نور مقدم کیس: ظاہر جعفر سمیت 11 ملزموں کے خلاف چالان تیار

ابتدائی چالان میں مرکزی ملزم کے والدین، دو گھریلو ملازمین اور تھراپی ورکس کے اہلکاروں اور ملازمین کو شامل کیا گیا ہے: پولیس حکام۔

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو عدالت پیشی کے لیے لایا جا رہا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

اسلام آباد پولیس کے مطابق نور مقدم قتل کیس کا ابتدائی چالان تیار کر لیا گیا ہے اور اسے آئندہ چند روز کے دوران عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت میں کوہسار پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ابتدائی چالان میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے علاوہ 11 دوسرے ملزمان کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مرکزی ملزم کے والدین، دو گھریلو ملازمین اور تھراپی ورکس کے اہلکاروں اور ملازمین کو بھی چالان میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ظاہر جعفر پر اقدام قتل کا الزام ہے جبکہ دوسرے ملزمان پر مرکزی ملزم کی اعانت، مدد کرنے اور پولیس سے حقائق چھپانے کے الزامات ہیں۔

کوہسار پولیس نے چالان میں ظاہر جعفر کے لیے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ان پر دوسرے کئی الزامات بھی لگائے گئے ہیں جن کی الگ سزائیں ہو سکتی ہیں۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ شواہد میں پانچ افراد کی ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹس دو  ہفتے بعد موصول ہوں گی، جو اس وقت مقدمے کے چالان میں شامل کر کے اسے مکمل کر دیا جائے گا۔ 

انہوں نے بتایا کہ کسی مقدمے کے چالان میں بعد ازاں وقتاً فوقتاً دستاویزات اور شواہد شامل کیے جا سکتے ہیں، جس کی عام طور پر عدالت کی طرف سے اجازت مل جاتی ہے۔

یاد رہے کہ 20 مئی کو پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی 28 سالہ بیٹی نور مقدم کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور کے ایک گھر سے بر آمد ہوئی تھی۔

اس قتل کا الزام مذکورہ گھر کے مالک ظاہر جعفر، جو پاکستان کے ایک مشہور بزنس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، پر عائد کیا گیا۔

ظاہر کو پولیس نے جائے واردات سے گرفتار کیا تھا جبکہ تیز دھار آلہ قتل بھی اسی مکان سے ملا۔

شروع میں ملزم قتل سے انکار کرتے رہے، تاہم سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو مل جانے کے بعد حقائق بڑی حد تک آشکار ہوئے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج ملنے کے بعد مذکورہ گھر کے دو ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا، جنہوں نے نور مقدم کو گھر کے ٹیرس سے چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا، لیکن پولیس کو اس متعلق اطلاع نہیں دی۔

بعد ازاں ظاہر جعفر کے والدین کو بھی گرفتار کیا گیا، جس سے تھراپی ورکس نامی ادارے کا نام بھی سامنے آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مرکزی ملزم کے والدین کو جب اپنے بیٹے کے ہاتھوں نور مقدم کے مبینہ قتل کی اطلاع ملی تو انہوں نے تھراپی ورکس  کے اہلکاروں کو مذکورہ گھر بھیجا تھا، جہاں ملزم نے ان پر حملہ کر کے ایک اہلکار کو زخمی بھی کیا۔

واضح رہے کہ تھراپی ورکس کے مالک اور چھ ملازمین ضمانت پر رہا ہیں، جس کے خلاف نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد اور گواہ موجود ہیں اور ان کا سزا سے بچ پانا ممکن نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تھراپی ورکس کے ملازمین نے حقائق چھپانے کی کوشش کی جو جرم کی اعانت کے زمرے میں آتا ہے۔

شاہ خاور نے کہا کہ مرکزی ملزم نے تھراپی ورکس کے ایک اہلکار کو زخمی کیا تھا جسے بعد میں روڈ ایکسیڈنٹ کا نتیجہ بتایا گیا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان