ہماری پرائیویسی ہے، میڈیا کو کمرہ عدالت سے باہر رکھیں: ظاہر جعفر

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ ملزمہ عصمت آدم نے ایک کیمرہ مین کےفون سے بنائی گئی ویڈیو بھی ڈیلیٹ کروا دی۔

ظاہر جعفر آج لمبے بالوں اور پونی کے بجائے نئے ہئیر کٹ کے ساتھ براؤن شلوار قمیص میں ملبوس تھے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیر کو نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر اور ان کی والدہ عصمت آدم نے ’پرائیویسی‘ کے لیے میڈیا والوں کو کمرہ عدالت سے باہر رکھنے کی درخواست کی جبکہ ایک کیمرہ مین کے موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بھی ڈیلیٹ کروائی گئی۔

سماعت سے قبل کمرہ عدالت کے باہر ملزمہ عصمت آدم جی نے موبائل فون سے ویڈیو بنانے والے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین کو کہا کہ وہ ویڈیو ان کے سامنے ڈیلیٹ کریں، جس کے بعد انہوں نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ کیمرہ مین کا موبائل فون لے کر ویڈیو ڈیلیٹ کی جائے، جس پر پولیس اہلکار نے کیمرہ مین کا موبائل فون لیا اور ویڈیو ڈیلیٹ کر دی۔

دوسری جانب مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت کے باہر پولیس اہلکاروں سے کہا کہ ’ہماری پرائیویسی ہے، لہذا میڈیا والوں کو کمرہ عدالت سے باہر رکھیں۔‘

ظاہر جعفر آج لمبے بالوں اور پونی کے بجائے نئے ہئیر کٹ کے ساتھ براؤن شلوار قمیص میں ملبوس تھے، جبکہ وہ پولیس اور میڈیا والوں سے انگریزی کی بجائے اردو زبان میں بات کرتے نظر آئے۔ اس سے قبل اپنی پیشیوں پر وہ کہہ چکے تھے کہ انہیں اردو نہیں آتی۔

ظاہر جعفر، ان کے والد ذاکر جعفر اور تین ملزمان کے ہاتھ ایک ہی زنجیر نما ہتھکڑی سے بندھے ہوئے تھے۔ ظاہر جعفر کی باڈی لینگویج سے تسلی اور کچھ رعونت ظاہر ہو رہی تھی جبکہ ملزمہ عصمت آدم جی برقعے میں پیش ہوئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت کا دورانیہ پانچ منٹ تھا، جس کے دوران عدالت نے ملزمان کی حاضری لگائی اور پولیس نے نور مقدم قتل کیس کا چالان عدالت میں جمع کروا دیا۔

مجسٹریٹ شعیب اختر نے ملزمان سے کہا کہ ’آپ کے کیس کا چالان آگیا ہے اور آٹھ ستمبر کی تاریخ مقرر کررہے ہیں۔‘

دوسری جانب ظاہر جعفر کے والد ملزم ذاکر جعفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے خواجہ حارث ایڈوکیٹ کو اپنا وکیل کرلیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت پر مدعی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ہفتے تک پولیس سے نور مقدم قتل کیس کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔

نور مقدم قتل کیس کیا ہے؟

رواں برس 20 جولائی کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ملزم کو موقع سے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

مرکزی ملزم ظاہر جعفر مشہور بزنس مین ذاکر جعفر کے صاحبزادے ہیں، جو جعفر گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں۔ پولیس نے جرم کی اعانت اور شواہد چھپانے کے جرم میں ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی سمیت دو گھریلو ملازمین کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا اور تفتیش مکمل ہونے پر عدالتی حکم پر ملزمان کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان