طالبان کو تسلیم کرنے کی کسی کو جلدی نہیں: شاہ محمود قریشی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں ’بین الاقوامی رائے اور اقدار‘ کی جانب حساس ہونا ہوگا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کسی کو بھی افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی جلدی نہیں ہے۔

ساتھ ہی ساتھ پاکستان نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کے کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کردیں۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان سے متعلق مذاکرات سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سب سے فوری ترجیح پڑوسی ملک کو مزید گہرے معاشی زوال سے بچانا ہے جو کہ انسانی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

قریشی نے رپورٹرز کو بتایا: ’ایک طرف آپ بحران سے بچنے کے لیے تازہ فنڈ اکٹھا کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ پیسہ جو ان کا ہے، وہ اسے استعمال نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ اثاثے منجمد کرنے سے صورت حال میں کوئی مدد نہیں ہورہی ہے۔ میں عالمی طاقتوں سے پُر زور اصرار کرتا ہوں کہ  وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور اثاثے غیر منجمد کریں۔‘

شاہ محمود قریشی کے مطابق: ’یہ ایک اعتماد سازی کا پیمانہ بھی ہوگا اور یہ مثبت رویے کی حوصلہ افزائی بھی کرسکتا ہے۔‘

امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے 9.5 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں اور بین الاقوامی قرض دہندگان بھی افغانستان سے دور ہیں، جنہیں خدشہ ہے کہ ان کی جانب سے فراہم کی گئی رقم طالبان کے استعمال میں نہ آجائے۔

طالبان کے ساتھ رابطے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی موقف کی تائید کی کہ رسمی تعلقات قائم کرنا قبل از وقت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قریشی نے کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ اس مرحلے پر کسی کو انہیں تسلیم کرنے کی جلدی ہے اور طالبان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں زیادہ حساس اور بین الاقوامی رائے اور اقدار کو زیادہ قبول کرنا ہوگا۔

قریشی نے امید ظاہر کی کہ طالبان ایک انکلوسیو حکومت بنائیں گے، جس میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے گا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ انہوں نے طالبان کی طرف سے ’مثبت‘ ردعمل دیکھا ہے، جس میں عام معافی کا اعلان اور گروپ کے غالب پشتونوں کے علاوہ دیگر نسلی گروہوں کو بھی حکومت میں شامل کرنے کی خواہش شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایسے رجحانات ہیں جن کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔‘

دوسری جانب سماجی کارکنوں اور قریب سے صورت حال دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق طالبان کے وعدوں سے مختلف ہیں اور خواتین اور لڑکیوں کو پہلے ہی روزگار اور تعلیم سے دور کیا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا