راکاپوشی پر پھنسے تین کوہ پیما: ’ہیلی کاپٹر 20 سیکنڈ بھی نہیں رک سکتا تھا‘

گلگت بلتستان میں’راکاپوشی‘ پہاڑ پر گذشتہ تین دن سے پھنسے تین کوہ پیماؤں کا ریسکیو مشن اب تک کامیاب نہیں ہوسکا۔

پھنس جانے والے کوہ پیماؤں میں ایک پاکستانی واجد اللہ نگری اور جمہوریہ چیک کے دو کوہ پیما پیٹر میسک اور جیکب ویسک شامل ہیں (فوٹو: کریم حیات)

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں’راکاپوشی‘ پہاڑ پر گذشتہ تین دن سے پھنسے تین کوہ پیماؤں کا ریسکیو مشن موسم کی خرابی اور بہت زیادہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکا۔ اب تک اس سلسلے میں دو ریسکیو آپریشن کیے جاچکے ہیں۔

ان کوہ پیماؤں میں ایک پاکستانی واجد اللہ نگری اور جمہوریہ چیک کے دو کوہ پیما پیٹر میسک اور جیکب ویسک شامل ہیں، جو تقریباً 6900 میٹر کی اونچائی پر پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ تینوں کوہ پیما راکا پوشی سر کرنے کے بعد واپس آرہے تھے۔

 راکاپوشی دنیا کی 27ویں اور پاکستان کی 12ویں اونچی چوٹی ہے، جس کو ابھی تک کرنل شیر خان کے بعد پھنسے ہوئے واجد اللہ نگری نے سر کیا ہے۔

دو  ریسکیو آپریشن کیوں کامیاب نہ ہوسکے؟

جب پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں کے بارے میں معلوم ہوا تو گلگلت بلتستان کے ضلع نگر  کی نتظامیہ نے عسکری ایوی ایشن سے کوہ پیماؤں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کرنے کی درخواست کی۔ عسکری ایوی ایشن پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ آفیسر کی زیر نگرانی ایک ادارہ ہے جو اس قسم کے ریسکیو مشن میں خدمات فراہم کرتا ہے۔

ضلعی انتطامیہ کی درخواست مانی گئی اور  عسکری ایوی ایشن نے ہفتے کو ریسکیو مشن کا آغاز  کیا۔ ریسکیو ماہرین کریم حیات اور طاہر جوشی  بھی پائلٹ کے ساتھ گئے تاہم اس دن تیز ہوا کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اونچائی تک تو چلا گیا لیکن کوہ پیماؤں کو ریسکیو نہ کیا جاسکا۔

طاہر جوشی  نے بتایا کہ پہلے ریسکیو مشن پر ہم تین لوگ گئے تھے لیکن موسم کی خرابی کہ وجہ سے کامیابی نہ ہوئی، تاہم ہم نے پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں میں سے ایک کو ٹینٹ سے باہر آتے ہوئے دیکھا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ ابھی تک ٹھیک ہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ریسکیو مشن کے رکن کریم حیات نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے دن مشن کامیاب نہ ہونے کے بعد دوسرے دن ہم دوبارہ گئے لیکن اونچائی اتنی ہے کہ وہاں مشکل سے ہی ہیلی کاپٹر پہنچ سکتا ہے یعنی ہیلی کاپٹر کی جتنی حد ہے، اسی اونچائی پر یہ کوہ پیما بھی پھنسے ہوئے ہیں۔‘

کریم حیات نے مزید بتایا: ’خراب موسم کے باعث دوسرے دن کا مشن بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ ہم نے کوشش کی کہ کوہ پیماؤں کے لیے خوراک کے کچھ پیکٹ پھینک سکیں لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ موسم خراب تھا۔‘

کوہ پیماؤں کے پھنس جانے کی وجہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’کوہ پیماؤں نے بیس کیمپ تک تقریباً 400  میٹر کی رسی نہیں باندھی تھی اور یہ پروفیشنل کوہ پیما بھی نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب ان کے لیے یا تو رسی باندھنا ہوگی یا پھر یہ کوہ پیما بیس کیمپ تک نیچے آئیں گے اور وہاں سے انہیں ریسکیو کرنا پڑے گا لیکن منگل کو عسکری ایو ی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کی کوشش کی جائے گی۔‘

کریم حیات نے بتایا کہ آج صبح سویرے ہیلی کاپٹرز اوپر گئے اور کوہ پیماؤں کو خوراک اور رسی نیچے پھینکی گئی جو ان تک کامیابی سے پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا: ’کوہ پیماؤں  کو 300 میٹر کی رسی ہیلی سے پھینکی گئی تاکہ وہ نیچے اترنے میں سب سے مشکل جگہ پر رسی فکس کرسکیں اور اسی کے ذریعے نیچے آ سکیں اور پھر انہیں ہیلی کے ذریعے ریسکیو کیا جا سکے۔‘

گلگت کی جیسمین ٹریک اینڈ ٹورز کمپنی کوہ پیماؤں کو پہاڑی چوٹیاں سر کرنے میں انتظامی خدامت فراہم کرتے ہے۔ اس کمپنی کے سربراہ اصغر علی پورک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریسکیو مشن میں حصہ لینے کے لیے علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ اور جارجیا کے کچھ کوہ پیما جو چترال میں تھے، سکردو پہنچ گئے تاکہ ریسکیو مشن میں حصہ لے سکیں۔

اصغر نے بتایا کہ پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطہ ہوتا رہتا ہے اور ابھی تک ان کی حالت ٹھیک ہے۔ 

گلگت کے علاقے نگر سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما کریم شاہ نگری اس سارے ریسکیو مشن پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’دوسرے دن مشن میں ہیلی کاپٹر اوپر تو گیا تھا لیکن زیاہ انچائی پر وہ 20 سیکنڈز کے لیے بھی نہیں رک سکتا تھا۔‘

کریم شاہ نے بتایا: ’ہوا کے دباؤ اور خراب موسم کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ ہیلی کاپٹر سے خوراک کے پیکٹ یا ریسکیو ارکان کو اتارا جاسکے، یہی وجہ ہے کہ پائلٹ کو واپس آنا پڑا۔‘

’کوہ پیما بغیر این او سی کے گئے ہیں‘

ان تینوں کوہ پیماؤں کے پہاڑ پر پھنس جانے کی خبر سب سے پاکستانی کوہ پیما واجد اللہ نگری نے اپنے بھائی خیر اللہ کو سیٹیلائٹ فون پر دی تھی، جس کے بعد ان کے ریسکیو کے حوالے سے منصوبہ بندی شروع ہوئی، تاہم بعد میں پتہ چلا کہ ان تینوں کوہ پیماؤں نے پہاڑ پر جانے کے لیے حکام سے ضروری اجازت نامہ نہیں لیا تھا۔

گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان  نے یہ بات ٹوئٹر پر بتائی کہ پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں کے پاس متعلقہ ادارے سے جاری شدہ اجازت نامہ موجود نہیں ہے۔ یہ اجازت نامہ پاکستانی حکام کی طرف سے ہر اس کوہ پیما کو جاری کیا جاتا ہے، جو بیرون ملک سے یہاں آکر مشن میں حصہ لیتے ہیں۔

راجہ ناصر نے لکھا: ’یہ ایک غیر اخلاقی  فعل ہے اور ہم کوہ پیماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس قسم کے مشن پر جانے  سے پہلے اپنی حفاظت اور ایمرجنسی میں مدد فراہم کرنے کے لیے اجازت نامہ لیں تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔‘

اس اجازت نامے کی ایک فیس ہوتی ہے اور کوہ پیما بطور سکیورٹی رقم بھی جمع کرواتے ہیں، جسے کسی بھی ایمرجنسی کے دوران ریسکیو مشن میں استعمال کیا جاسکے، یعنی یہ ایک قسم کی انشورنس ہے۔

ریسکیو آپریشن کیسے کیا جاتا ہے؟

پاکستان میں واقع کے ٹو سمیت دیگر بلند چوٹیوں پر کوہ پیماؤں کے ساتھ کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی صورت میں ریسکیو آپریشن عسکری ایوی ایشن نامی کمپنی کرتی ہے۔

پاکستانی صحافی اور ایوی ایشن کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی طاہر عمران میاں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عسکری ایوی ایشن کے پاس چارٹر سروسز، ریسکیو سروسز، ایئرپورٹ سروسز، ٹریول اینڈ ٹوورز سروسز سمیت فلائنگ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بھی ہے۔

عسکری ایوی ایشن والے ریسکیو آپریشن میں دو قسم کے ہیلی کاپٹرز استعمال کرتے ہیں، جس میں ایک قسم کو ایم آئی ہیلی کاپٹرز اور ایک کو ’ایکوریل‘ یا یورو کاپٹر (سنگل انجن) والا ہیلی کاپٹر کہا جاتا ہے، جو ریسکیو کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عسکری ایوی ایشن کے مطابق چار ہزار میٹر سے بلند مقام پر ریسکیو آپریشن میں حفاظتی تدابیر کی وجہ سے دو ہیلی کاپٹرز استعمال کیے جاتے ہیں۔

طاہر عمران کے مطابق عسکری ایوی ایشن کے پاس جو ہیلی کاپٹرز  ہیں، وہی یورپ اور دیگر ممالک میں بھی ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال  کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کسی بھی کوہ پیما کے لیے ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں کی ایکسپیڈیشن کے لیے انشورنس کروانا لازم ہوتا ہے اور انشورنس کے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کوئی چوٹی سر کرنے کے مشن پر جائے۔

بقول طاہر عمران: ’عسکری ایوی ایشن کے پاس سکیورٹی جمع کروانے کے بعد اگر کسی کوہ پیما کو ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر کی ضرورت پڑتی ہے تو عسکری ایوی ایشن موسم کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ آیا وہ ریسکیو آپریشن شروع کریں یا نہیں۔‘

عمران حیدر تہیم کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ گذشتہ دس سال سے پاکستان کے ہمالیہ اور قراقرم رینج کی چوٹیوں میں کوہ پیمائی کے حوالے سے تحقیق کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ درپیش ہونے کی صورت میں کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کے لیے جو آپریشن کیا جاتا ہے، اسے ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ آپریشن کہا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کوہ پیما کتنی بلندی پر لاپتہ ہوئے یا ان کو کتنی بلندی پر واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد ہی آپریشن شروع کیا جاتا ہے۔

عمران حیدر کے مطابق: ’عسکری ایوی ایشن کے پاس ہیلی کاپٹرز کی رینج سات ہزار میٹر کی بلندی ہے اور اگر اسی رینج میں کسی کوہ پیما کو مسئلہ درپیش آئے تو ہیلی کاپٹر سے ان کو ریسکیو کرلیا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہیلی کاپٹر کوہ پیما کو ٹریس کرنے کے بعد بیس کیمپ کے ساتھ رابطے میں ہوتا ہے اور ٹریس کرنے کے بعد کوہ پیما کو ریسکیو کیا جاتا ہے جبکہ زخمی ہونے کی صورت میں انہیں قریبی مرکز صحت تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

تاہم حیدر کے مطابق ریسکیو آپریشن میں دشواری تب پیش آتی ہے، جب کوہ پیما سات ہزار میٹر سے اوپر کی بلندی پر لاپتہ ہو جائیں، جس طرح علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہوا تھا (راکا پوشی پر پھنسے کوہ پیما بھی تقریباً سات ہزار میٹر کی اونچائی پر موجود ہیں)۔

انہوں نے بتایا: ’اس صورت میں ہیلی کاپٹر سات ہزار میٹر تک چلے جاتے ہیں اور اپنے ساتھ ماہر کوہ پیما جو سات ہزار سے اوپر کی چوٹیوں کو سر کرنے کا تجربہ رکھتے ہوں، ان کو اسی علاقے میں ڈراپ کیا جاتا ہے جہاں پر کوہ پیما لاپتہ ہوئے ہوں۔‘

’تاہم سرچ کرنے کے لیے کوہ پیما کو ایکلاماٹائزیشن کی ضرورت ہوگی اور ایکلاماٹائزڈ (کسی بھی اونچائی کے ساتھ انسانی جسم کو معتدل حالت میں لانا) کوہ پیما ہی سات ہزار سے اوپر کی بلندی پر سرچ آپریشن میں حصہ لے سکتا ہے اور زیادہ تر بیس کیمپ میں پہلے سے موجود کوہ پیما جو ایکلاماٹائزڈ ہوں ان ہی کو سرچ کے لیے لے جایا جاتا ہے۔‘

عمران حیدر نے بتایا کہ ان کوہ پیماؤں کو خوراک اور رسی پھینک دی گئی ہے تاکہ یہ ذرا انرجی لے کر نیچے تقریباً 600 میٹر تک آجائیں تاکہ ریسکیو میں حصہ لینے والے کلائمبرز وہاں تک جا کر انہیں ریسکیو کرسکیں۔

انہوں نے مزید بتایا: ’راکاپوشی بہت ٹیکنیکل پہاڑی ہے اور جس بلندی پر یہ کوہ پیما پھنسے ہیں، وہاں ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کرنا مشکل ہے۔ اب ان پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں کو تھوڑا نیچے آنا پڑے گا اور رسی باندھنی پڑے گی۔‘

عمران حیدر نے بتایا کہ اصل میں ریسکیو میں حصہ لیبے والے کلائمبرز کی الگ ٹریننگ ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں کوہ پیما چوٹیاں تو سر کرتے ہیں لیکن ابھی تک تربیت یافتہ ریسکیورر سامنے نہیں آئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان