الیکشن کمیشن کا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن میں منگل کے روز ہونے والا اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہوا جس میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات پر بحث کی گئی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی عمارت  (فائل تصویر: اے ایف پی)

الیکشن کمیشن نے دو روز جاری رہنے والے اجلاس میں جائزہ لینے کے بعد آج وفاقی  وزرا کے الزامات مسترد کر دیے  ہیں اور اعظم سواتی سے الزامات کے ثبوت مانگ لیے ہیں۔

الزامات تراشی پر الیکشن کمیشن نے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اعظم سواتی اور الیکشن کمیشن حکام کے مابین تلخ کلامی ہوئی تھی جس میں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن حکومت کا مذاق اڑا رہا ہے اور الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ جہنم میں جائیں ایسے اداروں کو آگ لگا دیں ۔الیکشن کمیشن ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے کا ضامن ہے۔ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی کرتارہا ہے۔‘

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر ریلوےاعظم سواتی کے بیان پرالیکشن کمیشن حکام غصے میں اجلاس سے واک آوٹ کر گئے تھے۔ جس میں سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ حکومتی وزرا نے گزشتہ روزبھی اجلاس میں  بدتمیزی کی اور آج بھی الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے گئے۔

جب کہ وفاقی اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کا رویہ پارلیمان کے استحقاق کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔ اگر الیکشن کمیشنر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا عہدہ چھوڑ کے سیاست میں ہاتھ آزمانا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر پارلیمان میں آ کر کردار ادا کریں اور ’چھوٹی جماعتوں کے ہاتھوں میں آلہ کار نہ بنیں۔‘ وزرا اور حکومتی الزامات کے بعد یہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن میں منگل کے روز ہونے والا اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہوا جس میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات پر بحث کی گئی۔ متفقہ طور پر ممبران نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی اور الزامات مسترد کر دیے۔

الیکشن کمیشن نے صدر پاکستان اور سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی میں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے جو الزامات لگائے اس کے ثبوت طلب کر لیے ہیں۔ جب کہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن کے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کو آئندہ انتخابات میں استعمال کے اعتراضات پر الزامات لگانے پر مذمت کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ دونوں وفاقی وزرا کو قانونی نوٹس بھجوا کر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ الیکشن کمیشن نے پیمرا سے بھی وزرا کے الزامات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے جب کہ ایوان صدر،قائمہ کمیٹی اور پریس بریفنگ سمیت تمام ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

حکومت اور الیکشن کمیشن کا تنازع ہے کیا؟

رواں برس حکومت نے سال 2023 کے عام انتخابات کے لیے الیکٹرونک ووٹنگ سسٹم تعارف کرایا اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا نظام ترتیب دیا ہے جس سے دھاندلی ممکن نہیں ہو سکے گی اور ہر ووٹر کا حساب ہو گا۔ نتائج کے لیے ابھی انتظار نہیں کرنا پڑے گا ایک کلک سے نتائج آ جائیں گے۔

وزارت سائنس کے اس دعوے کے بعد الیکشن کمیشن حکام نے الیکٹرونک مشین کا تکنیکی جائزہ لیا اور کچھ غلطیوں کی نشاندہی کی۔ جون میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین پارلیمنٹ میں ڈیمونسٹریشن کے لیے بھی رکھی گئی پھر الیکشن کمیشن کے تکنیکی اعتراضات پر وزارت سائنس نے مشین میں ضروری تبدیلی کی لیکن اگست میں جب الیکٹرونک مشین کا نیا ورژن دوبارہ سامنے لایا گیا تو حکومتی وزرا نے اُسے کامیابی قرار دیا لیکن الیکشن کمیشن نے 37 تکنیکی سوالات اٹھا دیے۔

الیکشن کمیشن کے اعتراضات کیا تھے؟

الیکشن کمیشن پاکستان کی دستاویز کے مطابق مشین میں چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے اور اس کا سافٹ وئیر آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مزید ’یہ یقینی بنانا تقریباً ناممکن ہے کہ ہر مشین ایمانداری سے کام کرسکے۔‘

اعتراضات میں مزید کہا گیا کہ ای وی ایم کی بڑے پیمانے پر خریداری اور تعیناتی اور آپریٹرز کی بڑی تعداد کو ٹریننگ دینے کے لیے وقت بہت کم ہے، کیونکہ ہر مشین کے ساتھ ایک الگ آپریٹر درکار ہے۔ مطلب ہر پولنگ بوتھ میں مشین کے ساتھ ایک آپریٹر جو مشین کو چلائے گا۔ یعنی ایک پولنگ سٹیشن پر جتنے بوتھ ہوں گے اتنی تعداد میں آپریٹرز۔

اس کے علاوہ مشین کو انٹرنیٹ کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا اگر ایسا کریں گے تو ہیکنگ کا چانس ہے۔  اور اگر سافٹ وئیر پروگرام انسٹال کرنا ہے تو وہ کون کرے گا اور انتخابات سے کتنے روز قبل انسٹال ہو گا اور اس کی سیفٹی کا کیا طریقہ کار ہو گا کہ کریک نہ ہو سکے؟

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک ای وی ایم میں بیس امیدواروں کی گنجائش ہے جو کہ عام انتخابات میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے تکنیکی مسئلے کا سبب بنے گا۔ مزید کہا گیا کہ ایک ہی وقت میں ملک بھر میں ای وی ایم متعارف کرانا مناسب نہیں ہے، قانون کے تحت ضرورت کے مطابق ایک دن میں پولنگ تقریباً ناممکن ہوگی۔

اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا کہ بیلٹ کی رازداری، ہر سطح پر صلاحیت کا فقدان اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور مشینوں کو بریک کے دوران اور ٹرانسپورٹیشن کے دوران سنبھالنے کا فقدان بھی ہے۔

اس کے علاوہ انتخابی تنازع کی صورت میں کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوگا، بیلٹ پیپر میں تبدیلی کے حوالے سے آخری لمحات میں عدالتی احکامات کی وجہ سے ڈیٹا انٹیگریشن اور کنفیگریشن کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ جب کہ مشین رکھنے کے لیے دھول اور نمی سے پاک مناسب درجہ حرارت کے ماحول کے گودام کی عدم موجودگی بھی ایک مسئلہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنتیس اعتراضات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ’ای وی ایم ووٹرز کی کم تعداد، خواتین کا کم ٹرن آؤٹ، ریاستی اختیارات کا غلط استعمال، انتخابی دھوکا دہی، الیکٹرانک بیلٹنگ، ووٹ خریدنا، امن و امان کی صورتحال، پولنگ کا عملہ، بڑے پیمانے پر سیاسی اور انتخابی تشدد اور ریاست کے ساتھ زیادتی کو نہیں روک سکے گا۔‘

الیکشن کمیشن نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’جلد بازی میں ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی صورت میں آئین کے مطابق آزاد، منصفانہ، قابل اعتماد اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے اور یہ حوالہ بھی دیا گیا کہ جرمنی، ہالینڈ، آئرلینڈ، اٹلی اور فن لینڈ نے سیکیورٹی کی کمی کی وجہ سے ای وی ایم کا استعمال ترک کر دیا ہے۔‘

الیکشن کمیشن کی متفقہ رائے یہ تھی کہ تکنیکی مسائل ختم ہونے تک اگلے عام انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کی اپوزیشن نے حمایت کی اور یوں اپوزیشن کی حمایت کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے اعتراضات کو حکومت نے اپوزیشن کی ایما قرار دیا۔ جو الیکشن کمیشن اور حکومت کے مابین تنازع کا باعث بن گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے الیکشن کمیشن کے بیان پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا لیکن ان کی طرف سے ردعمل موصول نہیں ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان