’ میں نشے کی لت سے اکیلے نہیں نمٹ سکتی‘

ایک 20 سالہ پاکستانی نوجوان کی داستان جو سات سال سے منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان منشیات کی لت میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں ہر سال 40 ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے (پکسا بے)

’میں اپنے والدین سے کہنا چاہتی ہوں کہ مجھے ان کی ضرورت ہے۔ میں اکیلے اس سے نمٹ نہیں سکتی۔‘ یہ کہنا ہے 20 سالہ نرگس (فرضی نام) جو گذشتہ سات سالوں سے منشیات کا استعمال کر رہی ہے۔

ابتدا سگریٹ کے ایک کش سے ہوئی۔ ’میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ایک سگریٹ کا کش ہے اور جب چاہوں چھوڑ دوں گی۔ لیکن ایک سگریٹ کے کش سے سگریٹ کا پیکٹ، سادہ سگریٹ کے پیک کے بعد میں نے بھرے ہوئے سگریٹ پینے شروع کر دیے۔‘

نرگس کی عادتیں، اس کی بات چیت، اس کا اٹھنا بیٹھنا وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا۔ اس کے دوستوں نے کئی بار اس کو روکنے کی کوشش کی اور دباؤ ڈالا کہ منشیات لیتی رہی تو وہ اس سے ملنا چلنا بند کر دیں گے۔

’سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ میرے دوستوں نے مجھ میں تبدیلی دیکھ لی لیکن میرے ماں باپ نے یہ تبدیلی نہیں دیکھی۔ دیکھتے بھی کیسے وہ اپنی زندگی میں اتنے مگن تھے ان کے پاس میرے لیے وقت ہی نہیں تھا۔‘

پھر ایک روز چرس سے وہ کوکین پر آ گئی لیکن کوکین اتنی مہنگی ہے کہ وہ زیادہ نہیں کر سکی۔ چرس کے ساتھ ساتھ نیند آور ادویات لینا شروع کیں۔

’آپ میرا یقین نہیں کریں گے لیکن میں ایک وقت میں آٹھ سے دس گولیاں پھانک جاتی تھی۔ اور پھر وہ ہوا جس نے میرے والدین کی آنکھیں کھول دیں۔ میں نے چھت سے چھلانگ لگا دی۔ میرے دوست جو اسی وقت میرے گھر پہنچے تھے وہ چیختے ہوئے گھر میں داخل ہوئے اور مجھے اٹھایا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہاں سے ملتی ہے؟ اس پر نرگس ہنس کر کہتی ہے کہ یہ 90 کی دہائی نہیں ہے اب تو ایک فون کال کرو اور گھر پر پہنچتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ کسی نجی گاڑی کمپنی یا بائیک کمپنی کو پارسل پکڑاتے ہیں کہ اس جگہ دے آؤ یہ بھی اسی ذریعے سے آپ تک ڈلیور کر دی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں منشیات کا استعمال 22 فیصد بڑھا اور سب سے زیادہ اضافہ 2017 کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان میں نوجوان نسل میں بھی منشیات کے اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ہیش، ڈرٹی ہیش، ایکسٹسی، کرسٹل، کوکین آئس اور تازہ ترین اضافہ آکسیجن کا ہے۔

پاکستان میں انسداد منشیات فورس کے مطابق ہیروئن مقبول ترین نشہ ہے اور 77 فیصد منشیات کے عادی افراد اس کی لت میں مبتلا ہیں۔ منشیات کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کا آغاز چرس سے ہوتا جو سستی بھی ہے اور باآسانی دستیاب بھی ہے۔

گذشتہ سال شائع ہونے والی رپورٹ “Causes of drug abuse among university students in Pakistan” کے مطابق 96 فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں منشیات کی ابتدا اپنے دوستوں اور سماجی طور پر مقبول اور لڑکے اور لڑکیوں کے گروپ میں داخل ہونے کے لیے کرتے ہیں۔ 90 فیصد نوجوان پڑھائی کے شدید دباؤ اور 88 فیصد تجسس کے باعث کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76 لاکھ ہے جن میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اس میں 78 فیصد مردوں کی ہے جبکہ 22 فیصد لڑکیاں ہیں۔ منشیات کی لت میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں ہر سال 40 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے جو کہ بہت ہی تشویشناک اعداد و شمار ہیں۔

پاکستان میں ڈپریشن، ذہنی صحت، ناکامی، سیکس جیسے موضوعات کی طرح منشیات کا استعمال بھی اس زمرے میں آتا ہے جس پر بات نہیں کی جاتی۔

گھر والے یہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ ان میں سے ایک پڑھائی میں اچھا نہیں ہے تو کچھ اور سوچا جائے، کوئی خاندان اس بات سے بالکل انکاری ہے کہ اس کی اولاد یا بھائی یا بہن کو ذہنی امراض کے ماہر کے پاس جانے کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں۔

اسی طرح منشیات کے عادی افراد کی لت چھڑوانے کے لیے ان کا علاج کروانے اور ان کی مدد کرنے کے بجائے آنکھیں بند کرنے اور بات نہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ اپنے بچے یا بچی کا اس لت میں مبتلا ہونے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جائے، دوستوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

کیوں؟ اپنی ذمہ واری کو کندھے سے اتارنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ میرے بچے میں کوئی عیب نہیں، میں نے پرورش بالکل ٹھیک کی ہے، میں نے اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھائی ہے یہ تو اس کو ایسے دوست مل گئے جنہوں نے میرے بچے کو خراب کیا ہے۔

یہ اکیسویں صدی ہے جناب۔ ہر چیز کی طرح پیرنٹنگ (parenting) کو بھی ساتھ چلنا ہو گا۔ ساتھ چلنے کا مطلب ہے کہ ان تمام موضوعات پر بات کی جائے جس کو اب تک پاکستان میں ممنوع موضوع کہا جاتا رہا۔

اپنے بچوں کو کم عمری ہی میں سیکس، منشیات، ناکام، ذہنی صحت کے حوالے سے بات چیت کریں، کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا سامنا آپ کے بچوں کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں اور نوکری میں کرنا ہو گا۔ ان سے بات کریں گے تو وہ ان سب کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں گے ورنہ آنکھیں بند کر کے بیٹھنے سے بلی چلی نہیں جاتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ