں فٹ بال بنانے والی انور خواجہ انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر خرم خواجہ کا کہنا تھا کہ آؤٹ ڈور گیم ہونے کے باعث دنیا بھر میں فٹ بال کے میچز پر پابندی لگی رہی ہے، جس نے اس کھیل سے متعلقہ صنعتوں کو بری طرح متاثر کیا، اور ان میں ہمارے فٹ بال بنانے والے کارخانے بھی شامل ہیں۔ 

انہوں نے کہا: ’خصوصاً جرمنی، جہاں سب سے زیادہ فٹ بال کھیلا جاتا ہے، ساکر کلبز بھی بند ہونے کے باعث میچز نہیں کروا رہے تھے، اس لیے وہا ہمارے بنائے ہوئے فٹ بال کی طلب میں کمی واقع ہوئی۔‘ 

سیالکوٹ میں فٹ بال بنانے والی بڑی کمپنی مولٹیکس سپورٹنگ گڈز کے میاں جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے دوران کئی ایک کارخانے بند ہوئے، جبکہ اب بمشکل ایک درجن فیکٹریاں کام کر رہی ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جہاں کام ہو رہا ہے وہ پرانے آرڈر تیار کر رہی ہیں، ابھی نئے آرڈر آنا شروع نہیں ہوئے ہیں۔‘ 

فٹ بال تیار کرنے والے صنعت کاروں کے خیال میں پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر کی صورت میں ان کے لیے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ 

ڈاکٹر خرم خواجہ کا کہنا تھا: ’ابھی یورپ میں پابندیاں اٹھنے کے بعد کچھ آرڈر آنا شروع ہوئے ہیں، لیکن ہمارے ہاں چوتھی لہر کی صورت میں صورت حال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔‘ 

فٹ بال کی صنعت پہلے سے خراب حال تھی 

میاں جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فٹ بال تیار کرنے والی صنعت کرونا وائرس کی وبا سے پہلے ہی زبوں حالی کا شکار تھی، جس کی وجہ چین کی جانب سے اس صنعت میں جدتوں کو متعارف کروانا تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان دنیا میں استعمال ہونے والے 67 فیصد فٹ بال تیار کرتا تھا، اور سیالکوٹ میں ہزاروں چھوٹے بڑے کارخانے تھے، لیکن 90 کی دہائی میں چین نے کایا پلٹ دی۔ 

ان کے بقول: ’چین نے مشین پر سلنے والا فٹ بال متعارف کروایا، اور دوسری بھی کئی جدتیں اس صنعت میں لے کر آئے، جو ہمارے لیے نئی تھیں۔‘ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ فٹ بال کی صنعت میں اس انقلاب کے بعد سیالکوٹ میں فٹ بال بنانے والے کئی کارخانے بند ہوئے۔ 

اگرچہ بعد میں مقامی صنعتکاروں نے جدید مشینیں لگائیں اور کاری گروں کو تربیت دی، تاہم چین کا مقابلہ ممکن نہ ہو سکا۔ 

دیگر وجوہات 

پاکستان سپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل محسن مسعود کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی سالوں کے دوران کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 

اس سلسلے میں انہوں نے حکومتی ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا ذکر کیا جو خصوصاً کھیلوں کے سامان کی صنعت کے لیے در آمد ہونے والے خام مال پر لگائی جاتی ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی صنعت میں استعمال ہونے والے خام مال کا بڑا حصہ بیرون ملک سے آتا ہے جس پر ہر پاکستانی حکومت نے ٹیکسز اور ڈیوٹیاں لگائیں، جس کے باعث کئی مقامی برآمد کنندہ گان کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ 

محسن مسعود نے کھیلوں کے سامان کی صنعت کی حکومتی بے توجہی کو بھی اس سیکٹر کے زوال کا ذمہ دار قرار دیا۔  

’مجموعی طور پر حکومتی پالیسیاں برآمدات بڑھانے کے لیے نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے امپورٹ ایکسپورٹ کا توازن پاکستان میں ہمیشہ بگڑا رہتا ہے۔‘ 

ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے مزید کہا کہ سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان بنانے والے کارخانے فی الحال نئے آرڈر نہیں لے رہے ہیں۔ ’ہم سب کوشش کر رہے ہیں کہ پرانے آرڈرز کو ہی پورا کر دیا جائے۔‘  

’حالات بہتر ہو رہے ہیں‘

پاکستان میں تجارت کی ترقی کے لیے کام کرنے والے ادارے ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے پراڈکٹ آفیسر جواد احسن خواجہ کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں اضافہ واقع ہوا ہے اور یہ مثبت رجحان ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جن سیکٹرز میں کمی ہوئی ہے وہ بھی اتنی بڑی نہیں کہ اس پر پریشانی کا اظہار کیا جائے۔ ’ہم کہہ سکتے ہیں کہ فٹ بال کی برآمدات بڑھی نہیں ہیں، لیکن کم بھی نہیں ہوئیں، یہ دراصل پرانے معیار پر ہی برقرار رہی ہیں۔‘ 

ڈاکٹر خرم خواجہ کا کہنا تھا کہ فٹ بال کی بر آمدات میں معمولی سی کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم یورپ میں کرونا وائرس کے حوالے سے لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کے بعد صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ 

’کئی یورپین ممالک میں ہمارے کلائنٹس نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کی چوتھی لہر نہ آئی اور ہمارے ہاں انڈسٹریز بند نہ ہوئیں تو مزید بڑے آرڈرز آنا شروع ہو جائیں گے۔‘

جواد احسن خواجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سے تین مہینوں میں کھیلوں کے سامان کی صنعت میں مزید بڑے آرڈرز آنے کے امکانات موجود ہیں، اور اس سے فٹ بال کے کارخانوں میں بھی کام بڑھے گا، اور برآمدات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان