کیا واقعی ماہا اور اسد بہن بھائی ہیں؟

ہم ٹی وی کے ڈرامے ’جدا ہوئے کچھ اس طرح‘ میں رضاعی بھائی بہن کی شادی، یہ کس کی سازش ہے؟

(سکرین گریب)

ہم ٹی وی پر جاری ڈراما سیریل’جدا ہوئے کچھ اس طرح‘ کے ایک منظر کا ان دنوں پاکستان میں بہت زیادہ چرچا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ’دودھ شریک بھائی بہن‘ (جنہیں اس بات کا علم بالکل نہیں ہوتا) ان کی شادی ہوجاتی ہے۔

ایسے میں اس لڑکی کی تائی ایک ملازمہ کی گواہی کی مدد سے یہ کہلواتی ہے کہ یہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں، ان کی شادی کس طرح ہوسکتی ہے۔

اس پیچیدہ اورانتہائی مشکل صورت ِحال پر ڈرامے کی کہانی شدید تناؤ کا شکار ہوجاتی ہے ۔

ایسے میں عوام کی جانب سے کافی سخت ردعمل ظاہر کیا گیا اور کچھ حلقوں کی جانب سے اسے مذہبی اور معاشرتی اقدار کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔

اس ضمن میں انڈپینڈنٹ اردو نے اس ڈرامے کے مصنف، کے رحمان سے رابطہ کیا اور ان سے اس تنازعے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی کہ آخر ’ہنگامہ ہے کیوں برپا۔‘

کے رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ تمام لوگ جو اس ڈرامے پر نکتہ چینی کررہے ہیں خاص کر وہ جو شور مچا رہے ہیں، انہوں نے یہ ڈراما دیکھا ہی نہیں ہے وہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک کلپ کو دیکھ کر رائے زنی کررہے ہیں۔

’یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ڈراما ڈگر سے ہٹ کر ہے، اس میں ساس بہو یا نند بھابھی کے لڑائی جھگڑے نہیں ہیں، اس میں کسی عورت پر ظلم کے پہاڑ نہیں توڑے جارہے، یہاں تک کہ جب رشتہ آیا تو باپ نے بیٹی سے پوچھا اور اس کے انکار پر منع کردیا اور اس کی شادی اس کی مرضی ہی سے کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈراما کہ حقیقی واقعات سے متاثر ہوکر لکھا گیا ہے، جس میں رضاعی بھائی بہن کی شادی کے بارے میں سوال اٹھایا گیا ہے، اگر لوگوں نے مکمل ڈراما دیکھا ہو تو معلوم ہوجائے گا کہ لڑکی کی تائی امی نے ملازمہ کے ذریعے ایک سازش تیار کی ہے۔

اس ڈرامے کی کہانی کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ’یہ کہانی دس سال سے میرے پاس تھی، اور میں تو اس میں رضاعی بھائی بہن ہی دکھانا چاہتا تھا تاہم ’ہم ٹی وی‘ نے یہ کہانی کچھ تبدیل کردی۔‘

انہوں نے اعتراض کرنے والوں سے کہا کہ اگر کہانی کہ کرداروں یعنی ماہا اور اسد کو معلوم ہوتا کہ وہ رضاعی بھائی بہن ہیں اور پھر بھی وہ شادی کرتے تو کسی قسم کے اعتراض کا جواز بھی تھا، مگر جب انہیں معلوم ہی نہیں تھا تو اس پر ہنگامہ نہیں ہونا چاہیے۔ ’مزید یہ کہ جیسے ہی ایک خاتون نے یہ کہا، ان دونوں کو الگ کردیا گیا، اگرچہ اس وقت ماہا حاملہ تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار بھی کرتے تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کے رحمان کے مطابق وہ خود بھی حافظ قرآن ہیں، اور انہوں نے حتی الامکان اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ ’ کسی کردار، جیسے اسد نے یہ نہیں کہا کہ وہ رضاعت کہ رشتے کو نہیں مانتا، صرف اس گواہی پر شبہے کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر یہ سچ ثابت ہوگیا تو میں رشتہ ختم کردوں گا۔‘

کے رحمان نے بتایا کہ اب یہ ڈراما اپنے اختتامی مراحل میں ہے جہاں اس ڈرامے کے مرکزی کرداروں یعنی ماہا اور اسد کے ہونے والے بچے کے مستقبل بارے میں سوال اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس ڈرامے میں ایک حقیقی مسئلے کا اجاگر کیا گیا ہے، اور عوام سے گزارش کی ہے کہ ’اس میں کوئی بےحیائی جیسے سالی بہنوئی یا پھر دیور بھابھی کا معاشقہ نہیں دکھایا گیا، اس لیے ضروری ہے کہ پہلے ڈراما دیکھ لیں پھر جو چاہیں اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔‘

دوسری جانب اس ڈرامے کے ہدایت کار وحب جعفری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں اتنے شدید رد عمل کی توقع نہیں تھی، اس ڈرامے کو بلاوجہ متنازعہ بنایا جارہا ہے کیونکہ یہ تو ایک تعلیمی انداز میں بنایا گیا تھا تاکہ لوگوں کو اس مسئلہ سے آگاہی حاصل ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے موضوعات پر ڈرامے بننے چاہیں کیونکہ اس طرح لوگوں کو شرعی مسائل سے آگاہی حاصل ہوگی کیونکہ انہوں نے خود کئی علما سے اس ڈرامے کی کہانی کے بارے میں مشورے کیے تھے۔

یاد رہے کہ آج سے 20 سال قبل اداکار شان اور نور کی فلم ’مجھے چاند چاہیے‘ میں بھی اس سے ملتی جلتی کہانی تھی جہاں شان شاہد اور نور بخاری ایک دورے سے پیار کرتے ہیں مگر شان کی والدہ عتیقہ اوڈھو نے کہہ دیا تھا کہ نور شان شاہد کے والد جاوید شیخ کی دوسری اہلیہ سے اولاد ہے اس طرح یہ دونوں سوتیلے بھائی بہن ہیں۔ تاہم بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ نور جاوید شیخ کی لے پالک اولاد ہیں۔

اب معاملہ یہ ہے کہ سینیما میں تو ڈھائی گھنٹے میں کہانی واضح ہوجاتی ہے، جبکہ ٹی وی ڈرامے میں عقدہ کئی روز بعد کھلتا ہے، اس بارے میں ہدایت کار وحب جعفری کا کہنا ہے کہ اس معاملہ یہ ہوتا ہے کہ ڈراما لکھا کیسے گیا ہے اور اسے بنایا کیسے گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جتنے لوگ یہ ڈراما دیکھ رہے ہیں، انہیں یہ صاف معلوم ہورہا ہے کہ تائی نے یہ سازش کی ہے، اس طرح سے پردہ تو اٹھا ہی ہوا ہے، لیکن ڈرامے کی ضروریات کی حساب سے کچھ نہ کچھ سسپنس رکھنا پڑتا ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے سے عوام کے شعور میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے وہ بطور ہدایت کار اپنے کام سے مطمئین ہیں، تاہم وہ ناقدین سے کہیں گے کہ پہلے تحقیق کرلیا کریں پھر رائے دیا کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی