پلاٹوں کا مال غنیمت

یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ریاست پلاٹ بھی انہی کو دیتی ہے جنہیں تنخواہوں، مراعات اور پینشن کے نام پر بھی ساری عمر نوازا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں کتنے ہی دیہات ہیں جن کی زمین چالیس پچاس سال پہلے ایکوائر کرلی گئی۔ ان کو بدلے میں ادا کی جانے والی قیمت کا تعین بھی چالیس پچاس پہلے ہی کر لیا گیا لیکن ادائیگی اب جا کر اس وقت کی جا رہی ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن سکتے ہیں

 

اہم مناصب پر فائز شخصیات پر کشش تنخواہیں، ہوش ربا مراعات اور غیر معمولی پینشن لیتی ہیں تو پھر پلاٹوں پر ان کا کیا استحقاق ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ غریبوں کو ان کی آبائی بستیوں سے ہجرت پر مجبور کر دیا جائے اور ان کی پُرکھوں کی زمینوں پر پلاٹ بنا کر اشرافیہ میں بانٹ دیے جائیں؟

اس بے رحمی سے تو مال غنیمت کی تقسیم بھی نہیں ہوتی جس بے رحمی سے ہمارے ہاں زمینیں اور پلاٹ بانٹے جاتے ہیں۔ جس سفاکی سے زمین غریب مالکوں سے ہتھیائی جاتی ہے اور جس بے نیازی سے اس پر پلاٹ بنا کر بالادست طبقات میں تقسیم کیے جاتے ہیں، یہ سارا کھیل ہی سوالیہ نشان ہے اور ظلم کے علاوہ اس کا کوئی موزوں نام تلاش کرنا ممکن نہیں۔

جس قانون کے تحت وطن عزیز میں کھڑے کھڑے مالکان کو ان کی زمین سے محروم کر دیا جاتا ہے اس قانون کا نام لینڈ ایکوی زیشن ایکٹ ہے۔ یہ قانون 1894 کا ہے جب ایک مفتوحہ ملک کے باشندگان کے لیے ضابطہ بنایا گیا کہ سرکار چاہے تو کسی ’عوامی مقصد‘ کے لیے یا ’کمپنی‘ کے لیے آپ کی زمین حاصل کرسکتی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد بجائے اس کے کہ اس قانون کو دیکھا جاتا اور اس میں معنوی اصلاحات کی جاتیں، ہم نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بھی ’عوامی مقصد‘ میں شامل کرلیا۔ تب سے اب تک کسی غریب کو امان نہیں اور ہاؤسنگ سیکٹر جدھر کا رخ کرتا ہے، دھرتی پر المیے اگا دیتا ہے اور پُرکھوں کی زمینوں سے لوگ کھڑے کھڑے ’قانونی طور پر‘ محروم ہو جاتے ہیں۔

ایک اور ظلم یہ ہوا کہ لوگوں کی زمین ایکوائر کرتے وقت معمولی سی قیمت لگا دی جاتی ہے لیکن یہ قیمت انہیں اس وقت ادا نہیں کی جاتی۔ اسلام آباد میں کتنے ہی دیہات ہیں جن کی زمین چالیس پچاس سال پہلے حاصل کرلی گئی۔ ان کو بدلے میں ادا کی جانے والی قیمت کا تعین بھی چالیس پچاس پہلے ہی کر لیا گیا لیکن ادائیگی اب جا کر اس وقت کی جا رہی ہے جب انہیں زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

یہ ادائیگی اگر ان لوگوں کو اسی وقت کر دی گئی ہوتی جب ان کی زمینیں ہتھیائی گئی تھیں تو یہ پیسے ان کے کسی کام آ سکتے ہیں۔ آج یہ کس کام کے۔ ادائیگی اگر آج ہونا تھی تو یہ آج کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونی چاہیے تھی لیکن قانونی ماہرین جب واردات ڈالتے ہیں توکمال کی ڈالتے ہیں۔ یہ معمولی سی رقم لینا بھی کتنا مشکل ہے اور کہاں کہاں رشوت دینا پڑتی ہے، سی ڈی اے کے کسی واقف حال سے پوچھ لیجیے یا کسی ایسے بد نصیب سے پوچھ لیجیے جس کی زمینیں ہتھیائی جا چکیں۔

ان مقبوضہ جات پر پھر ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور سیکٹر بنتے ہیں جہاں اشرافیہ کو نوازا جاتا ہے اور ایسی سیانی قسم کی قرعہ اندازی میں پلاٹ نکلتے ہیں کہ خلق خدا سر پیٹ لیتی ہے۔ ’ونڈ کھاؤ تے کھنڈ کھاؤ‘ کی بنیاد پر بالادست طبقات نے اس مال غنیمت کی تقسیم میں ایسے طبقات کو بھی شامل کر رکھا ہے جن سے کسی بھی درجے میں خطرہ ہو کہ یہ رنگ میں بھنگ ڈال سکتے ہیں۔

چنانچہ ہائی کورٹ اسلام آباد میں جناب چیف جسٹس کی عدالت میں ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر بتاتے ہیں کہ عدلیہ، صحافیوں، وکلا اور خود مختار اداروں کو بھی کوٹہ سسٹم کے تحت پلاٹ دیے جاتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس نے سوال پوچھا کہ ’پھر مزدور کا کیا قصور ہے؟‘ اس سوال میں جہانِ معنی پوشیدہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافیوں کا معاملہ بھی دل چسپ ہے۔ شہر اقتدار میں ایک ’میڈیا ٹاؤن‘ آباد ہے۔ خدا اسے دائم آباد رکھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محکمہ جنگلات کی زمین پر رہائشی کالونی بنانے کا فیصلہ ایک جائزاور قانونی فیصلہ تھا اور کیا قانون میں یہ دم خم موجود ہے کہ وہ یہ سوال اٹھا سکے؟ نیز یہ کہ جب میڈیا ٹاؤن کے نام پر ایک پوری سوسائٹی موجود ہے، پھر ہر سیکٹر میں ان کا کوٹا کیوں؟

اور صرف انہی کا نہیں، سوال یہ ہے کہ ججوں اور بیوروکریٹوں کا کوٹا بھی کیوں؟جناب چیف جسٹس نے بالکل درست سوال اٹھایا کہ جو ججز کرپشن پر نکالے جا چکے، آپ نے ان کو بھی پلاٹ دے دیے، ریاست کی پالیسی کیا ہے؟ سوال مگر یہ ہے کہ جو جج کرپشن پر نہیں نکالے گئے پلاٹوں پر ان کا حق بھی کیسے تسلیم کر لیا جائے؟

یہاں مزدور ٹاؤن کیوں نہیں بنتا؟ سپریم کورٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی سرکاری جگہ پر بن سکتی ہے، انٹیلی جنس بیورو کی بن سکتی ہے، درجن بھر دیگر اداروں کی بن سکتی ہے تو ریاست بھٹہ خشت مزدوروں اور سبزی منڈی کے مشقتیوں کے لیے سیکٹر کیوں نہیں بناتی؟ الگ سیکٹر نہیں تو ہر سیکٹر میں جہاں دوسروں کے لیے کوٹے ہیں ان کے لیے کیوں نہیں؟

ریاستی وسائل چند طبقات میں مختلف عنوانات کے تحت بانٹے جا رہے ہیں اور پلاٹ ان میں سے حسین ترین عنوان ہے۔ ریاست اگر اتنی ہی مہربان ہے تو کسی فارمولے اور قاعدے کے تحت تمام شہریوں کو پلاٹ دے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ریاست پلاٹ بھی انہی کو دیتی ہے جنہیں تنخواہوں، مراعات اور پینشن کے نام پر بھی ساری عمر نوازا جاتا ہے۔

استاد دامن نے کہا تھا؎

چاراں پاسے قبراں تے اُڈدی پئی اے مٹی
پکھی واس پیدا کرو، کوٹھیاں بنائی جاؤ

کھائی جاؤ کھائی جاؤ بھیت کنہیں کھولنے نے
وچوں وچ کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جاؤ

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ