بینائی سے محروم دنیا کا تیز ترین ایتھلیٹ کون ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے تیز ایتھلیٹ کون ہے جو بینائی سے محروم ہونے کے باوجود 100 اور 200 میٹر دوڑ میں عالمی ریکارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

ڈیوڈ براؤن اور ان کے گائیڈ جیروم ایوری گذشتہ سات سال سے ساتھ ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے تیز ایتھلیٹ کون ہے جو بینائی سے محروم ہونے کے باوجود 100 اور 200 میٹر دوڑ میں عالمی ریکارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

اس ایتھلیٹ نے 13 سال کی عمر میں ہی اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی کھو دی تھی جس کی وجہ کواساکی نامی بیماری ہے۔

لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ خود تو دیکھ نہیں سکتے مگر پوری دنیا کی نظریں انہی پر جمی رہتی ہیں۔

یہ ایتھلیٹ ہیں ڈیوڈ براؤن، جن کی عمر 28 سال ہے اور وہ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے 2014 میں 11 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں دوڑ کر ریکارڈ بنایا۔

ڈیوڈ براؤن نے بچپن میں دوڑنا شروع کر دیا تھا مگر پھر کاواساکی نامی بیماری کی وجہ سے 13 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی بینائی کھو دی۔ 

مگر بینائی کے جانے سے ان کا سفر رکا نہیں بلکہ وہ اس وقت تاریخ میں دنیا کے تیز ترین بلائنڈ رنر ہیں۔

ان کا تعلق امریکہ سے ہے اور وہ مسوری میں پلے بڑھے ہیں۔

ڈیوڈ براؤن کی والدہ فرانسین براؤن اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ڈیوڈ آغاز میں دیگر بچوں کے طرح ہی بھاگتا دوڑتا تھا مگر 15 ماہ کی عمر میں انہوں نے زیادہ رونا شروع کر دیا اور ان کے سر میں درد رہنے لگا۔

’پھر ہم انہیں ہسپتال لے گئے جہاں معلوم ہوا کہ وہ کواساکی بیماری میں مبتلا ہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ڈیوڈ کا اعلان تو جاری رہا مگر ساتھ ہی ساتھ وہ بینائی سے محروم ہوتے گئے۔

ڈیوڈ کی والدہ کہتی ہیں کہ ڈیوڈ کا پیرالمپکس کا خواب تب شروع ہوا، جب ہم چین گئے تھے جہاں پیرالمپکس ہو رہا تھا اور ڈیوڈ نے 500 الفاظ کا مضمون لکھنا تھا۔

’اس وقت ڈیوڈ کا انتخاب ہوا اور 2008 میں اسے پیرالمپکس دیکھنے کا موقع ملا، جہاں سے اس کا خواب شروع ہوا۔‘

انٹرنیشنل پیرالمپکس کمیٹی کی ویب سائٹ کے مطابق اسی کھیل کا انتخاب کرنے کے حوالے سے ڈیوڈ براؤن بتاتے ہیں کہ ’پہلے 50 یارڈ ڈیش میں دوسرے نمبر پر رہا، جس کے بعد میں نے خود سے کہا کہ میں تو کافی تیز ہوں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اس کے بعد میں نے سوچا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کا یہی طریقہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ہر ہمیشہ تیز دوڑنا چاہتا ہوں۔‘

آپ کے خیال میں اس وقت ڈیوڈ براؤن کتنے تیز ہوں گے؟ اگر آپ نہیں جانتے تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ ڈیوڈ براؤن اس وقت 100 میٹر کا فاصلہ صرف 10.89 سیکنڈ میں طے کر رہے ہیں، یعنی وہ اس وقت بھی کافی تیز ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈیوڈ براؤن اس وقت ٹوکیو میں جاری پیرالمپکس 2020 میں حصہ لے رہے ہیں جہاں ان کے ساتھ ان کے گائیڈ جیروم ایوری بھی دوڑیں گے۔ ان دونوں کی جوڑی گذشتہ سات سال سے ایک ساتھ ہے۔

حال ہی میں پیرالمپکس ٹوکیو 2020 سے قبل ان دونوں کے بارے میں ایک ڈاکیومینٹری بھی منظرعام پر آئی ہے۔

اس ڈاکیومنٹری کے آغاز میں ڈیوڈ براؤن اپنے گائیڈ جیروم سے کہتے ہیں کہ ’آپ کو تیز اس لیے دوڑنا پڑتا ہے تاکہ آپ میری رہنمائی کرسکیں اور مجھے اتنا ہی تیز اس لیے دوڑنا پڑتا ہے تاکہ ہم جیت سکیں۔ ہم دونوں کا تیز دوڑنا ضروری ہے۔‘

اس کے جواب میں جیروم ان سے کہتے ہیں کہ ’مقصد گولڈ ہے۔۔۔ گول از گولڈ۔‘

اس ڈاکیومنٹری میں انہیں نیویارک کی سیر کرتے، مختلف شخصیات سے ملاقات کرتے اور ٹریننگ کرتے دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بینائی سے محروم ایتھلیٹس کو اپنے گائیڈ کے آگے ڈبل لین میں دوڑتے رہنا ہوتا ہے۔ یہ دونوں ایک رسی سے جڑے ہوتے ہیں جس کی مدد سے  گائیڈ اپنے ساتھی ایتھلیٹ کی ٹریک پر رہنمائی کرتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ کب ختم کرنا ہے۔

ڈیوڈ براؤن اور جیروم ایوری کی جوڑی نے 2016 میں ریو اولمپکس میں ٹی11 کیٹیگری میں 100 دوڑ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی جوڑی دو عالمی چیمپیئن شپس بھی جیت چکی ہے۔

اب ان دونوں کی نظریں ٹوکیو پیرالمپکس 2020 پر جمی ہوئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل