بھارت کے خلاف خراب ماضی کو بھلا کر کھیلیں گے: بابر اعظم

دوسری جانب بھارتی کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں ایک بہت ہی مضبوط پاکستانی ٹیم کا مقابلہ کریں گے۔

بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ اتوار کو جذبات سے بھرپور میچ ہوگا (اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اتوار کو بھارت کے خلاف ہائی ولٹیج میچ سے پہلے روایتی حریف کے خلاف عالمی ایونٹ کے خراب ریکارڈ کے بارے نہ سوچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کا بھارت سے 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں سات بار اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پانچ بار سامنا ہوا ہے اور گرین شرٹس ایک بار بھی روایتی حریف سے جیت نہیں پائے۔

تاہم اس مرتبہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بابر اعظم نے زور دیا کہ کھلاڑیوں کے لیے ماضی کی کوئی اہمیت نہیں۔

بابر نے ہفتے کو ایک ورچوئل میڈیا کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا: ’سچ پوچھیں تو جو کچھ ماضی میں ہوا ہم اس سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہم میچ کے دن اپنی صلاحیت اور اعتماد کو بروئے کار لا کر بہتر نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے ہوتے ہیں۔‘

کووڈ 19 کی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ٹی ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میچوں کے لیے 70 فیصد تماشائیوں کو گراؤنڈ میں میچ دیکھنے کی اجازت دی تھی اور پاک بھارت میچ کے ٹکٹ چند گھنٹوں میں فروخت ہو گئے تھے۔

جنوبی ایشیا کے دونوں ایٹمی حریف 2007 سے سیاسی کشیدگی کے باعث دوطرفہ کرکٹ نہیں کھیل رہے لیکن عالمی ایونٹس میں ان کا کبھی کبھار سامنا ہو جاتا ہے جو پوری دنیا کے لیے دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔

پاکستان نے 2012 میں پانچ محدود اوورز کے میچوں کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا لیکن کشمیر اور دہشت گردی جیسے تنازعات کے باعث دونوں ممالک میں کرکٹ تعلقات مکمل طور پر دوبارہ شروع نہیں ہو سکے۔

بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ اتوار کو جذبات سے بھرپور میچ ہوگا۔

’پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہمیشہ سنسنی سے بھرپور ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں کھیل کے تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔‘

ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے ’سپر 12‘ کا آغاز آج (ہفتے سے) آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ابوظہبی میں میچ سے ہو گیا ہے جبکہ دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کا مقابلہ شام کو دبئی میں انگلینڈ سے ہو گا۔

گروپ ون میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کی ٹیمیں کوالیفائنگ مرحلے سے گزر کر شامل ہوئی ہیں۔

سابق چیمپیئن بھارت اور پاکستان کو گروپ ٹو میں نیوزی لینڈ اور افغانستان کے ساتھ کوالیفائنگ مرحلے سے گزرنے والی سکاٹ لینڈ اور نمیبیا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ کے لیے 12 کھلاڑیوں کا اعلان کیا ہے جس میں حیدر علی اور آصف علی نے بھی جگہ بنائی ہے۔

بابر اعظم نے کہا: ’لڑکے ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں اور اتوار کو ہمارا ایک اہم میچ ہے۔ اس جیت کا اثر ضروری ہے اور پھر ہم میچ بہ میچ آگے بڑھیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ٹیم کے ساتھ اپنے کرکٹ کے تجربات شیئر کیے ہیں۔

’وزیر اعظم نے روانگی سے پہلے ہم سے ملاقات کی اور 1992 کی جیت کے اپنے تجربات شیئر کیے اور ہمیں ہدایت دی کہ بھارت کے خلاف جارحانہ اور جرات مندانہ کرکٹ کھیلیں۔‘

’پاکستان کی ٹیم بہت مضبوط’

دوسری جانب بھارتی کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں ایک بہت ہی مضبوط پاکستانی ٹیم کا مقابلہ کریں گے۔

ہفتے کو میڈیا بریفنگ میں کوہلی نے روایتی حریف کے خلاف بھارت کے ناقابل شکست ریکارڈ کو بھی اپنی برتری کی وجہ قرار نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم نے اپنے ریکارڈ اور ماضی کی کارکردگی کے بارے میں کبھی بات نہیں کی۔ یہ چیزیں خلفشار پیدا کرتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم مخالف ٹیم سے قطع نظر اس مخصوص دن کے لیے کس طرح کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرتے ہیں۔‘

کوہلی نے کہا کہ ان کے ماضی کے ریکارڈ سے قطع نظر پاکستان کے کے پاس ہمیشہ سے باصلاحیت کھلاڑی موجود رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ایک بہت مضبوط ٹیم ہے اور ہمیشہ سے ایک مضبوط حریف رہی ہے۔‘

’آپ کو ان کے خلاف اپنی بہترین کرکٹ کھیلانا ہوگی کیونکہ ان کے پاس بہت اچھا ٹیلنٹ اور بہترین کھلاڑی ہیں جو کھیل کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔‘

کوہلی نے اپنی ٹیم کے آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کی موجودہ کمزور باؤلنگ کے باوجود ٹیم میں شمولیت کا دفاع کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوہلی نے کہا: ’وہ (پانڈیا) دو اوورز کرانے کی اچھی تیاری کر رہے ہیں۔ جب وہ مکمل روانی میں ہو تو وہ جیت کو مخالف ٹیم سے دور لے جا سکتا ہے۔‘

سرجری کے بعد پانڈیا نے متحدہ عرب امارات میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دوسرے مرحلے میں اپنی ٹیم ’ممبئی انڈینز‘ کے لیے بولنگ نہیں کی۔

لیکن کوہلی کا کہنا ہے کہ بطور بلے باز وہ مختصر فارمیٹ میں ٹیم کا اثاثہ ہیں جو چھٹے نمبر پر ٹیم کے لیے اچھا کھیل سکتے ہیں۔

یہ ٹورنامنٹ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے کوہلی کا آخری ایونٹ ہے لیکن میڈیا بریفنگ میں انہوں نے اس معاملے پر مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ اس ورلڈ کپ میں اچھا کھیلنے پر مرکوز ہے۔

یاد رہے اس ہفتے کے شروع میں بھارت نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف اپنے دونوں وارم اپ میچ جیتے ہیں جبکہ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست دی لیکن دوسرے وارم اپ میچ میں یہ جنوبی افریقہ سے ہار گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ