دنیا کو افغانستان کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنا ہوگا: شاہ محمود قریشی

عمان ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برداری مل کر افغانستان کی مدد کرے تا کہ اسے معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی (اے ایف پی فائل)

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کو جغرافیائی سیاست سے بالاتر ہو کر افغانستان کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

اخبار عمان ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برداری مل کر افغانستان کی مدد کرے تا کہ اسے معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے مسائل کا شکار رہنے کے بعد اب افغانستان دوراہے پر کھڑا ہے جہاں بالآخر لڑائی اور عدم استحکام کا خاتمہ ہو جائے گا یا وہ ایک ناکام ریاست بن جائے گا جس کی وجہ سے افغان شہریوں ایسے مسائل میں مبتلا ہو جائیں گے جو بیان نہیں کیے جا سکتے جبکہ پورا خطہ متاثر ہو گا۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات سے خود اس کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ان کے بقول: ’ہمیں 80 ہزار انسانی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ہمیں ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور ہم اب بھی تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں جو پاکستان جیسے چھوٹے ملک کی آبادی میں اضافے کے مترادف ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کے مطابق افغانستان میں پاکستانی سفارت خانہ اور قونصل خانے کھلے ہیں جبکہ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے تمام خطرات کے باوجود سفارتی مشنز، عالمی تنظیموں، بین الاقوامی سرکاری تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کو افغانستان سے نکالا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے جو کچھ ہو سکا وہ افغانستان کے لیے کرے گا۔ جو صورت حال سامنے آ رہی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے حقیقت پر مبنی مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ افغان بحران، اس میں آنے والی شدت اور اس کے برقرار رہنے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے ہم نے ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ کے مذاکرات کے ذریعے خاتمے میں مدد دی۔


جنوری میں طالبان نائن الیون کے بعد مضبوط ترین پوزیشن میں تھے: بلنکن

 

ناراض امریکی قانون سازوں کی جانب سے افغانستان کی حالیہ صورت حال کا الزام وائٹ ہاؤس پر لگائے جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اصرار کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان میں بدترین حالات کے لیے تیاری کر رکھی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹھنڈے مزاج کے حامل امریکی وزیر خارجہ کو اپنے کیریئر کی مشکل ترین سماعت کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے افغانستان میں امریکہ کی 20 سالہ جنگ کے خاتمے پر کانگریس کے سامنے پیر کو پہلی بریفنگ دی۔

اس موقع پر جہاں حریف ری پبلکنز نے نعرے بلند کیے، مقتول فوجیوں کی تصاویر لہرائیں اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، بلنکن نے بار بار کہا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کا وقت مقرر کیا تھا۔

بلنکن نے ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا: ’ہمیں ایک ڈیڈ لائن وراثت میں ملی تھی، ہمیں کوئی منصوبہ وراثت میں نہیں ملا تھا۔‘

اینٹنی بلنکن نے کہا کہ ٹرمپ کے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ معاہدے اور امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد، نائن الیون کے بعد سے طالبان مضبوط ترین فوجی پوزیشن میں تھے۔

انہوں نے کہا: ’جنوری 2021 تک، طالبان نائن الیون کے بعد سب سے مضبوط فوجی پوزیشن میں تھے اور ہمارے پاس 2001 کے بعد زمین پر سب سے کم تعداد میں فوجی موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی صدر بائیڈن کو فوری طور پر اس بات کا انتخاب کرنا پڑا کہ وہ جنگ کا خاتمہ کریں یا اسے مزید بڑھاوا دیں۔ اگر وہ اپنے پیشرو کے وعدے پر عمل نہ کرتے تو ہماری افواج اور ہمارے اتحادیوں پر حملے دوبارہ شروع ہو جاتے اور افغانستان کے بڑے شہروں پر طالبان کے ملک گیر حملے شروع ہو جاتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ امریکیوں کی حفاظت کے معاملے پر ’شدت سے مرکوز‘ ہے اور اس بات کا ’مسلسل جائزہ‘ لے رہی ہے کہ مغربی حمایت یافتہ حکومت کتنی دیر تک زندہ رہ سکتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’یہاں تک کہ انتہائی مایوس کن اندازوں میں بھی یہ پیش گوئی نہیں کی گئی تھی کہ امریکی افواج کی موجودگی میں کابل میں حکومتی افواج گر جائیں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’بہرحال، ہم نے منصوبہ بندی کی اور وسیع پیمانے پر ہنگامی حالات کی صورت میں منصوبہ بندی کا استعمال کیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمارے سفارت کاروں، ہماری فوج اور ہمارے انٹیلی جنس پیشہ وروں کا انخلا بذات خود ایک غیر معمولی کوشش تھی، خصوصاً انتہائی مشکل حالات میں۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا: ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ زیادہ دیر رہنے سے افغان سکیورٹی فورسز یا افغان حکومت مزید لچکدار یا خود کفیل ہوتی۔ اگر 20 سال اور سینکڑوں اربوں ڈالر کی امداد، سازوسامان اور تربیت کافی نہیں رہی تو ایک اور سال، پانچ یا 10 سال کیوں؟‘

بریفنگ میں پاکستان کے کردار پر بھی بات ہوئی۔ وزیر خارجہ سے سوال کیا گیا کہ طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو کیسے پرکھے گا، تو انہوں نے کہا: ’آگے بڑھنے کے دوران ہم تمام ممالک بشمول پاکستان سے یہ چاہیں گے کہ وہ ان توقعات پر پورا اترے جو عالمی برادری کی ہیں۔ تو پاکستان کو اپنے آپ کو عالمی برادری کے ساتھ کھڑا کرنا ہوگا تاکہ وہ ان معاملات پر کام کر سکے اور توقعات پر پورا اتر سکے۔‘


افغانوں کو ’شاید سب سے خطرناک گھڑی ‘ کا سامنا ہے: اقوام متحدہ

عطیہ دہندگان نے افغانستان کی مدد کے لیے 1.1 ارب ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا ہے، جہاں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے غربت اور بھوک بڑھ رہی ہے اور غیر ملکی امداد ختم ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ افغانستان کی انتہائی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 60.6 کروڑ ڈالر کے عطیات کی درخواست کی گئی ہے اور یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اس اپیل کے جواب میں کتنی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں کی جنگ اور مصائب کے بعد افغانوں کو ’شاید سب سے خطرناک گھڑی ‘ کا سامنا ہے۔

’افغانستان کے لوگ پورے ملک کے ایک ساتھ خاتمے کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس مہینے کے آخر تک خوراک ختم ہو سکتی ہے اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا کہ 1.4 کروڑ افراد بھوک کے دہانے پر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا