ماسٹرز، ناٹ فرینڈز ۔۔! 

اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی جہت جذباتیت سے تبدیل کر کے فراست پر بنیاد نہ کی تو امریکہ میں حالیہ اہم ترین ملاقاتوں کے بعد خاکم بدہن پاکستان کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہی ہو گا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی ہم منصب اینٹنی بلنکن کے درمیان 23 ستمبر کو ہونے والی ملاقات (اے ایف پی)

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی امریکی صدر جو بائیڈن سے پہلی سرکاری ملاقات کیا پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

کیا حالیہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کے خلاف کسی نئی عالمی سازش کا آغاز ہے؟ کیا مودی بائیڈن ملاقات کے بعد پاکستان کو افغانستان اوردہشت گردی کے موضوعات پر مزید اور نئے دباؤ میں لایا جائے گا؟

کیا اِس ملاقات کے بعد پاکستان میں چین کے مفادات خاص کر سی پیک جیسے عالمگیر منصوبے کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے؟ کیا ’مو جو‘ کا ٹائٹل پانے والی اس ملاقات کے بعد اور خاص کر کواڈ (امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے اتحاد) کے اجلاس کے بعد جنوبی ایشیا میں پاکستان چین دوستی کو سنگین خدشات لاحق ہونے والے ہیں؟

چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی طاقت کو کنٹرول کرنے کے لیے اور خاص طور پر جنوب اور وسطی ایشیا کے علاقے میں چین کا اثرورسوخ کم کرنے کے لیے پاکستان کو کس طرح سے دباؤ میں لایا جا سکتا ہے؟

خصوصاً افغان طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے پاکستان کی طرف سے افغانستان میں فعال کردار اور چین کی بڑھتی ہوئے دلچسپی کے مخالف امریکہ بھارت گٹھ جوڑ اِس خطے میں اب کیا نئی چال چلنے والاہے؟

بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کو ساتھ ملا کر امریکہ چین سے نمٹنے کے لیے علاقے میں کون سے ایسے اقدام لے سکتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں؟

یہ سب وہ اہم اور سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب جانچنے کے لیے پاکستان کو کل ہوئی مودی بائیڈن ملاقات اور پھر کواڈ اجلاس کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا۔

لیکن سب سے پہلے تو پاکستانی عوام اِس اَمَرکو بھی مَدِّنظر رکھیں کہ امریکی صدر سے ملاقات سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی امریکی نائب صدر کملہ ہیرس سے ہونے والی ملاقات میں بھارت کی طرف سے جھوٹے پرچار پر مبنی فیک پروپیگینڈا کیا گیا کہ اس ملاقات میں امریکی نائب صدر نے پاکستان کے دہشت گردوں کی معاونت کے کردار پر تنقید کی ہے اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے جو بھارت اور امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکے۔

اَوّل تو ایسی کوئی بات بھی مودی کملہ ملاقات میں ہرگز نہیں ہوئی اور اگر بالفرض ہوئی بھی ہوتی تو مشترکہ پریس کانفرنس اعلامیے میں سامنے ضرور آ جاتی۔

دوئم، اُسی روز پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی ہم منصب اینٹنی بلنکن سے ملاقات ہوئی جس میں بلنکن نے افغانستان کے حوالے سے اور دہشتگردی کے مخالف پاکستان کے کردار کو سراہا۔

لیکن پاکستان مخالف بھارت کا پروپگینڈا قابلِ غور اس لیے ہے کہ روایتاً امریکی صدر سے سربراہانِ مملکت یا حکومت کی ملاقات سے قبل امریکی نائب صدر سے ملاقات ہوتی ہے جس میں ممالک کے مابین تعلقات کا ایجنڈا اور امریکی صدر سے ملاقات میں گفتگو کا پیٹرن تشکیل پاتا ہے۔

اِسی لیے بھارت نے پاکستان مخالف جھوٹے پروپیگینڈے کا پرچار کیا تاکہ امریکی صدر پر دباؤ ڈالا جا سکے اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ لیکن آگے بڑھنے سے قبل واشنگٹن سے واپس اسلام آباد کی طرف آئیے اور ایک جائزہ لیتے ہیں کہ گذشتہ تین سال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی جہت کیا رہی ہے اور کیا اس سے پاکستان کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ اٹھانا پڑا ہے۔

پہلی گزارش تو یہ کہ ملکی الیکشن میں جو وعدے وعید بیانات مکالمات کیے جاتے ہیں ان کا بڑا ٹارگٹ ملکی عوام ہوتے ہیں تاکہ ووٹ حاصل کیے جا سکیں اور اس کےلیے مہم عوام کے جذبات کو مدنظر رکھ کر ہی چلائی جاتی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے الیکشن جیتنے کے لیے جو ’نہ جھکنے والا، نہ بِکنے والا ‘ کا منترا استعمال کیا اُس نے بڑی حد تک عوام کو تو دلدادہ کیا لیکن جب حکومت تشکیل پاتی ہے تو خارجہ پالیسی کی گھمبیر الف ب سے بڑے بڑوں کی عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔

بین الاقوامی تعلقات ایسا نازک اور سنجیدہ موضوع ہیں جہاں فہم و فراست، دور اندیشی، احتیاط کے ساتھ کئی جگہ ایسے ایسے کمپرومائز کرنا پڑتے ہیں جس میں سلطان راہی سٹائل کی بڑھک نہیں بلکہ سنجیدگی اور متانت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔

لیکن موجودہ حکومت کے ساتھ خارجہ پالیسی محاذ پر بڑا مسئلہ یہ رہا کہ شروع کے ڈیڑھ سال تک سلطان راہی بڑھک سٹائل کی انتخابی مہم کے موڈ سے باہر ہی نہیں آ سکی۔

امریکہ کو آنکھیں دکھا دیں، امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیے، امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں، امریکہ کو دوٹوک جواب دے دیا، امریکہ کو ’ایبسولیوٹلی ناٹ‘ کہہ دیا، امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔۔۔ یہ سب بیانیہ ڈومیسٹک آدڈیئنس کا دل تو خوب لُبھا سکتا ہے لیکن تالیاں سیٹیاں واہ واہ کے نعرے اسی تھیٹر کے اندر ہی اندر محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور جب آپ باہر کی دنیا میں نکل کر آتے ہیں تو سنّاٹے کی خاموشی میں خود کو تنہا پاتے ہیں۔

خارجہ پالیسی کسی کے آگے جھکنے کا نہیں مگر بوقتِ ضرورت لچک کا مظاہرہ کرنے کا نام ضرور ہے اور عالمی دنیا میں ریاستیں اِسی طرح ڈپلومیسی میں کامیاب رہتی ہیں جب وہ اِس گُر کو خوب سمجھ چکی ہوں کہ مفادات کے تحت لچک کہاں اور کب دکھانی ہے۔

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ گذشتہ تین سال سے پاکستان کی ہمہ جہت خارجہ پالیسی یک جہت رخ اختیار کر گئی جس کا بنیادی مرکز چین رہا۔

یہ عالمی حقیقت ہے کہ فی الوقت معاشی اعتبار سے دنیا یُونی پولر نہیں بلکہ بائی پولر ہے جس میں دو طاقتیں امریکہ اور چین اپنے اپنے پلڑے میں بھاری ہیں۔

ایسے میں کسی ایک پلڑے کی طرف اپنا مکمل جھکاؤ رکھنا پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے لیے ایک دوراندیش حکمتِ عملی قطعاً نہ تھی مگر افسوس کے ساتھ کہ موجودہ حکومت نے اپنے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ سے متعلق خارجہ پالیسی جذباتیت کے زیرِتسلط اختیار رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان امریکہ فاصلے بڑھتے گئے۔

دوسری جانب، ایک طرف تو ’ایبسولیوٹلی ناٹ‘ کو بڑھک کے انداز میں ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور ساتھ ہی امریکی صدر کی ایک فون کال کے لیے بےتابی، بےچینی اور فرسٹریشن کا حکومتی سطح پر اظہار کرنا، پاکستان امریکہ تعلقات کے لیے کسی سنجیدہ پیشرفت کا قطعاً مظہر نہیں بنے جس کا خمیازہ آج بھگتنا پڑرہا ہے۔

ریاستیں اپنے عالمی تعلقات اور خارجہ پالیسی جذباتیات کے تحت نہیں بلکہ مفادات کے تحت تشکیل دیتی ہیں۔ مگر ستم در ستم تو یہ ہوا کہ ’ہم جن کے ہوئے وہ ہمارے نہ ہوئے‘ ۔۔۔ اپنا یار چین بھی تین سالہ یک جہتی خارجہ پالیسی کے باوجود آج پاکستان سے خفا خفا ہے۔

’نہ خدا ہی مِلا نہ وصالِ صنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے‘ ۔۔۔ نہ امریکی سے یاریبن پائی، نہ چین سے دوستی نِبھا پا رہی ہے۔

امریکہ بھارت، جاپان، آسٹریلیا کے ساتھ مل کر چین کے عالمی معاشی و دفاعی مفادات کو ضرب لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور چین کے لیے پاکستان میں کثیر جہتی کثیر رقمی منصوبہ سی پیک گذشتہ تین سال سے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کواڈ کے اجلاس سے قبل سی پیک سے متعلق جے سی سی  کا اجلاس فوراً بلایا گیا جو کہ طویل عرصے سے غیر فعال تھا، تاکہ سی پیک پر کام کی رفتار کو بڑھایا جا سکے۔

پاکستان میں کام کرنے والی چینی ٹیموں کے لیے سیکورٹی کا مسئلہ بھی چین کے لیے بڑی پریشانی کا باعث ہے اور یہی وجہ ہے کہ دو ماہ بعد بھی داسو ڈیم پر ابھی تک کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔

ہمسایہ ممالک میں سے صرف چین ہی نہیں، ایران سے بھی دبے دبے الفاظ میں پاکستان کے لیے کچھ خیر کی خبریں نہیں۔ ادھر سعودی عرب جیسا دیرینہ برادر دوست بھی اہم وجوہات کی بِنا پر ہم سے کچھ خاص راضی نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان کی طرف سے سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان پر مسلسل حملے بھی جاری ہیں۔

نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں پاکستان میں کرکٹ نہیں کھیلتیں، پاکستان کو سنگین معاشی اور عالمی تشخص کا نقصان پہنچاتی ہیں اور حکومت اِسے بھی بِنا نتائج کی پرواہ کیے جلدبازی اور جذباتیت میں ’ایبسولیوٹلی ناٹ ‘ کی قیمت کہتے ہوئے بلاواسطہ امریکہ اور مغرب پر سازش کا الزام دھر دیتی ہے۔

ایسی گھمبیر صورت حال میں ظاہر ہے پاکستان اگر عالمی تنہائی کا شکار ہوتا ہے یا پاکستان کے بیانیے کو عالمی شنوائی یا پذیرائی حاصل نہیں ہوتی تو سب سے پہلے خود احتسابی کا تقاضہ ہی فہم و فراست کا تقاضا ہے۔

اب بھی اگر پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی جہت جذباتیت سے تبدیل کر کے متانت، سنجیدگی اور فراست پر بنیاد نہ کی تو خدانخواستہ امریکہ میں ہونے والی حالیہ اہم ترین ملاقاتوں اور اجلاسوں کے بعد خاکم بدہن پاکستان کے لیے مشکلات میں مزید سے مزید اضافہ ہی ہو گا اور سیکورٹی کے مسائل بھی مزید بری صورت حال اختیار کر سکتے ہیں۔

امید کرتے ہیں کہ اربابِ حکومت و ریاست ضرور اس نئی گیم کی چالوں کے پیشِ نظر اپنی حکمتِ عملی میں بھی تبدیلی لائیں گے اور عالمی برادری خاص کر امریکہ سے ماسٹرز والا نہیں بلکہ فرینڈز والا رویہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔


نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ