پنشن کے لیے ماں کی لاش کو ’ممی‘ بنانے کا انکشاف

پولیس کے بیان کے مطابق ڈیمنشیا میں مبتلا 89 سالہ خاتون کی گذشتہ سال جون میں قدرتی موت واقع ہوئی تھی لیکن ان کی لاش رواں ہفتے برآمد ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق اس شخص نے جون 2020 سے اپنی والدہ کے لیے 50 ہزار یوروز پنشن وصول کی(پیکسلز)

یورپی ملک آسٹریا کی پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ کی پنشن جاری رکھنے کے لیے ان کی لاش کو ممی بنا کر ایک سال تک اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھا۔

پولیس کے بیان کے مطابق ڈیمنشیا (بھولنے کی بیماری) میں مبتلا 89 سالہ خاتون کی گذشتہ سال جون میں قدرتی موت واقع ہوئی تھی لیکن ان کی لاش رواں ہفتے برآمد ہوئی ہے۔

مغربی آسٹریا کی ریاست ٹیرول کے انزبرک شہر کے قریب رہنے والی آنجہانی خاتون کے 66 سالہ بیٹے نے اپنی والدہ کی لاش کو گھر کے تہہ خانے میں آئس پیک سے منجمد کرنے کا اعتراف کیا اور ان کے جسمانی سیال کے رساؤ کو روکنے کے لیے لاش کو پٹیوں میں لپیٹ دیا۔

انکشاف اس وقت ہوا جب پنشن لانے والے ڈاکیے نے خاتون سے ملنے کی درخواست کی، لیکن بیٹے نے ان کو انکار کر دیا۔ یہی بات پولیس کی تفتیش اور ایک سال پرانی لاش کی دریافت کی وجہ ثابت ہوئی۔

پولیس نے آسٹریا کے پبلک براڈکاسٹر او آر ایف کو بتایا کہ اس شخص نے جون 2020 سے اپنی والدہ  کی 50 ہزار یوروز پنشن وصول کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس کے سوشل سکیورٹی فراڈ یونٹ کے انچارج ہیلموٹ گفلر نے بتایا: ’اس شخص نے اپنی ماں کی لاش کو بلی کے گند سے ڈھانپا اور آخر کار لاش کو ممی بنا دیا گیا۔‘

گفلر نے مزید کہا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ اس کا بھائی گھر میں ان کی ماں کے بارے میں دریافت کرنے آیا لیکن اس نے انہیں بتایا کہ وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔

ان کے بھائی کے کئی بار گھر آنے پر بھی یہ راز ظاہر نہیں ہوا لیکن یہ ایک نئے ڈاکیے کی آمد تھی جس نے ان کے اس فراڈ کو بے نقاب کیا۔

ملزم نے پولیس کو بتایا کہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور اگر وہ اپنی والدہ کی موت کا اعلان کرتے تو ادائیگی فوری طور پر بند ہو جاتی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کے آخری رسومات کی ادائیگی یا گھر کا کرایہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔

ملزم پر لاش کو چھپانے اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ