’کہیں ایسے ڈوزیئر جاری نہیں ہوتے جیسے پاکستان بھارت کرتے ہیں‘

پاکستان نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقعے پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنا ڈوزیئر کئی ممالک کے حوالے کیا ہے، تاہم ایسے ڈوزیئرز کی حیثیت اور اہمیت کتنی ہے؟

پاکستان اور بھارت اکثر مختلف مسائل پر ڈوزیئرکا تبادلہ  کرتے رہتے ہیں  (فائل فوٹو: اے ایف پی )

پاکستان نے حال ہی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور بھارتی فوج کے کشمیری عوام پر ظلم سے متعلق ایک ڈوزیئر (Dossier) جاری کیا ہے۔ 

یہ ڈوزیئر امریکہ کے شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر کئی ممالک کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے حوالے کیا گیا۔ 

ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف مسائل پر ڈوزیئرز کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، جن میں کشمیر، ریاستی زیادتیاں، دہشت گردی و شدت پسندی اور شدت پسند تنظیموں کی مبینہ ریاستی حمایت جیسے مسائل سر فہرست رہے۔ 

اسلام آباد بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف ریاستی زیادتیوں اور بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں دہشت گردی کے واقعات سے متعلق جبکہ نئی دہلی بھارت میں شدت پسندوں کے حملوں اور شدت پسندی سے جڑے دوسرے مسائل پر ڈوزیئر جاری کرتے رہے ہیں۔ 

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے سربراہ امجد یوسف کہتے ہیں کہ ’دنیا کے کوئی دوسرے دو ملک اپنے مسائل سے متعلق یوں ڈوزیئرز جاری نہیں کرتے، ایسا صرف پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ہی دیکھنے میں آیا ہے۔‘ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کچھ عرصہ قبل آزربائیجان اور آرمینیا کے درمیان اٹھنے والے ناگورنو کاراباخ کے تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان دو ممالک نے ایسے کوئی ڈوزیئرز ایک دوسرے کو بھیجے، نہ ہی کسی دوسرے دارالحکومت یا عالمی ادارے کو ارسال کیے۔ 

امجد یوسف نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعے پر ڈوزیئر جاری کرنے کا مقصد دنیا کو مسئلہ جموں و کشمیر یاد دلانا قرار دیا۔ 

’یہ ڈوزیئر اسلام آباد کی ایک کوشش تھی کہ جموں و کشمیر کا معاملہ اور اس سے متعلق بھارتی ہٹ دھرمی اقوام عالم کے سامنے زندہ رہیں۔‘ 

ڈوزیئر ہوتا کیا ہے؟ 

ڈوزیئر ایسی فائل یا رجسٹر کو کہا جاتا ہے جس میں کسی شخص، واقعے یا موضوع سے متعلق معلوماتی دستاویزات موجود ہوتی ہیں، جو کاغذ پر لکھے ہوئے مواد کے علاوہ تصاویر اور الیکٹرانک یا ڈیجیٹل مواد کی شکل میں بھی ہو سکتی ہیں۔ 

پاکستان اور بھارت کی حکومتیں جو ڈوزیئر تیار کرتی ہیں، ان میں مسئلہ جموں و کشمیر اور ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات سے متعلق اپنے اپنے موقف کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

مثلاً پاکستان نے 2015 میں امریکہ اور اقوام متحدہ کے لیے ایک ڈوزیئر تیار کیا، جس میں صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں نئی دہلی کی جانب سے دہشت گردوں کو سہولت کاری فراہم کرنے سے متعلق ثبوت اور شواہد تھے۔ 

اسی طرح بھارتی حکومت 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر پاکستانیوں کے ملوث ہونے سے متعلق معلومات ڈوزیئر کی شکل میں اسلام آباد کے حوالے کرتی رہی ہے۔ 

پاکستانی اور بھارتی ڈوزیئر 

دونوں جنوبی ایشیائی پڑوسی، جو 1947 میں انگریزوں سے آزادی اور تقسیم کے بعد سے کشیدہ تعلقات رکھتے ہیں، اب تک مختلف موضوعات اور مسائل پر سینکڑوں ڈوزیئرز کا تبادلہ کر چکے ہیں، جبکہ کئی ڈوزیئرز دنیا کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو بھی دے چکے ہیں۔ 

اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجیک سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ ریسرچر محمد علی بیگ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایکسچینج ہونے والے ڈوزیئرز میں عام طور پر موضوعاتی معلومات ہوتی ہیں۔ 

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈوزیئر کسی قسم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے، انہیں محض معلومات کے تبادلے کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ 

پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان نے نومبر 2015 میں پاکستان میں بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر دہشت گردی پھیلانے سے متعلق ڈوزیئر کی تیاری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: ’یقینی طور پر بھارتی ریاست (اور اس کا قومی سلامتی کا مشیر) افغانستان اور پاکستان میں اس کے جاسوسوں (انٹیلی جنس آپریٹس) سے واقف ہیں۔ کیا ریاست پاکستان حقیقت میں ڈوزیئر کے ذریعے پاکستان کے اندر بھارتی مداخلت کو روکنے کی امید رکھ سکتی ہے؟ کسی صورت اس بات کا امکان موجود نہیں۔‘ 

دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنے جاری کردہ ہر ڈوزیئر میں کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف بھارت کی بربریت اور ظلم کی داستان اور ان سے متعلق ثبوت و شہادتیں پیش کرتا ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ ان ڈوزیئرز کا مقصد دنیا کو بتانا ہے کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر میں کیا کر رہا ہے۔’ بیرونی دنیا میں جب لوگ ان ڈوزیئرز کو پڑھتے ہوں گے تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہوں گے۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سوال کے جواب میں کہ کیا دنیا کے کوئی دوسرے دو ملک یوں ڈوزیئر جاری کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ’شاید ایران نے کوئی ایسا ڈوزیئر جاری کیا ہو۔‘

امجد یوسف کا کہنا تھا کہ ’سفارتی دنیا میں یوں اپنے اختلافی مسائل پر ڈوزیئر کے تبادلے کی روایت نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ڈوزیئرز کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ان کا مقصد دنیا کے سامنے اپنے موقف کی یاد دہانی کرانا ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کا کوئی ملک بھی مسئلہ کشمیر کو اس تناظر میں نہیں دیکھتا جس طرح پاکستان یا بھارت اس تنازعے کو لیتے ہیں۔ ’اس لیے اگر آپ نے کسی ملک یا ادارے کو ڈوزیئر دے بھی دیا تو یہ محض خانہ پری ہی کہلائی جا سکتی ہے۔‘ 

پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈوزیئر کا جاری اور تبادلہ کیا جانا اتنا عام ہو چکا ہے کہ ایک ملک کے کسی حکومتی اہلکار کی تقریر یا بیان میں لگائے گئے الزامات پر بھی دوسرا ملک ڈوزیئر بھیج دیتا ہے۔ 

اسی طرح ایک ملک سے ڈوزیئر آنے کی صورت میں عام طور پر اس کا جواب بھی ڈوزیئر کی شکل میں ہی دیا جاتا ہے جبکہ کسی ایک ملک کے ڈوزیئر میں لگائے گئے الزامات کی دوسرا ملک نفی ہی کرتا نظر آتا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان