بے ڈھنگا پن چھوڑیں اور زندگی میں تھوڑی ترتیب لائیں

ہمیں اپنا یہ بے ڈھنگا پن کبھی عجیب نہیں لگا تھا۔ ہمارے ارد گرد موجود لوگ بھی ہمارے جیسے ہی تھے۔ مجال ہے کوئی گھر سے مکمل تیاری کر کے نکلتا ہو۔

ہم نے سرحد پار کی تو ہمیں اپنا بے ڈھنگا پن چھوڑنا پڑا (پکسابے)

ہم کافی بے ڈھنگے واقع ہوئے ہیں۔ ہمیں نہیں یاد پڑتا کہ ہم نے کبھی پاکستان میں گھر سے نکلنے سے پہلے موبائل ایپ پر اس دن کا موسم کا حال دیکھا ہو۔ بس تیار ہوئے اور نکل لیے۔ دھوپ ہوئی تو دوپٹہ ماتھے پر کھینچ لیا۔ بارش ہوئی تو واپسی کر لی۔ 

ہمیں اپنا یہ بے ڈھنگا پن کبھی عجیب نہیں لگا تھا۔ ہمارے ارد گرد موجود لوگ بھی ہمارے جیسے ہی تھے۔ مجال ہے کوئی گھر سے مکمل تیاری کر کے نکلتا ہو۔ بارش ہو گئی تو جہاں موجود ہیں وہیں رک گئے۔ گھر تھے اور کہیں جانا تھا تو بارش رکنے تک پلان کینسل۔ دفتر تھے تو وہیں رک گئے۔ سڑک پر تھے تو کسی قریبی سائے کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ جو گھر سے مدد حاصل کر سکتے تھے وہ فون کر دیتے تھے کہ آ جاؤ اور لے جاؤ۔

کچھ سالوں سے نجی ٹیکسی کمپنیوں کی آمد سے زندگی قدرے آسان ہوئی ہے لیکن ان کا بھی عجب حال ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے انہوں نے براہِ راست آسمان سے ڈیلنگ کی ہوئی ہو۔ تم پانی زمین پر بھیجو، ہم اپنے ریٹ آسمان پر بھیجیں گے۔ 

ایک دفعہ ہماری ایک ساتھی اپنے گھر سے دفتر تک کی ٹیکسی بُک کروا بیٹھیں۔ ہلکا سا پیک فیکٹر تھا۔ انہوں نے سوچا سو دو سو روپے مزید بنیں گے۔ دے دوں گی۔ رستے میں بارش برسنا شروع ہوئی اور ایسی برسی کہ لاہور کا حال بے حال ہو گیا۔

دفتر سے چند کلومیٹر دور ان کی ٹیکسی ٹریفک میں پھنس گئی۔ آدھ گھنٹے بعد دفتر پہنچیں تو کرایہ جو عام روٹین میں تین سو روپے سے اوپر نہیں جاتا تھا بارہ سو روپے ہو چکا تھا۔ دل پر پتھر رکھتے ہوئے ادائیگی کی اور اس دن کے بعد سے آئندہ ٹیکسی پر سفر کرنے سے توبہ کر لی۔ 

اب وہ پوری قوم کی طرح بارش ہونے پر چھٹی منایا کرتی ہیں۔ 

ہم نے سرحد پار کی تو ہمیں اپنا بے ڈھنگا پن چھوڑنا پڑا۔ یہاں بارش ہونے پر چھٹی نہیں منائی جاتی بس چھتری کھول کر سر پر رکھ لی جاتی ہے۔ ہماری مجبوری کہہ لیں ہمیں بھی یہ روش اپنانی پڑی۔ 

اب ہم کوئی بھی منصوبہ بنانے سے پہلے یہاں کے لوگوں کی طرح موسم کا حال ضرور چیک کرتے ہیں۔ ہمارے بیگ میں ہر وقت ایک عدد چھتری موجود رہتی ہے۔ بارش کی صورت میں ہم اسے کھول کر سر پر تان لیتے ہیں پھر فخریہ ارد گرد موجود چینیوں کو دیکھتے ہیں کہ دیکھو ہم بھی تمہاری طرح آرگنائزڈ ہیں۔

اسی طرح، ہم گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے بیگ میں ہر وہ چیز رکھتے ہیں جس کی ہمیں گھر کے باہر ضرورت پڑ سکتی ہو۔ ٹشو، ہینڈ واش، لوشن، سینیاٹائزر، پانی کی بوتل، بٹوہ، چھتری، شناختی دستاویزات، چھوٹی سی نوٹ بُک، پین اور وغیرہ وغیرہ۔ جہاں جس چیز کی ضرورت پڑی بیگ سے نکال کر استعمال کر لی۔

ان عادتوں نے ہمیں ذمہ دار بنا دیا ہے۔ اس سے ہماری زندگی تھوڑی سی آسان بھی ہو گئی ہے۔ کہیں رونا آ جائے تو بیگ سے ٹشو پیپر نکال کر آنسو بھی پونچھ لیتے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرمایہ دارانہ نظام نے عورتوں کے کاندھوں پر بیگوں کا اضافہ کر دیا ہے۔ وہ اپنی ضرورت کی اشیا اس میں رکھ لیتی ہیں۔ مرد ابھی اس بوجھ سے آزاد ہیں۔ یہاں مرد بھی عورتوں کی طرح بڑا سا بیک پیک اٹھائے پھرتے ہیں جس میں ان کے استعمال کی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ ہم نے ایک دفعہ اپنے پروفیسر کو اس بیگ سے کپ برامد کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔

ہمارے لیے تو دونوں باتیں حیرت انگیز تھیں۔ ایک تو پروفیسر کا اپنا بیگ خود اٹھانا پھر اس میں لیپ ٹاپ اور دستاویزات کے علاوہ چائے کا سامان بھی رکھنا۔ 

پاکستان میں چونکہ چائے کا کپ ابھی اتنا مہنگا نہیں ہوا ہے تو لوگ اپنے ساتھ چائے کا سامان رکھنے کی بجائے کسی کھوکھے پر رکنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے شائد کسی پروفیسر کے بیگ سے کپ کا نکلنا پھر اس کا چائے بنانا حیرت انگیز ہو سکتا ہے۔ 

ان کے لیے وعدوں کا پاس رکھنا اور وقت کی پابندی کرنا بھی حیرت انگیز ہو سکتا ہے۔ کسی سے ملاقات طے کر لی، پھر خود ہی عین وقت پر کینسل کر دی۔ یہ ہمارا عام چلن ہے۔ ملاقات کا وقت دو بجے طے تھا۔ دو بجے تو پتہ لگا ابھی گھر ہی موجود ہیں۔ تھوڑی دیر میں نکلیں گے۔ ہم نے کبھی اپنے پروفیسروں کو بھی وقت کی پابندی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

ہماری شادیاں دیکھ لیں۔ حکومت کی شادی ہالوں پر پابندی سے پہلے فنکشن کب شروع ہوگا اور کب ختم ہوگا کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ کارڈ پر آٹھ بجے کا وقت لکھوانے والے خود نو بجے ہال میں پہنچتے تھے۔ اب کم از کم پنجاب کی حد تک لوگ جانتے ہیں کہ ساڑھے آٹھ کے قریب بارات آئے گی۔ نو سے سوا نو کے دوران کھانا کھلے گا اور دس بجے تک رخصتی ہو جائے گی۔

یہاں تو حکومت نے زندگی آسان کر دی۔ بقیہ جگہ ہم خود کر سکتے ہیں۔ ہر بات کو یاد رکھنے کی ذمہ داری دماغ پر ڈالنے کی بجائے اپنے ہاتھ میں پکڑے سمارٹ فون پر منتقل کریں۔ پھر دیکھیں زندگی کیسے تبدیل ہوتی ہے۔ 

ہر میٹنگ کو کیلنڈر میں درج کریں تا کہ مقررہ دن پر وہ یادہانی کروا سکے۔ ہر روز کے کرنے والے کام نوٹ پیڈ نامی ایپ میں لکھیں، اس کے علاوہ بھی ایپ گیلری میں درجنوں ایپس موجود ہیں جو روزمرہ کی آرگنائزیشن کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ 

اس روٹین کو اپنانے میں کچھ دقت ضرور آتی ہے لیکن ایک بار عادت پختہ ہو جائے تو زندگی کی بہت سی مشکلات میں سے کچھ کم ہو ہی جاتی ہیں۔ ورنہ ٹشو پیپر تو ہیں ہی۔ جہاں رونا آئے بیگ سے نکالیں اور اپنے آنسو پونچھ لیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ