جموں بند ہڑتال، وجہ کیا ہے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ اہلیان جموں بھی جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی جدوجہد کے لیے آگے آئیں۔

گرمیوں میں جموں شہر میں دہلی، راجھستان و یوپی وغیرہ کی طرح بے تحاشہ گرمی پڑتی ہے۔ سری نگر گرمیوں میں جبکہ جموں سردیوں میں کام کاج کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں(اے ایف پی فائل)

جموں و کشمیر کی موسم سرما کی راجدھانی میں آج مکمل ہڑتال ہے۔

اس ہڑتال کی کال جموں کامرس اینڈ انڈسٹری نے دے رکھی ہے جس کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے جن میں بھارتی جنتا پارٹی شامل نہیں ہے۔

جموں کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ جیو ریلائنس جموں شہر میں 100 کے قریب ری ٹیل سٹور کھولنے جا رہی ہے- اگر واقعی میں ایسے سٹورز کھل جاتے ہیں تو جموں کے درمیانے اور چھوٹے درجے کے تاجر کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔

جیو ریلائنس مکیش امبانی کی کمپنی ہے اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی امبانی نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

 گذشتہ سال تین زرعی قوانین بننے کے بعد بھارت میں کسان لگا تار سراپا احتجاج ہیں۔

 کسانوں کو ان قوانین سے چھوٹے کسان کو ختم کر کے ’کارپوریٹ سیکٹر‘ کو نوازنے کی بو آ رہی ہے- یہی وجہ کہ پنجاب کے اندر ناراض کسانوں نے جیو ریلائنس کے سینکڑوں ٹاورز بھی توڑ دیے تھے۔ 

جموں کے لوگ بھی اب امبانی اڈانی کے ڈسنے کے خدشے کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔

پانچ اگست 2019 کو جب جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی تب سے ہی جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں کے لوگ اہلیان جموں پر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس خاتمے کا سب سے پہلا نشانہ جموں شہر بنے گا۔

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت میں یہی سب تھا کہ بیرون ریاست کا کوئی بھی بڑا تاجر یہاں آ کے زمین وغیرہ نہ خرید سکے, یہاں کی نوکریاں مقامی لوگوں کےلیے محفوظ رہیں وغیرہ۔

پانچ اگست 2019 کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر جموں ہے۔

 جموں، ادھمپور و کٹھوعہ میں جگہ جگہ ٹول پلازے بنا کر لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

جموں شہر میں ٹول پلازوں کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی بہت تنقید دیکھنے کو ملی تھی۔ پھر 150 دربار موو کی پرانی روایت ختم کر کے اہلیان جموں پر ایک اور بجلی گرائی گئی۔

انتظامی امور کو احسن انداز سے سر انجام دینے کےلیے دربار موو کی پالیسی مہاراجہ گلاب سنگھ نے 1872 میں شروع کی تھی۔

 آزادی کے بعد ریاست کی مختلف حکومتوں نے اسے قائم رکھا۔ سری نگر و گردو نواح میں سردیوں کے موسم میں برفباری کی وجہ سے بہت زیادہ ٹھنڈی پڑتی ہے- زیادہ برفباری سے کئی بار کاروبار زندگی مفلوج ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح گرمیوں میں جموں شہر میں دہلی، راجھستان و یوپی وغیرہ کی طرح بے تحاشہ گرمی پڑتی ہے۔ سری نگر گرمیوں میں جبکہ جموں سردیوں میں کام کاج کےلیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔

انتظامی امور کہیں موسموں کی بھینٹ نہ چڑھیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے سردیوں کے چھ مہینے سکریٹریٹ جموں شہر منتقل ہو جاتا تھا اور گرمیوں کے چھ مہینے سری نگر شہر۔

دربار موو نہ صرف دونوں شہروں کے درمیان میل ملاپ کا ذریعہ تھا بلکہ یہ دونوں شہروں کے معیشت کےلیے بھی بہت مفید تھا۔

 رواں سال کے مئی میں جموں و کشمیر کی گورنر انتظامیہ نے اس پریکٹس کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے خلاف بھی لوگوں نے آواز اٹھائی تھی - پی ڈی پی کی صدر نے اس فیصلے کو غیر سنجیدہ قرار دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب وقت آگیا ہے کہ حکومت کی جموں مخالف پالیسیوں کے خلاف استقامت کیساتھ کھڑا ہوا جائے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی کےلیے سیاسی و قانونی جنگ لڑنا دیش سے غداری نہیں بلکہ بالکل عین حب الوطنی ہے۔

 بدقسمتی سے ملک بھر اور جموں و کشمیر کے بھی کچھ نوجوانوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ 370 دیش دروہی پر مبنی چیز ہے لہٰذا اس کے حق میں بات نہیں کرنی۔

یہاں نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب بھی کوئی 370 یا 35 اے کی بات کرتا ہے اس کا مطلب وہ آئین ہند کی بات کرتا ہے۔

 بھارتی آئین میں علاقائی نوکریوں، زمینوں و کلچر ثقافت کو محفوظ بنانے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ بھارت کی دیگر کئی ریاستوں کو ایسے آئینی تحفظ حاصل ہیں اور 370 میں بھی یہی بات تھی۔

 70 سال تک اہلیان جموں کو کیوں کوئی ایسا احتجاج نہیں کرنا پڑنا؟ اس کا آسان جواب جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ہے جس نے لوگوں کو کارپوریٹس سے بچائے رکھا۔

 آرٹیکل 370 یا اس جیسی کوئی اور آئینی حیثیت جموں و کشمیر کی بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر نوجوان آج بھی اپنے حقوق کےلیے متحد ہو جائیں تو یہ کام دشوار ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔

ورنہ ہر روز ایسے احتجاج کرنے پڑیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ