کابل: ’60 ہزار ڈالر کا گھر اب 15 ہزار میں بھی نہیں بک رہا‘

افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پراپرٹی کے کاروبار میں مندی کا رجحان ہے جہاں ایک رہائشی نے بتایا کہ وہ اپنا گھر چند ہفتے قبل کی قیمت کے مقابلے میں چار گنا کم قیمت پر فروخت کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی خریدنے کو تیار نہیں۔

افغانستان کے درالحکومت کابل میں لاکھوں کروڑوں کی مالیت کے مکانات اور اراضی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور ان کی مانگ میں بھی مندی کا رجحان ہے۔

گذشتہ ماہ کے وسط میں کابل میں حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا اور وہاں طالبان نے اپنی حکومت قائم کی تھی جس کے بعد وہاں ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں مستقل مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

کابل کے نادر ہاشمی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ اپنا گھر چند ہفتے قبل کی قیمت کے مقابلے میں چار گنا کم قیمت پر فروخت کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی خریدنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا: ’میں نے ایک ماہ سے اپنے گھر کو فروخت کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ایک ماہ پہلے کی حکومت میں مجھے اس کی 60 ہزار ڈالر قیمت مل رہی تھی لیکن اب حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ 15 ہزار ڈالر میں بھی فروخت نہیں ہو رہا۔ اگر کوئی 15 ہزار ڈالر دے تو میں اس کو فروخت کرنے کو تیار ہوں۔‘

ان کے بقول: ’میرے بیوی بچے ہیں ان کی ضروریات کے لیے میں مجبور ہوں کہ کوئی میرا گھر 15 ہزار ڈالر میں بھی لیتا ہے تو اس کو دے دوں گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زمینی اثاثوں کی خریدوفروخت یا ریئل سٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ایک ڈیلر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اثاثوں کی خریدو فروخت اور کرایہ داری 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔

شہر شیرپور سے تعلق رکھنے والے احمد زئی 20 سال سے شہر میں رئیل سٹیٹ کا کاروبار کررہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’نئی حکومت کے آںے سے بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں بلکہ 100 فیصد تبدیلی آئی ہے۔ پہلے 100 فیصد کام تھا لیکن اب صفر ہو گیا ہے۔ ابھی تھوڑا بہت کام شروع ہوا ہے۔ پہلی حکومت میں جو گھر ہم تین چار ہزار ڈالر میں کرائے پر دیتے تھے اب تین چار سو ڈالر میں لوگ لینا چاہ رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اب شیرپور شہرِ نو اور وزیر اکبر میں 80 فیصد گھر خالی ہیں۔ لوگ یہاں نہیں ہیں۔ ہمارا کام بالکل میں کم ہو گیا ہے۔ ہم اپنے آفس کا کرایہ مشکل سے دے رہے ہیں۔ آفس آنا یہاں کھانا پینا سب اپنی جیب سے خرچ ہو رہا ہے۔ کوئی آمدن نہیں ہو رہی ہے۔‘

احمد زئی جیسے پراپرٹی ڈیلرز اپنی نئی حکومت سے درخواست کررہے ہیں کہ دنیا کے ساتھ تعلقات اچھے کیے جائیں تاکہ ان کا کاروبار اور زندگی آسان ہو سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا