میجر عزیز بھٹی کے کردار کے لیے فوجی تربیت حاصل کی: ناصر شیرازی

ناصر شیرازی کے بقول میجر عزیز بھٹی کا کردار ان کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ ایک تو کردار معمول کی زندگی سےمختلف، دوسرا وہ پہلی بار بطور اداکارکام کر رہے تھے۔

پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشان حیدر سے نوازے جانے والے میجر عزیز بھٹی کے یوم شہادت 12ستمبر کو یاد گار کے طور پر منایا جاتا ہے۔

انہیں خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی ’قربانی‘ سے متعلق قوم کو آگاہ رکھنے کے لیے ایک یادگار ڈاکیومینٹری (شارٹ فلم) بنائی گئی جو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر اور پی ٹی وی نے تیار کی تھی۔

میجر عزیز بھٹی کا کردار ادا کون کرے گا، یہ ایک بڑا سوال تھا۔ اس مقصد کے لیے بہت چھان بین اور تلاش کے بعد پی ٹی وی لاہور سینٹر میں ملازمت کرنے والے نیوز کاسٹر سید ناصر شیرازی کا انتخاب کیا گیا اور ان کی باقاعدہ فوجی ٹریننگ بھی کی گئی۔

ناصر شیرازی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے نشان حیدر کے نام سے میجرعزیز بھٹی شہید کی زندگی اور جنگ کے دوران کردار پر مبنی ڈرامے پر کام 1984-85 میں شروع ہوا۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان، بھارت کشیدگی کے باعث پروڈکشن شروع نہ ہوسکی اس کے بعد پھر 1986 اور اس کے بعد 1994میں کام ہوتا رہا۔ جب یہ مکمل ہوگیا تو 1996میں اسے پی ٹی وی سے نشر کیا گیا۔

’جب قوم نے یہ ڈرامہ دیکھا تو انہیں میجر عزیز بھٹی شہید کی زندگی اور جنگ میں ان کے کردار کا اندازہ ہوا۔‘

ناصر شیرازی کے مطابق جب یہ ڈراما نشر ہوا تو گلیوں اور بازاروں میں واقعی ہی سناٹا تھا، قوم کا شاید ہی کوئی فرد ہو جس نے یہ ڈراما مس کیا ہوگا۔

ان کے بقول میجر عزیز بھٹی کا کردار ان کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ ایک تو کردار معمول کی زندگی سے مختلف، دوسرا وہ پہلی بار بطور اداکار کام کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’راشد منہاس شہید سمیت جتنے بھی نشان حیدر حاصل کرنے والے ہیروز پر ڈاکومینٹریز بنیں ان سب میں میجر عزیز بھٹی کے کردار پر بننے والی فلم مختلف اور نمایاں ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں تمام مناظر حقیقی بنائے گئے، کوئی سیٹ نہیں لگایاگیاتھا اور دوسری جانب جنگی مشقیں بھی حقیقی ہیں۔ میرے یابطور میجرصاحب کی فیملی کے کام کرنے والے کرداروں کے علاوہ تمام کردار پاکستانی فوجی جوانوں یا افسران کے حقیقی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب سے میں نے یہ کردار ادا کیا ہے لوگ مجھے ناصر شیرازی کی بجائے میجر عزیز بھٹی شہید کےنام سے جانتے ہیں۔‘

اس مناسبت سے جب بھی وہ کسی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہیں تو لوگ انہیں وہی احترام دیتے ہیں جو میجر عزیز بھٹی کا تھا۔

’یہ کہنا غلط نہ ہوگا جب سے اس ڈرامے میں کام کیا ہے میری بھی شناخت تبدیل سی ہوگئی ہے۔‘

میجر عزیز بھٹی کون تھے؟

مختلف ریکارڈز اور حوالہ جات کے مطابق عزیز بھٹی 16 اگست 1923 کو ہانگ کانگ میں پیداہوئے اور وہیں سے بی اے کیا، پھر ان کا خاندان پاکستان آ گیا اور ضلع گجرات کے گاؤں لادیاں میں رہائش پذیرہوا۔

عزیز بھٹی نے 1948 میں پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 6 ستمبر 1965 کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔

اس کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر تعینات پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے بلند عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔ نو اور دس ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر پر بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جمع کر لی۔

میجر عزیز بھٹی کو اس صورت حال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ لڑکرراستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہرکیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہیں پہنچ گئیں۔

انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سےدفاع کے لیے منظم کیا۔ دشمن اپنے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھا مگر راجہ عزیزبھٹی نہ صرف اس کے شدید دباؤ کا سامنا کرتے رہے بلکہ حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔

گولے میجر عزیزبھٹی کے دائیں بائیں گر رہے تھےاسی وقت میجر صاحب نے دیکھا کہ برکی کی طرف سے چند بھارتی ٹینک تیزی سے نہر کی جانب بڑھے چلے آ رہے ہیں۔

انہوں نے فوری توپ خانے کو اس طرف گولہ باری کا حکم دیا، فائر ٹھیک نشانے پر لگا اور بھارتی ٹینک تباہ ہونے لگے۔

یہ 12ستمبر1965 کی صبح ساڑھے نو بجے کا وقت تھا جب بھارتی فوج کی جانب سے فائر کیا گیا گولہ سیدھا میجر راجہ عزیز بھٹی کو آ لگا۔

وہ اس گولے سے شدید زخمی ہوکر گر پڑےاور دم توڑ گئے لیکن ہمیشہ کے لیے اپنے کردار کو تاریخ میں امر کر گئے۔

اس بہادری پر پاکستان کاسب سے بڑا تمغہ نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی کو عطا کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا