گوانتاناموبے کے پاکستان سے گرفتار قیدی کو ’محدود گواہی‘ کی اجازت

سی آئی اے تشدد کیس میں امریکی سپریم کورٹ کےتین ججوں کی طرف سےکیے گئے سوالات کے جواب میں قائم مقام سالیسیٹر جنرل برائن فلیچر نے ایک خط لکھ کر بتایا کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے کے شبے میں 2002 میں گرفتار ہونےوالےابوزبیدہ زیرالتوا مقدمےمیں بیان دے سکتےہیں۔

   9 مارچ 2016  کی اس تصویر میں  کیوبا میں واقع بدنام زمانہ  جیل  گوانتانامو بے نیول بیس میں کیمپ ایکس رے کا ایک منظر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کیوبا میں واقع گوانتاناموبے جیل میں قید القاعدہ کے مشتبہ رہنما ابوزبیدہ خود پر ہونے والے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تشدد کے بارے میں ’محدود گواہی‘ دے سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں سپریم کورٹ کے ججوں نے سوال کیا تھا کہ امریکی حکومت ابوزبیدہ کو گواہی دینے اجازت کیوں نہیں دے گی؟

50 سالہ سعودی نژاد فلسطینی شہری ابو زبیدہ، جن کا اصل نام زین العابدین محمد حسین ہے، پر کبھی بھی کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ انہیں پہلی بار 2002 میں پاکستان سے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا اور 2006 میں کیوبا کی بدنام زمانہ گوانتانامو بے جیل میں ڈالنے سے پہلے پوچھ گچھ کے لیے انہیں سی آئی اے کی کئی خفیہ جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ 

وہ پہلے امریکی قیدی تھے، جنہیں نائن الیون کے حملوں کا سب سے بڑا منصوبہ ساز قرار دے کر واٹر بورڈنگ، جسم پر گولی مارنے اور دیگر سخت تکنیکوں کے ذریعے اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہیں کئی بار واٹربورڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں متاثرہ شخص اپنے آپ کو ڈوبتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس عمل کو بڑے پیمانے پر تشدد سمجھا جاتا ہے۔

ابو زبیدہ چاہتے ہیں کہ امریکی عدالت 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کے لیے ایجنسی کی وحشیانہ ’وار آن ٹیرر‘ مہم چلانے والے ان دو سی آئی اے ماہرین نفسیات کو ان کے مقدمے میں گواہی دینے پر مجبور کرے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے نے 2002 سے 2003 کے دوران انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ 

لیکن دوسری جانب سی آئی اے اور امریکی محکمہ انصاف قومی سلامتی سے متعلقہ معلومات کو افشا ہونے سے روکنے کے لیے ’ریاستی رازوں کے استحقاق‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے خلاف بحث کر رہے ہیں۔

ابو زبیدہ کو مبینہ طور پر تھائی لینڈ، پولینڈ اور دیگر جگہوں پر سی آئی اے کے زیر انتظام خفیہ مقامات پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم گوانتانامو بھیجنے کے بعد سی آئی اے نے تسلیم کیا کہ وہ کبھی بھی القاعدہ کے رکن نہیں رہے اور نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی سے ان کا کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے باوجود ابو زبیدہ کو گوانتاناموبے میں بغیر کسی الزام کے قید رکھا گیا۔ ان کی رہائی کو بار بار صرف اس لیے روکا گیا کیوں کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ القاعدہ کے حامی ہیں، جنہیں اپنے کیے پر کوئی ندامت نہیں۔

اس ماہ کے شروع میں زبانی دلائل کے دوران سپریم کورٹ کے تین ججوں کی طرف سے کیے گئے سوالات کے جواب میں قائم مقام سالیسٹر جنرل برائن فلیچر نے جمعے کو عدالت کو خط لکھ کر ججوں کو بتایا کہ زبیدہ زیر التوا مقدمے میں بیان دے سکتے ہیں۔

روئٹرز نے اتوار کو فلیچر کا خط دیکھا ہے جس میں درج ہے: ’حکومت ابوزبیدہ کو ان کی درخواست پر بیان بھجوانے کی اجازت دے دے گی، جسے بعد میں پولینڈ میں ہونے والی تحقیقات کے لیے بھیج دیا جائے گا۔‘

تاہم امریکی سالیسٹر جنرل نے مزید کہا ہے کہ اگر بیان میں شامل کوئی بھی معلومات ’امریکہ کے سکیورٹی مفادات کے خلاف‘ ہوئیں تو اس کی کانٹ چھانٹ کی جائے گی۔ دوسری جانب مانا جاتا ہے کہ پولینڈ میں ’خفیہ حراستی مرکز‘ قائم ہے جہاں سی آئی اے نے ابوزبیدہ سے پوچھ گچھ کے لیے سخت طریقوں سے کام لیا۔

ابوزبیدہ 15 سال گوانتانامو بے میں گزار چکے ہیں۔ وہ ان زیر حراست متعدد افراد میں سے ایک ہیں، جنہیں اب بھی گوانتانامو بے میں رکھا گیا ہے۔ حکومتی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے اور انہیں سی آئی اے کی حراست کے دوران صرف ایک ماہ میں 83 مرتبہ واٹربورڈنگ کے عمل سے گزارا گیا۔

اس سے پہلے امریکی محکمہ انصاف کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ابوزبیدہ، اسامہ بن لادن کے ساتھی اور طویل عرصے تک ان کے دہشت گرد اتحادی رہ چکے ہیں۔ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فورسز نے 2011 میں پاکستان میں ہلاک کر دیا تھا۔

فلیچر نے اپنے خط میں کہا ہے کہ زبیدہ کی گواہی سے وہ تنازع حل نہیں ہوگا جو اس وقت ججوں کے پاس زیر سماعت ہے۔ یہ معاملہ’ریاستی رازوں‘، استحقاق اورحکومت کو حاصل اس قانونی نکتے کے دائرے سے متعلق ہے جس کے تحت حکومت ان معلومات کی حفاظت کرے گی جن کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا