کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن پر کتنا خرچ آتا ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کے ٹو اور اس قسم کی دیگر چوٹیوں کو سر کرنے کے دوران اگر کوہ پیما لاپتہ ہو جائیں تو ان کی تلاش کے لیے ہونے والے ریسکیو آپریشن پر کتنا خرچہ آتا ہے اور یہ ریسکیو آپریشن کس طریقے سے کیا جاتا ہے۔

بعض مرتبہ بلند چوٹی کو سر کرنے میں کوہ پیماؤں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن کو پھر طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے (اے ایف پی/ سیون سمٹ ٹریکس)

 پاکستان میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو رواں سال مختلف ممالک کے 110 کوہ پیماؤں نے سر کرنے کی ٹھانی، جن میں سے نیپال سے تعلق رکھنے والے دس کوہ پیماؤں نے 28 ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر واقع اس ’مشکل ترین‘ چوٹی کو موسم سرما میں سر کرکے تاریخ رقم کی۔

نیپالی کوہ پیماؤں کے سردی میں کے ٹو سر کرنے کے بعد پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے آئس لیںڈ کے جان سنوری اور چلی  سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما جان پبلو موہر کے ساتھ  سمٹ کا آغاز کیا تاہم پانچ فروری کے بعد سے یہ تینوں کوہ پیما لاپتہ ہیں اور ابھی تک مختلف ریسکیو آپریشنز کے باوجود ان کا کچھ پتہ نہیں چلا ہے۔

کے ٹو سمیت دنیا کی 14 دیگر چوٹیاں، جن کی اونچائی 28 ہزار فٹ سے بلند ہے، کو سر کرنے کی خواہش ہر کوہ پیما کی ہے۔ ان میں زیادہ تر غیر ملکی کوہ پیما ہوتے ہیں، جن میں سے بعض تو صاحب حیثیت ہوتے ہیں اور ان کے پاس چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے درکار رقم ذاتی طور پر موجود ہوتی ہے جبکہ بعض کو مختلف کمپنیوں کی طرف سے سپانسر کیا جاتا ہے۔

ایسے واقعات ماضی میں بھی سامنے آئے ہیں کہ کوہ پیما اس طرح کی بلند چوٹیوں کو تسخیر کرنے کے دوران لاپتہ ہو گئے یا جان سے چلے گئے۔ تاہم لاپتہ ہونے کی صورت میں ان کوہ پیماؤں کو تلاش کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن کیے جاتے ہیں۔

بعض مرتبہ بلند چوٹی کو سر کرنے میں کوہ پیماؤں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن کو پھر طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

نیپال کے دس کوہ پیما جو کے ٹو کی چوٹی سر کرچکے ہیں، کے ایک ساتھی اس مہم کے دوران گرنے کے باعث شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کو کیمپ کے اندر طبی امداد بھی دی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کے ٹو اور اس قسم کی دیگر چوٹیوں کو سر کرنے کے دوران اگر کوہ پیما لاپتہ ہو جائیں تو ان کی تلاش کے لیے ہونے والے ریسکیو آپریشن پر کتنا خرچہ آتا ہے اور یہ ریسکیو آپریشن کس طریقے سے کیا جاتا ہے۔

الپائن کلب پاکستان میں کوہ پیمائی کو فروغ دینے والی ایک تنظیم ہے، جو 1974 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس تنظیم میں کوہ پیما بھی شامل ہیں۔

الپائن کلب کے جنرل سیکرٹری کرار حیدری سے جب کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے والے ہیلی کاپٹر کے کرائے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ریسکیو کی سروس زیادہ تر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستانی فوج کی جانب سے مفت فراہم کی جاتی ہے، تاہم کوہ پیماؤں کی جانب سے اس سروس کو ہائر بھی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کوہ پیماؤں کو عسکری ایوی ایشن نامی ایک پاکستانی ادارے کے پاس 15 ہزار ڈالر یعنی تقریباً 23 لاکھ روپے کی قابل واپسی رقم جمع کروانی پڑتی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں پاکستان آرمی کی جانب سے عسکری ایوی ایشن کو درخواست دینے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو سروس فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اگر مہم جوئی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے تو جمع کروائی گئی رقم میں سے 64 ہزار روپے بطور سروس فیس کاٹ کر بقیہ رقم کوہ پیما کو واپس دی جاتی ہے۔‘

ریسکیو آپریشن کیسے کیا جاتا ہے؟

پاکستان میں واقع کے ٹو سمیت دیگر بلند چوٹیوں میں کوہ پیماؤں کے ساتھ کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی صورت میں ریسکیو آپریشن عسکری ایوی ایشن نامی کمپنی کرتا ہے جو پاکستان میں ایک کمرشل کمپنی ہے جو کو پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ  ایوی ایشن شعبے سے وابستہ اہلکاروں کے زیر انتظام ہے۔

پاکستانی صحافی اور ایوی ایشن کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی طاہر عمران میاں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عسکری ایوی ایشن کے پاس چارٹر سروسز، ریسکیو سروسز، ائیر پورٹ سروسز، ٹریول اینڈ ٹوورز سروسز سمیت فلائنگ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بھی ہے۔

عسکری ایوی ایشن والے ریسکیو آپریشن میں دو قسم کے ہیلی کاپٹرز استعمال کرتے ہیں جس میں ایک قسم کو ایم آئی ہیلی کاپٹرز اور ایک کو ’ایکوریل‘ یا یورو کاپٹر ( سنگل  انجن) والا ہیلی کاپٹر کہا جاتا  ہے جو ریسکیو کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عسکری ایوی ایشن کے مطابق چار ہزار میٹر سے بلند مقام پر ریسکیو آپریشن میں حفاظتی تدابیر کی وجہ سے دو ہیلی کاپٹرز استعمال کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طاہر عمران کہتے ہیں کہ کسی بھی کوہ پیما کے لیے ہمالیہ اور قراقرم پہاڑوں کی ایکسپیڈیشن کے لیے انشورنس کرنا لازم ہوتا ہے اور انشورنس کے بغیر کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کوئی چوٹی سر کرنے کے مشن پر جائے۔

انہوں نے بتایا کہ عسکری ایوی ایشن  کے پاس جو ہیلی کاپٹرز  ہیں وہی یورپ اور دیگر ممالک میں بھی ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال  کیے جاتے ہیں۔

طاہر عمران کا کہنا ہے کہ ’عسکری ایوی ایشن کے پاس سکیورٹی جمع کرانے کے بعد اگر کسی کوہ پیما کو ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر کی ضرورت پڑتی ہے تو عسکری ایوی ایشن موسم کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ آیا وہ ریسکیو آپریشن شروع کریں یا نہیں۔‘

عمران حیدر تہیم کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان کے ہمالیہ اور قراقرم رینج کی چوٹیوں میں کوہ پیمائی کے حوالے سے تحقیق کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کوہ پیما کو کسی بھی نا خوشگوار واقعہ درپیش ہونے کی صورت ان کو ریسکیو کے لیے جو آپریشن کیا جاتا ہے اس کو ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ آپریشن کہا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کوہ پیما کتنی بلندی پر لاپتہ ہوئے یا ان کو کتنی بلندی  پر واقعہ پیش آیا، اس کے بعد آپریشن شروع کیا جاتا ہے۔

حیدر نے بتایا کہ ’عسکری ایوی ایشن کے پاس ہیلی کاپٹرز کی رینج سات ہزار میٹر کی بلندی ہے اور اگر اسی رینج میں کسی کوہ پیما کو مسئلہ درپیش آئے تو ہیلی کاپٹر جا کر اس کو ریسکیو کرتا ہے۔‘

ہیلی کاپٹر کوہ پیما کو ٹریس کرنے کے بعد بیس کیمپ کے ساتھ رابطہ میں ہوتا ہے اور ٹریس کرنے کے بعد کوہ پیما کو ریسکیو کیا جاتا ہے، زخمی ہونے کی صورت میں ان کو قریبی مرکز صحت پہنچا دیا جاتا ہے۔

تاہم حیدر کے مطابق ریسسکیو آپریشن میں دشواری تب پیش آتی ہے جب کوہ پیما سات ہزار سے اوپر کی بلندی ہر لاپتہ ہو جائے جس طرح علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہوا ہے۔

’اس صورت میں ہیلی کاپٹر سات ہزار میٹر تک چلے جاتے ہیں اور اپنے ساتھ ماہر کوہ پیما جو سات ہزار سے اوپر کی چوٹیوں کو سر کرنے کا تجربہ رکھتے ہوں ان کو اسی علاقے میں ڈراپ کیا جاتا ہے جہاں پر کوہ پیما لاپتہ ہوئے ہوں۔‘

تاہم  سرچ کرنے کے لیے کوہ پیما کو ایکلاماٹائزیشن کی ضرورت ہوگی اور ایکلاماٹائزڈ کوہ پیما ہی سات ہزار سے اوپر کی بلندی پر سرچ آپریشن میں حصہ لے سکتا ہے اور زیادہ تر بیس کیمپ میں پہلے سے موجود کوہ پیما جو ایکلاماٹائزڈ ہوں ان کو سرچ کے لیے لے جایا جاتا ہے۔‘

ورچوئل سرچ آپریشن کیا ہوتا ہے؟

آئس لینڈ کی ایک نجی سپیس ایجنسی نے علی سدپارہ سمیت دیگر کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے بدھ کے روز ورچوئل ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

علی حیدر سے جب پوچھا گیا کہ ورچوئل ریسکیو آپریشن کس طرح کیا جاتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں ماہرین کمرے میں بیٹھ کر کسی جگہ میں ٹیکنالوجی کی مدد سے آپریشن کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں کوہ پیما کے ٹریکر کا ڈیٹا یعنی ٹریکر آخری مقام پر جب بند ہوا ہے، تو اسی جگہ کا ایک گراف بنایا جاتا ہے اور اس طرح گوگل ارتھ وغیرہ کی مدد سے اسی جگہ کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

’ایسے  ادارے گوگل ارتھ سے بھی مدد لے سکتے ہیں کہ وہ گوگل کو درخواست کریں کہ جس جگہ پر کوہ پیما لاپتہ ہوئے اس کی ہائی کوالٹی لائیو امیجز ان کو فراہم کی جائیں جو کوہ پیماؤں کی تلاش میں مددگار ثابت ہوں۔‘

تاہم علی حیدر سمجھتے ہیں کہ باہر دنیا میں کوہ پیما کو تلاش کرنے  میں اتنے دن نہیں لگائے جاتے۔

انہوں نے بتایا کہ طریقہ کار یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی کوہ پیما لاپتہ ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ تین دن تک ان کو تلاش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس متعلقہ کوہ پیما کو 'PRESUMELY DEAD’  یعنی اس کو ’مردہ تصور‘ کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

علی حیدر نے بتایا کہ دو تین دن پہلے اٹلی کے ایک کوہ پیما بھی برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے لاپتہ ہوگئے تھے اور تین دن کے سرچ آپریشن کے بعد اعلان کیا گیا کہ ان کو مردہ تصور کیا جائے اور ان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان