خود کشی کا خدشہ: ’ظاہر جعفر کو جیل میں ٹوتھ برش کی بھی اجازت نہیں‘

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے جیل میں رویے کے حوالے سے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ ’یہ معمول جیسا ہے، جیسا کہ اکثر بگڑے ہوئے بچوں کا ہوتا ہے۔‘

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو عدالت میں پیشی کے لیے لایا جا رہا ہے (فائل فوٹو: انڈپینڈنٹ اردو)

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ ’سابق سفیر کی صاحبزادی نور مقدم کے ہائی پروفائل قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جیل میں دیگر دو قیدیوں کے ساتھ ایک سیل میں رکھا گیا ہے اور ممکنہ خود کشی کے خدشے کے باعث ان کی جیل میں کڑی نگرانی کی جاری ہے۔‘

دوسری جانب پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ظاہر جعفر کو خود کشی کے خدشے کے پیش نظر ٹوتھ برش استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

27 سالہ نور مقدم کو گذشتہ ماہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون کے ایک گھر میں قتل کردیا گیا تھا۔ قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر قید ہیں۔ انہیں 16 اگست کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

قتل کی ہولناک تفصلات سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس قتل کی میڈیا پر بھرپور کوریج سے پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور صنفی امتیاز کی بدتر صورت حال دنیا کے سامنے اجاگر ہوئی ہے جس پر پہلے کم ہی بات کی جاتی تھی۔

اس بہیمانہ قتل کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، کارکنوں اور بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو ان کے دولت مند اور بااثر خاندان کے پس منظر اور امریکی شہریت کی وجہ سے سزا میں نرمی یا جیل میں خصوصی حیثیت دی جا سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز پر ظاہر جعفر کو سر درد کی شکایت پر اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا تھا جس پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

پنجاب کے وزیر جیل خانہ فیاض الحسن چوہان نے اس تنقید کے بعد جیل حکام کو فوری طور ملزم کے لیے کسی بھی ترجیحی سلوک روکنے کا حکم دیا۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد وڑائچ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ظاہر جعفر کو اس وقت دو دیگر قیدیوں کے ساتھ ایک سیل میں رکھا گیا ہے۔

ارشد وڑائچ نے فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا: ’اپنے والدین کے قتل میں ملوث اور سماجی بدنامی کا سامنا کرنے والے قیدیوں میں اس (خودکشی کرنے) کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے۔‘

انہوں نے 100 سے زیادہ قتل میں ملوث جاوید اقبال کی مثال دی جنہوں نے سال 2000 میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد جیل میں ہی خودکشی کر لی تھی۔ اس واقعے کو بڑے پیمانے پر انصاف کے ساتھ مذاق قرار دیا گیا تھا۔

ارشد وڑائچ نے کہا: ’لہذا ہم نے ظاہر کو تین لوگوں کو ساتھ رکھا ہے تاکہ اگر وہ کچھ کرنے لگے تو باقی قیدی جیل حکام کو خطرے کے بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

ظاہر کی گرفتاری کے کچھ دن بعد ان کے والدین، ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی اور ان کے دو گھریلو ملازمین کو بھی 24 جولائی کو ’ثبوت چھپانے اور شریک جرم ہونے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ایک سیشن عدالت نے ظاہر کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی علیحدہ علیحدہ درخواستیں مسترد کر دیں تھیں۔ ان کے خلاف کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی، شواہد چھپانے اور کئی دیگر الزامات شامل ہیں۔

پیر کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ظاہر کے والدین اور ان کے گھریلو عملے کے جوڈیشل ریمانڈ میں 23 اگست تک توسیع کردی تھی۔

ارشد وڑائچ نے بتایا کہ ذاکر جعفر کو اڈیالہ جیل کے سیل میں چار دیگر قیدیوں کے ساتھ جب کہ ظاہر کی والدہ کو جیل کے خواتین سیکشن میں ایک مشترکہ سیل میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے ان خبروں کو مسترد کردیا کہ اس دولت مند اور بااثر خاندان کے ساتھ جیل میں ترجیحی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی ’بہت سی ایجنسیاں‘ قریب سے نگرانی کر رہی ہیں  تاکہ قوانین کو توڑنے کی کوئی گنجائش نہ رہے۔

انہوں نے کہا: ’درحقیقت منگل کو میرے خلاف محکمہ داخلہ میں جعفر کے والدین کے وکیل نے شکایت درج کروائی ہے کہ ان کے ساتھ  جیل میں برا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘

جعفر کے والدین کے وکیل رضوان عباسی نے شکایت درج کرانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’میرے مؤکلوں کے لیے گھر کا کھانا اور کپڑوں کی فراہمی ان کا قانونی حق ہے جو انہیں نہیں دیا جا رہا، یہاں تک کہ جعفر کے ملازمین کو بھی ان کے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ہم ان کے قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہر فورم استعمال کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیلر نے اعتراف کیا کہ دوسرے قیدیوں کے برعکس ظاہر اور ان کے والدین کو اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے سیلز میں کوئی سامان رکھیں یا ان کے وکلا کے علاوہ کوئی ان سے ملاقات کریں۔

انہوں نے کہا کہ والدین کی جانب سے ملاقاتوں کی درخواستوں کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔

جب ظاہر کے جیل میں رویے کے بارے میں پوچھا گیا تو اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد وڑائچ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ معمول جیسا ہے، جیسا کہ اکثر بگڑے ہوئے بچوں کا ہوتا ہے۔ ہم ان کے رویے پر ایک رپورٹ تیار کر رہے ہیں جو ایک ماہ بعد پیش کی جائے گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ظاہر جعفر میں، مبینہ طور پر گرفتاری کے بعد پہلے چار سے پانچ دن جب انہیں پولیس ریمانڈ میں رکھا گیا تھا، منشیات کی عدم دستیابی کی علامات ظاہر ہوئی تھیں، لیکن اگست میں اڈیالہ جیل منتقل ہونے کے بعد ان کی صحت اچھی ہے۔

دوسری جانب وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ جعفر خاندان کو جیل میں کوئی خصوصی مراعات نہیں دی جا رہیں۔

چوہان نے مزید کہا کہ ظاہر کو اپنے سیل سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور انہیں جیل کا کھانا (دال، سبزی اور چاول) ہی دیا جا رہا ہے۔ خودکشی کے خدشے کی وجہ سے انہیں کوئی کتاب یا ٹوتھ برش رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ظاہر کو روزانہ کپڑے تبدیل کرنے کی اجازت ہے تو انہوں نے بتایا: ’صرف ایک شرٹ اور ٹراؤزرز جو انہوں نے پہن رکھا ہے۔‘

نور مقدم قتل سے متعلق صحافی کے وی لاگ پر تنقید

نور مقدم کے قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر تو اس وقت قانون کے شکنجے میں ہیں، لیکن ایک نجی چینل سے وابستہ صحافی عمران خان کی جانب سے ایک وی لاگ میں مقتولہ کے بارے میں کہے گئے کچھ الفاظ نے سوشل میڈیا پر اچھا خاصا طوفان برپا کردیا۔

صحافی عمران خان نے اپنے وی لاگ میں کہا: ’گذشتہ چھ مہینے کے دوران نور مقدم نے والد کی جانب سے آٹھ مرتبہ رابطہ کرنے پر صرف تین مرتبہ جواب دیا جب کہ ظاہر جعفر سے نور کا سینکڑوں مرتبہ رابطہ ہوا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا: ’جہاں رابطہ ہونا چاہیے تھا وہاں نہیں تھا جب کہ جہاں نہیں ہونا چاہیے وہاں تھا، اسلام آپ کو بتاتا ہے کہ ایسا نہ کریں یہ گناہ ہے۔ آپ کا معاشرہ اس طرح کی چیزوں کی آپ کو اجازت نہیں دیتا پھر بھی آپ وہی کر رہے ہیں۔‘

عمران خان کے اس وی لاگ پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید غصے کا اظہار کیا گیا اور ان کے اس بیان کو وکٹم بلیمنگ (متاثرہ شخص کو موردِ الزام ٹھہرانے) کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

حیدر کلیم نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا: ’میں عمران خان کے ’خیالات‘ سن کر حیران رہ گیا ہوں۔ انہیں خود کو صحافی کہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ بلکہ میرا تو یہ ماننا ہے کہ انہیں ٹی وی جیسا پلیٹ فارم فراہم ہی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ مردوں سے رابطہ رکھنے پر آپ (خواتین) کا سر قلم کیا جا سکتا ہے۔‘

ٹوئٹر صارف وردہ عباسی نے عمران خان کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ پھر بھی قتل کا جواز فراہم نہیں کرسکتے۔ اسلام میں کہیں بھی تفریق نہیں کی گئی کہ کسی نیکوکار کو قتل کیا جا رہا ہے یا گناہ گار کو۔‘

ڈاکٹر وسیم بلوچ نامی صارف نے تحریر کیا کہ ’جو قتل کرنے کی توجیہہ پیش کرے وہ بھی قتل میں شامل ہے۔ ہمارا معاشرہ اپنے پستی کے انتہائی آخری مقام پر ہے اور اللہ کرے اس سے مزید نیچے نہ گرے۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے عمران خان جیسے لوگوں کو ٹی وی سکرین پر جگہ دی جاتی ہے۔‘

تاہم کچھ لوگوں نے عمران خان کے بیان کو سپورٹ بھی کیا۔

جمیل حسین کا کہنا تھا کہ ’میں عمران خان سے سو فیصد متفق ہوں۔ وہ ایک بہادر آدمی ہیں۔‘

ٹوئٹر صارف احسن راجہ نے تحریر کیا: ’سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے، ہمیں سننا چاہیے اور حادثات کا باعث بننے والے تمام عوامل کے بار میں سوچنا چاہیے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان