امریکی نائب وزیر خارجہ پاکستان میں کن موضوعات پر بات کرسکتی ہیں؟

جو بائیڈن انتظامیہ کے آنے کے بعد کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ پاکستان ہونے کی وجہ سے اسے کافی اہم خیال کیا جا رہا ہے۔ ان سے قبل سی آئی اے کے سربراہ بھی اسلام آباد آچکے ہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سات اور آٹھ اکتوبر کو پاکستان میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گی (اے ایف پی)

امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین افغانستان سمیت واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات پر بات کے لیے جمعرات (آج) کو اسلام آباد پہنچ رہی ہیں۔

سفارتی ذرائع اسے ایک اہم اور جو بائیڈن انتظامیہ کے آنے کے بعد کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ پاکستان ہونے کی وجہ سے کافی اہمیت دے رہے ہیں۔

ان سے قبل سی آئی اے کے سربراہ بھی اسلام آباد آچکے ہیں۔ وینڈی شرمین، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے بعد محکمہ خارجہ کی سب سے سینیئر عہدے دار ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح جو بائیڈن بھی بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک پاکستانی وزیراعظم سے بات نہیں کی۔

تاہم وزیر خارجہ بلنکن نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کرتے ہوئے امریکی شہریوں کے افغانستان سے انخلا میں مدد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

شدت پسند

امریکہ کی نائب وزیر خارجہ نے اپنے دورہ اسلام آباد سے قبل پاکستان سے تمام عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

یکم اکتوبر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وینڈی شرمین کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مضبوط شراکت چاہتے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پاکستان بغیر کسی فرق کے تمام عسکریت پسند اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔‘

امریکہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان ملک کے اندر اور باہر موجود عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں کر رہا ہے۔

پاکستان کو طویل عرصے سے افغانستان میں ڈبل گیم کھیلنے کے امریکی الزامات کا سامنا رہا ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم دونوں ممالک نے دہشت گردی سے سخت نقصان اٹھایا ہے اور ہم تمام علاقائی اور عالمی خطرات کو ختم کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

طالبان حکومت

اسلام آباد کی جانب سے اس دورے کو اہم سمجھے جانے کے سوال پر سینیئر سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ’یہ دورہ افغانستان اور پورے خطے میں پیش رفت دونوں کے تناظر میں بہت نازک وقت میں ہو رہا ہے۔‘

اسلام آباد کی افغانستان میں طالبان حکومت کو بین القوامی سطح پر تسلیم کروانے کی کوششوں کے تناظر میں یہ دورہ اہم ہے۔

پاکستان دنیا کو باور کروانا چاہ رہا ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہاں پیدا ہونے والی صورت حال کہیں دوبارہ دنیا کے لیے کوئی خطرہ نہ بن جائے۔

پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ امریکہ طالبان کے حوالے سے دو طرح کی پالیسی اپنائے گا۔

’ویسے امریکہ افغان اثاثے منجمد کر کے طالبان پر دباؤ برقرار رکھے گا اور دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم نہ کریں۔ تاہم اس کی طالبان کے ساتھ بات چیت بھی جاری رہے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کا مکالمہ کس طرح آگے بڑھتا ہے یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

’میری نظر میں امریکہ یا افغانستان کے پڑوسی ممالک الگ تھلگ نہیں رہنا چاہیں گے لہٰذا امریکہ پاکستان سے رابطے میں رہنا چاہے گا۔‘

فضائی رسائی

امریکہ افغانستان سے نکلنے کے بعد سے اس ملک میں شدت پسند تنظیموں تک فضائی عسکری رسائی کے لیے ہمسایہ ممالک سے بات کر رہا ہے۔ اسے تاہم اس میں اب تک کامیابی نہیں ملی ہے۔ 

اس سہولت کے لیے اطلاعات کے مطابق اب وہ روس جیسے مخالف سے بھی اس پر بات کر رہا ہے۔ پاکستان نے اسے ہمیشہ فضائی پہنچ میں مدد دی ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان کوئی ہوائی اڈہ دینے کے خلاف ہیں۔ 

ایسے میں امریکی اہلکار اس پر بھی بات ضرور کریں گی۔

کیا وینڈی شرمین سی پیک کا معاملہ بھی دورے کے دوران اٹھائیں گی؟ اس راہ داری منصوبے سے متعلق امریکی تحفظات کے بارے میں آصف درانی کا کہنا تھا کہ ’امریکہ متبادل پیش کیے بغیر سی پیک کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ امریکہ کی طرف سے ایک عجیب منطق ہے۔ پاکستان اور چین قابل اعتماد دوست ہیں۔

’صرف امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جو پاک چین دوستی کے لیے نقصان دہ ہو۔‘

امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے ایک میڈیا بیان میں کہا: ’یہ ایک اہم دورہ ہے اور ہم وینڈی شرمین سے ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔ ہم مل کر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعاون کو مضبوط اور وسعت دینے کے طریقے تلاش کریں گے۔‘

اسلام آباد آمد سے قبل اعلی امریکی اہلکار بھارت پہنچی تھیں جہاں انہوں نے بھارتی حکام کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں، سول سوسائٹی کی تقریبات اور انڈیا آئیڈیاز سمٹ میں شرکت کی۔

دہلی میں بھارتی تاجر خواتین سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے ایک ٹویٹ بھی کیا۔

وہ بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی بھی گئیں جہاں انہوں نے کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کے اراکین سے ملاقاتیں کیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ڈپٹی سیکریٹری وینڈی شرمین، سینیئر حکام سے ملاقاتوں کے لیے 7 سے 8 اکتوبر تک اسلام آباد کا سفر کرنے کے بعد اپنا دورہ مکمل کریں گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں سابق افغان حکومت اور مغربی ممالک کو پاکستان کو ’ناقابل شکست‘ افغان جنگ کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرانے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ 

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے 2001 کے بعد سے انہیں بار بار خبردار کیا کہ افغان جنگ ناقابل تسخیر ہے۔ ان کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، افغان کبھی بھی غیرملکی فوجیوں کی طویل موجودگی کو قبول نہیں کریں گے اور پاکستان سمیت کوئی بھی بیرونی شخص اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔‘

یاد رہے کہ سات اکتوبر، 2001 کے ہی دن امریکہ نے افغانستان میں نائن الیون کے بعد اس وقت کی طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے صدر بش کے فیصلے کے تحت بمباری کا آغاز کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ