سٹیٹس کے لیے کچھ بھی کرے گا

بڑے بڑے برانڈز کے کپڑے، قیمتی موبائل، گھڑیاں، مہنگے ریسٹورنٹس، گیجٹس، مشکل اور انگریزی ناموں والے سکول۔۔۔۔۔ واقعی ہماری ضرورت ہیں یا یہ سب سٹیٹس کے لیے ہیں؟

بڑے بڑے برانڈز کے کپڑے، قیمتی موبائل، گھڑیاں، مہنگے ریسٹورنٹس، گیجٹس، مشکل اور انگریزی ناموں والے سکول۔۔۔۔۔ واقعی ہماری ضرورت ہیں یا یہ سب سٹیٹس کے لیے ہیں؟

اگر تو یہ ضرورت ہے تو ضرورت تو کیسے بھی پوری کی جا سکتی ہے لیکن اگر یہ سٹیٹس کے لیے ہے تو کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم اپنے ساتھ پورے معاشرے کو ہی اس مقام پر لے جا رہے ہیں جہاں ضرورتیں پوری کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے؟

چلیں مان لیا کہ آپ یہ سب کر سکتے ہیں تو کیا تب بھی کیا اس کو ’شو آف‘ کرنا بھی ضروری ہے؟

جب ہمیں بھی ان سوالوں نے پریشان کیا تو ہم نے ماہر نفسیات ڈاکٹر میری پرویز سے رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر یہ سب کیوں ہے اور لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں۔

اس پر ڈاکٹر میری پرویز کا کہنا تھا: ’انسان کو اب ایسا لگتا ہے کہ وہ بذات خود کافی نہیں ہے، اس کا موجود ہونا کافی نہیں ہے اور اس کو اپنے لیے زیادہ کچھ چاہیے، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ہی اس سب کا حقدار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سٹیٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر میری کا کہنا تھا:  ’سماجی حیثیت کے بارے میں ہمارے معاشرے میں اس لیے زیادہ سوچا جاتا کیونکہ ہم کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ میں کافی نہیں ہوں اور مجھے کوئی مٹیریئل چیز چاہیے اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے۔‘

جب ایسا ہوتا ہے تو انسان کیا کرنے لگتا ہے؟

ڈاکٹر میری پرویز کے مطابق ایسے میں انسان یہ دیکھتا ہے کہ ’معاشرے میں آپ کا رتبہ، مقام، حیثیت اور معیار کیا ہے اس کا فیصلہ ہم اس طرح سے کرتے ہیں کہ کس نے کیسے کپڑے پہنے ہیں، کون سے برانڈ کے پہنے ہیں، کس جگہ پر گھر ہے اور کون سی گاڑی ہے۔‘

آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو سوشل سٹیٹس کے گرد گھومتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا