پشین: جداگانہ رنگت اور مٹھاس سے بھر پور قدرتی انگور

ضلع پشین کے علاقے برشوراور خانوزئی کے درمیانی علاقے  پیچ دار پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہیں۔ انہیں شین کان کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے اور وہاں کی وادیوں میں سیب اور قدرتی انگور کے درخت پائے جاتے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کو پاکستان کی فروٹ باسکٹ یعنی پھلوں کی ٹوکری کہا جاتاہے۔ اس کی زمین اور پہاڑ منفرد خصوصیات کے حامل ہیں جس میں سب سے میٹھے اور رسیلے سیب اور انگور اگتے ہیں۔

صوبے کے ضلع پشین کے علاقے برشوراور خانوزئی کے درمیانی علاقے  پیچ دار پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہیں۔ انہیں شین کان کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے اور وہاں کی وادیوں میں سیب اور قدرتی انگور کے درخت پائے جاتے ہیں۔

یہ انگور چونکہ پہاڑی اور سرد علاقوں میں پائے جاتےہیں اس لیے انہیں قدرتی انگور کہا جاتا  ہے۔

یہ ایک وادی پر مشتمل علاقہ ہے جس کے دونوں اطراف پہاڑ ہیں اور یہاں پانی کی ایک گزرگاہ بھی ہے۔ اس وادی میں سردیوں کے دوران شدید سردی ہوتی ہے اور برفباری اور بارش بھی ہوتی ہے جس کے باعث یہاں کا راستہ ان دنوں کے دوران بند رہتا ہے۔

کلہ خان بھی شین کان کے رہائشی ہیں اور ان کی زمین ایک پہاڑی پر واقع ہے جہاں انگور اور سیب کا باغ ہے۔

یہاں اگنے والا انگور اپنی مٹھاس اور کالے رنگت کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

کلہ خان نے بتایا کہ ’جہاں پہاڑ میں پتھروں کے ساتھ مٹی بھی ہو وہاں یہ انگور بہتر طریقے سے بڑھتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے علاقے میں جب میں چھوٹا بچہ تھا اس وقت سے ان انگوروں کو اسی طرح دیکھتا آرہا ہوں۔‘

کلہ خان کے مطابق: ’یہ انگور بہت میٹھا اور رس دار ہوتا ہے۔ یہ ستمبر کے مہینےمیں پک کر تیار ہوجاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارے علاقےمیں سیب بھی پک جاتا ہے۔ اس وقت ہم سیب کو کاٹ کرپیک کررہے ہیں۔ بعد میں انگور کو اتاریں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں پہاڑ تو بہت ہیں لیکن یہ انگور صرف ان ہی علاقوں میں  پیدا ہوتا ہے جو سرد ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’جتنی محنت ہم سیب پر کرتے ہیں اتنی انگور پر نہیں کرتے اس کو پانی بھی کبھی کبھار مل جائے وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سیب کو پانی کےساتھ زیادہ وقت دینا پڑتا ہے اور کھاد اور سپرے بھی کرنا ہوتا ہے۔‘

کلہ خان کہتےہیں کہ بعض تو ایسے بھی ہیں جو اس دور دراز علاقے کا سفر کرکے صرف انگور خریدنے کے لیے یہاں تک آتے ہیں جس سے اس کی خاصیت اور مشہوری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جس سال بارشیں اور برف باری زیادہ ہوتی ہے تو اس کی پیداوار بھی بڑھ جاتی ہے۔ بارشوں میں کمی سے دوسروں کی طرح اس کی پیداوار میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔

پہاڑوں کے درمیان واقع اس وادی کے دونوں اطراف سیب اور قدرتی انگور کے بیل ہر طرف اپنی بہار دکھاتے نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کلہ خان کہتےہیں کہ قدرتی انگور بھی معدے کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بیل کی عمر بھی سو سال سے بھی زیادہ ہے۔ یہ کبھی ختم نہیں ہوتاہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدرتی انگور اس علاقے کے علاوہ کہیں اور موجود نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ علاقہ اس کی پیداوار کے لیے بہت اچھا ہے۔

شن کان کے اس علاقے میں کوئی سڑک نہیں بنی اور پانی وافر مقدارمیں ہوتا ہے اور اکثر لوگ پانی سولر پمپ کے ذریعے نکالتے ہیں۔

خانوزئی کا علاقہ سیب اور دوسرے پھلوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں کا سیب پورے پاکستان میں سپلائی کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا